مہنگائی اورمحکمہ شماریات کی جادو گری

مہنگائی اورمحکمہ شماریات کی جادو گری

  

شعبہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ کے مطابق اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح گزشتہ 46سالوں کی نسبت سب سے کم ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دال چنا 50، دال ماش 48، بیسن 41اور چنا 42 فیصد کے حساب سے مہنگے ہوئے جبکہ ٹماٹر، آلو، انڈے، سبزیاں، فروٹ اور گوشت بھی مہنگا ہوا البتہ پٹرولیم مصنوعات سستی ہوئیں۔چیئرمین محکمہ شماریات نے بریفنگ کے دوران اپنا ہی حساب کتاب پیش کیا اور ان کے اعدادوشمار عام لوگوں کی سمجھ سے باہر ہیں ۔ آج تک اس محکمے نے جوبھی اعدادوشمار دیئے وہ ہمیشہ اس کے اپنے ہوتے ہیں اور اب انہوں نے شرح اضافہ کی تشریح کے مطابق یہ دعویٰ کر دیا ہے جو عقل سے ماورا ہے۔ یوں بھی جو شرح دالوں کے نرخوں میں اضافے کی بتائی گئی وہ بھی مارکیٹ یا منڈی کے نرخوں سے میل نہیں کھاتی۔ گزشتہ ایک سال کا انہوں نے جو ذکر کیا تو پہلے بازار سے دال ماش اور دال چنے کے نرخ دریافت کر لیتے کہ دال ماش تین سو روپے فی کلو سے بھی زیادہ نرخوں پر بک رہی ہے بلکہ عام لوگوں نے خریدنا ہی چھوڑ دی ہے ایسا ہی کچھ دوسری دالوں کے ساتھ ہے۔ محترم چیئرمین محکمہ شماریات نے اعدادوشمار کی جو مار دینے کی کوشش کی اس سے بہتر تھا کہ وہ خاموش رہتے کہ قوم شدید مہنگائی کو بھی برداشت کرنے پر مجبور ہے۔ اس وقت پوری قوم اشیائے خوردنی کی مہنگائی پر بلبلا رہی ہے جبکہ یکم جولائی سے ایک فیصد کسٹم ڈیوٹی، بجلی پر سیلز ٹیکس میں 1.5روپے فی یونٹ اضافے سے سینکڑوں اشیاء مزید مہنگی ہو گئی ہیں اور اسی ہفتے میں نتائج سامنے آ جائیں گے۔ جہاں تک پٹرولیم کے سستا ہونے کا تعلق ہے تو عالمی مارکیٹ میں جتنی کمی ہوئی اتنا فائدہ پاکستان کے صارف کو نہیں دیا گیا۔ حکومت نے خود اپنے لئے منافع کمایاہے۔ پاکستانی قوم محنتی اور سیدھی سادی ہے جسے ایسے اعدادوشمار کی جادوگری سے کوئی غرض نہیں ان کو تو دو جمع دوچار کی سمجھ آتی ہے تو کیوں ایسے اعداد و شمار اور دعوے لا کر ان کے صبر کا مزید امتحان لیا جاتا اور ان کے زخموں پر نمک پاشی کی جاتی ہے۔خود وزیرخزانہ نے کہہ دیا تھا کہ دالیں مہنگی ہو گئیں تو لوگ مرغی کیوں نہیں کھاتے؟ ان کے اس بیان کے بعد مرغی کا گوشت بھی مہنگا ہو گیا تھا، بہتر ہوگا کہ اعدادوشمار کے الجھاؤ کی بجائے وہ طریقے اختیار کئے اور عملی اقدامات کئے جائیں جن سے مہنگائی عام بازار میں کم ہو۔

مزید :

اداریہ -