امریکہ کی جانب سے طور خم بارڈر مینجمنٹ کی حمایت

امریکہ کی جانب سے طور خم بارڈر مینجمنٹ کی حمایت

  

دہشت گردی کے خاتمے اور بارڈر مینجمنٹ کو منظم بنانے کے لئے امریکہ نے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں اور موقف کی حمایت کی ہے۔ مہاجرین کی وطن واپسی کے بارے میں بھی امریکہ کی جانب سے پاکستان کے استدلال پر اتفاق اور اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکہ کے نمائندہ برائے پاکستان و افغانستان رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی اُس 35سالہ میزبانی کو فراموش نہ کرے جو اُس نے افغان مہاجرین کے لئے انجام دی۔ رچرڈ اولسن نے ہفتے کی صبح اسلام آباد پہنچ کر خارجہ سیکرٹری اعزاز احمد چودھری سے ایک گھنٹے سے زیادہ ملاقات کی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کی اہمیت اور قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کے کردار کو فراموش نہیں کر سکتی،اِن مہاجرین کی واپسی کے لئے پاکستان کا موقف درست ہے اور ضرورت ہے کہ اب افغان مہاجرین کو اُن کے گھروں میں واپس بھیجا جائے۔ اعزاز احمد چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی پُرامن اور باعزت واپسی کا خواہاں ہے، دونوں مُلک اِس اہم مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان مکین نے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی، جس میں خطے کی سیکیورٹی بالخصوص افغانستان کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر غیر قانونی نقل و حرکت روکنا ضروری ہے، مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔ جان مکین کا کہنا تھا کہ خطے میں بہتر پاک امریکہ کوآرڈی نیشن ہونی چاہئے۔ امریکی وفد نے جی ایچ کیو میں جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

پاکستان میں اِس وقت جو حالات ہیں وہ بڑی حد تک افغانستان پر امریکہ کے حملے کے نتیجے میں پیدا ہوئے، افغان مہاجرین اگرچہ اس سے پہلے پاکستان کے اندر موجود تھے اور پاکستان اُن کی میزبانی احسن طریقے سے کر رہا تھا، لیکن اس وقت تک پاکستان کے اندر ایک بھی خود کش حملہ نہیں ہوا تھا اور نہ ہی دہشت گردی کے واقعات اِس تواتر سے ہو رہے تھے جو بعد میں معمول بن کر رہ گیا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب کچھ افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجے میں پاکستان کے گلے پڑا اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ نے افغانوں کے مُلک پر حملہ کیا تھا جوابی طور پر اُن کے لئے امریکہ پر حملہ کرنا تو ممکن نہیں تھا اِس لئے انہوں نے اس کے حلیف مُلک کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ پاکستان کی تحریک طالبان بھی اِسی ردعمل کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں اُن لوگوں کو ختم کرنے آیا تھا، جنہوں نے نائن الیون کے حملے کئے۔امریکہ نے افغان طالبان کی حکومت تو ایک ماہ کے اندر اندر ختم کر دی اور حامد کرزئی کو اقتدار بھی سونپ دیا، لیکن افغان طالبان کو ختم نہیں کیا جا سکا وہ اب تک افغان معاشرے کی ایک زندہ حقیقت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اُن کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں بھی کرتا رہتا ہے اور اگر وہ عجز و نیاز سے راہ پر نہ آئیں تو اُن کے دامن کو حریفانہ بھی کھینچتا ہے۔ مُلّا اختر منصور کو اِسی غصے میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ امریکی شرائط کے تحت مذاکرات کی میز پر نہیں آ رہے تھے۔ اِس کے بعد تو مذاکرات کا پورا عمل ہی ڈی ریل ہو چکا ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ دوبارہ مذاکرات کب شروع ہوں گے؟

پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں پاک افغان نرم بارڈر کا بھی بڑا کردار ہے، جس سے آمدورفت بغیر کسی روک ٹوک کے جاری تھی اور روزانہ جو30،40ہزار لوگ سرحد عبور کرتے تھے، کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اُن میں کتنے لوگ دہشت گردی کی نیت سے پاکستان آتے تھے۔ البتہ چند برسوں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں افغانستان سے آنے والوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اِن کے سہولت کار انہیں طور خم کے راستے پاکستان لائے اور اُن کے ٹارگٹ تک پہنچایا۔ افغان ٹیلی فون پر اِن دہشت گردوں کو ہدایات دی جاتی تھیں اور اُن کے آپریشن کو مانیٹر کیا جاتا تھا۔ اس تمام کے ثبوت پاکستان نے افغان انتظامیہ کے حوالے کئے، لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا اور پاکستان سے جانے والے دہشت گرد وہاں بیٹھ کر نہ صرف منصوبہ بندی کرتے رہے، بلکہ پاکستان میں آ کر وارداتیں بھی کرتے رہے جس کا حل سوائے اس کے کوئی نظر نہیں آتا کہ طور خم بارڈر پر بھی وہ تمام ضابطے لاگو کر دیئے جائیں جو دُنیا بھر میں ملکوں کے اندر آمدورفت کے لئے مروج ہیں، پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر ایک دوسرے کے مُلک میں آمدو رفت روک دی جائے اور آنے والوں کے متعلق اچھی طرح تسلی کر لی جائے کہ یہ کون لوگ ہیں اور کس مقصد کے لئے پاکستان آنا چاہتے ہیں؟

افغانستان کو یہ بارڈر مینجمنٹ پسند نہیںآئی، چنانچہ اُس نے اِس مقصد کے لئے بنائی جانے والی چوکیوں کو طاقت کے ذریعے روکنے کی کوششیں شروع کر دیں اور ان پوسٹوں پر بلا اشتعال فائرنگ کر کے ایک پاکستانی افسر کو شہید اور 20اہلکاروں کو زخمی کر دیا، چونکہ یہ تمام چیک پوسٹیں پاکستان کی سرزمین کے اندر واقع ہیں اِس لئے افغانستان کا یہ اقدام انتہائی غیر دوستانہ تھا۔ تاہم پاکستان اپنے اِس عزم پر قائم ہے کہ یہ پوسٹیں اور سیکیورٹی گیٹ بنائے جائیں گے اور بارڈر مینجمنٹ کو ہر حالت میں نافذ کیا جائے گا اب امریکی نمائندگان نے بھی پاکستان کے اِس جائز اور قانونی حق کو برسر عام تسلیم کیا ہے اور رچرڈ اولسن اور سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ امریکہ بارڈر مینجمنٹ کا حامی ہے اور افغان مہاجرین کو بھی اپنے وطن واپس جانا چاہئے۔امریکی افواج چونکہ افغانستان کے اندر موجود ہیں اور تمام واقعات کی شاہد بھی ہیں اِس لئے بہتر ہے کہ امریکہ افغانستان کی حکومت کو اشتعال انگیز کارروائیوں سے باز رکھنے کی کوشش کرے، بلکہ افغان حکومت کو یہ بھی باور کرایا جائے کہ طور خم کی سرحد پر بہتر بارڈر مینجمنٹ خود افغانستان کے بھی مفاد میں ہے۔ یہ درست ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر ایسے مقامات بھی ہیں جہاں سے گزر کر لوگ آر پار آ جا سکتے ہیں، لیکن جب باضابطہ بارڈر مینجمنٹ شروع کر دی جائے گی تو اِن غیر روایتی راستوں پر بھی نظر رکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔ امریکی افواج ابھی غیر معینہ مدت تک افغانستان میں موجود ہیں اِس لئے امریکہ کا مفاد بھی اِسی میں ہے کہ بہتر بارڈر مینجمنٹ ہو، اِس طرح نہ صرف پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو سکے گی، بلکہ افغانستان میں بھی لوگ غیر قانونی طور پر داخل نہیں ہو سکیں گے۔

افغان وفد گزشتہ دِنوں پاکستان کا دورہ کر چکا ہے اور اس مسئلے پر اس کی پاکستانی حکام سے جو ملاقاتیں ہوئی تھیں توقع کرنی چاہئے کہ اُن کے نتیجے میں وہ سرحد کی مینجمنٹ کی ضرورت کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہوں گے، لیکن بظاہر لگتا ہے کہ افغانستان نے اس معاملے پر پاکستان کے ساتھ جو سخت موقف اختیار کیا اور گولہ باری تک سے گریز نہیں کیا اس میں کسی نہ کسی طرح بھارت کا ہاتھ بھی تھا، جس کا حاضر سروس نیول افسر جاسوسی کرتے ہوئے بلوچستان میں گرفتار ہو چکا ہے اور جس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ بنیادی طور پر پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ روکنے کے لئے کام کر رہا تھا اور اس مقصد کے لئے اُس نے مقامی لوگوں پر مشتمل دہشت گردی کا نیٹ ورک بنا رکھا تھا، اِسی طرح ایک افغان انٹیلی جنس افسر نے بھی گرفتاری کے بعد تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں تخریب کاری کے لئے افغان خفیہ ادارے اور ’’را‘‘ میں تعاون موجود تھا۔ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت کرتا ہے اسی مقصد کے لئے اُس نے افغان حکام کو طور خم بارڈر کے تنازعے کو ہوا دینے کے لئے استعمال کیا۔ امریکہ اگر پاکستان کے موقف کا حامی ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ طور خم بارڈر کی مینجمنٹ ہونی چاہئے تو اُسے کھل کر افغان حکام کو اس کے ارادوں سے باز رکھنا چاہئے اور یہ امریکہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں، پاکستان کے موقف کی حمایت کے بعد عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

مزید :

اداریہ -