نوٹس لینے والی گڈ گورننس

نوٹس لینے والی گڈ گورننس
 نوٹس لینے والی گڈ گورننس

  

مُلک میں جب تک ’’نوٹس لے لیا‘‘ والی طرزِ حکمرانی موجود ہے، عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل سکتا۔ حیرت ہے کہ اِس ترقی یافتہ دور میں بھی پتھروں کے زمانے کی طرزِ حکمرانی کے تحت مملکتِ خداداد پاکستان کو چلایا جا رہا ہے۔ سینکڑوں ادارے جن پر ہر سال کھربوں روپے کا بجٹ خرچ ہوتا ہے، آخر کس مرض کی دوا ہیں۔ اُن کا ضمیر نوٹس لینے کے بعد ہی کیوں جاگتا ہے اور اُن کے تنِ مردہ میں ڈنڈا دیکھ کر ہی کیوں جان پڑتی ہے۔ یہ بینکنگ سسٹم جو عوام کے پیسے سے ہر سال اربوں روپے کا منافع کماتا ہے کیوں زوال کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے، اسٹیٹ بنک کس مرض کا علاج کرتا ہے، جو عقل کے اندھے یہ کہہ رہے ہیں کہ یکم جولائی کو بنک ہالیڈے کی وجہ سے پنشنرز کا غیر متوقع رش پڑ گیا، جس کی وجہ سے انہیں گھنٹوں دھکے کھانے پڑے، کیا انہیں جوتیاں نہیں پڑنی چاہئیں۔ اگر اسٹیٹ بنک یا نیشنل بنک کی انتظامیہ کو بھی اس کا علم نہیں تھا کہ یکم جولائی کو بنک ہالینڈے ہوتی ہے اور اس کے بعد عید کی وجہ سے پنشنرز کا رش ہو گا تو پھر انہیں بینکنگ کی بجائے گنڈیریاں بیچنی چاہئیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہوئے اسٹیٹ بنک کے گورنر سے بات کی اور شام کے وقت یہ اعلانات کئے گئے کہ پنشنرز کو ادائیگی کی جائے گی چا ہے اتوار کو بھی بنک کیوں نہ کھولنے پڑیں۔ سبحان اللہ سارا دن معاشرے کے بزرگ شہریوں کو سخت ترین گرمی و حبس میں ذلیل و خوار کرنے کے بعد یہ تجاہل عارفانہ والا بیان سامنے آیا۔ اسحاق ڈار، مریم نواز پر الزام لگانے کے ایشو پر عمران خان سے معافی مانگنے کا مطالبہ تو کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے معاشرے کے دس لاکھ بزرگ شہریوں سے اذیت ناک سلوک پر معافی مانگنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔

پاکستان میں بینکنگ کا نظام گھٹیا ترین سطح کو چھو رہا ہے۔ دُنیا بھر میں اکاؤنٹ ہولڈرز کو بنک سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ یہاں چھوٹی چھوٹی دکانوں میں برانچیں قائم کر کے عوام کو بدترین سروس فراہم کی جاتی ہے۔ لوگوں کے پیسے انہیں واپس دیتے ہوئے بھی یہ بنک ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے پلّے سے خیرات دے رہے ہوں۔ مُلک میں اسٹیٹ بنک بھی موجود ہے اور بنک محتسب بھی، مگر مجال ہے اُن دونوں نے کبھی بینکنگ سسٹم کو عوام دوست بنانے پر توجہ دی ہو۔ بنکوں کا سب سے بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ وہ ایمانداری اور سچائی پر کام کرتے ہیں، یہاں یہ دونوں چیزیں ناپید ہیں۔ اے ٹی ایم مشینوں کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے،وہاں صرف نئے نوٹ چلتے ہیں اِس لئے مشینیں اکثر عوام کا مُنہ چڑا رہی ہوتی ہیں، کیونکہ نئے نوٹ تو بنک کا عملہ بلیک میں فروخت کر دیتا ہے، جس دن پنشنروں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کا شور مچا اُن دن بنکوں کی اے ٹی ایم مشینیں خالی ہونے کی خبریں بھی پورے مُلک سے آئیں۔ اسٹیٹ بنک نے ایک بار پھر اُس کا نوٹس لے لیا اور پھر وہی فرمان جاری کر دیا کہ بنک اے ٹی ایم مشینوں میں کرنسی کی وافر مقدار رکھیں۔ یہ لیپا پوتی صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لئے کی جاتی ہے، کیونکہ یہ کمائی کا بہت بڑا ذریعہ ہے، جسے کوئی بھی نہیں کھونا چاہتا۔ دُنیا بھر میں بینکنگ کا اصول ہے کہ اے ٹی ایم کارڈ بنک برانچوں کی تعداد کے مطابق ایک خاص شرح سے جاری کئے جائیں،یہاں اس بات کا قطعی دھیان نہیں رکھا جاتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ بنک کی ایک دن چھٹی آ جائے تو یہ مشینیں بھائیں بھائیں کرنے لگتی ہیں۔ صارفین اپنا ہی پیسہ نہیں نکلوا سکتے اور اشد ضرورت کے وقت انہیں کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا پڑتا ہے۔

آج تک مَیں نے تو نہیں سُنا کہ اے ٹی ایم مشینوں میں کرنسی نوٹس دستیاب نہ ہونے پر اسٹیٹ بنک نے کسی کمرشل بنک کے خلاف کوئی کارروائی کی ہو، اُسے بھاری جرمانہ کیا ہو، بس نوٹس لینے کی بات سامنے آتی ہے اور پھر رات گئی بات گئی کی طرح گم ہو جاتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ہر بنک صارفین کی خدمت کا نعرہ لگاتا ہے لیکن اُس کی برانچ میں جائیں تو ایسے آدم بیزار عملے سے واسطہ پڑتا ہے جو سیدھے مُنہ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ بینک تھوڑی تنخواہ دینے کے لئے ٹرینی نوجوان بھرتی کرتے ہیں اور کلائنٹس کو اُن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ نیشنل بنک والے تو بندے کو بندہ نہیں سمجھتے، کیونکہ اُن کی سرکاری پکی نوکری ہے، یونین کی حمایت حاصل ہوتی ہے اور اُن کی یہ اجارہ داری کہ سرکاری واجبات صرف نیشنل بنک کی برانچوں میں جمع ہوتے ہیں اور نچلے درجے کے پنشنرز کو پنشن بھی وہیں سے ملتی ہے، جس مُلک میں پنشن دینے کا سہل نظام ہی نہ وضع کیا جا سکا ہو، اُس مُلک کی گڈ گورننس کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اول تو پنشن کیس پاس کرانا ایک جان لیوا مرحلہ ہے، پھر ہر ماہ پنشن کا حصول ایک تکلیف دہ امر ہے۔ آخر کیوں یہ ممکن نہیں کہ پنشن صرف ڈاک خانوں یا نیشنل بنک کے ساتھ ساتھ پنشنرز عام بنکوں کی برانچوں سے بھی حاصل کر سکیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ہم پچاس سال پہلے کا نظام رائج کئے ہوئے ہیں، صرف اس لئے کہ اس میں کرپشن کے کئی راستے کھلتے ہیں، مردار خور گدھوں کی طرح پنشنرز سے بھی رشوت لی جاتی ہے۔

بات شروع ہوئی تھی گڈ گورننس سے تو سوال یہ ہے کہ پاکستان میں گڈ گورننس چاہتا کون ہے؟ گڈ گورننس آ جائے تو دکانداری کیسے چلے، بیورو کریسی کی ٹھاٹھ باٹھ کیسے قائم رہے۔ ہزار بار یہ کہا جا چکا ہے کہ یہ نظام فلاحی نہیں، اُس کی بنیاد ریلیف پر نہیں، تکلیف پر رکھی گئی ہے، جو نظام حکمران کے نوٹس لئے بغیر خود سے ہل بھی نہ سکتا ہو، وہ عوام کو ریلیف کیسے دے سکتا ہے، جہاں عوام کو یلیف دینے کے لئے کھلی کچہریوں اور رمضان بازاروں جیسے عارضی انتظامات کئے جاتے ہوں، وہاں گڈ گورننس کا خواب دیکھنا کسی جرم سے کم نہیں، رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے رمضان بازاروں کا بڑا شور شرابہ ہوا۔ اربوں روپے کا پیکیج بھی دیا گیا، لیکن مجھے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو یہ کہتا ہو کہ رمضان بازار کی وجہ سے اُسے معاشی ریلیف ملا۔ البتہ اِن بازاروں کے انتظامات کے نام پر ہر ضلع کی انتظامیہ کروڑوں روپے ضرور ہضم کر لے گی۔ سوال یہ ہے کہ ایک ضلع کی20 سے 30 لاکھ آبادی کے لئے درجن بھر رمضان بازار لگا کر آپ کیا ریلیف دے سکتے ہیں، اس کی بجائے یہ کیوں نہیں کیا جاتا کہ اشیاء کے مختلف نرخ مقرر کر کے عام بازاروں میں اُن کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ صدر ایوب خان اور گورنر امیر محمد خان کے دور کی گڈ گورننس کو پرانے لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ کسی دکاندار کو یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ اشیاء کے نرخ اپنی دکان پر آویزاں نہ کرے اور اُس پر اُن کی فراہمی یقینی نہ بنائے۔ آج کل تو دکاندار سے ریٹ لسٹ کا پوچھ بھی لیا جائے تو وہ گلے پڑ جاتا ہے۔کوئی زیادہ ہی جوش دکھائے تو اردگرد کے دکاندار مل کر اُس کی پھینٹی تک لگا دیتے ہیں، اس سے بُری گورننس اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہماری انتظامیہ نے گراں فروشوں کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ہم اُن کی مصنوعی مہنگائی پر تو کوئی کارروائی نہیں کر سکتے، بس رمضان بازار یا خصوصی بازار لگا کر انہیں دو چار روپے کی رعایت قرار دے سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف ہوں یا وزیراعظم نواز شریف یا پھر آج کل وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وہ جتنے مرضی نوٹس لیتے رہیں، گڈ گورننس کی ایک انچ بنیاد بھی نہیں پڑے گی، جب تک اُس نظام میں جوابدہی کے عنصر کو شامل نہیں کیا جاتا، جس کے تحت سرکار چلائی جا رہی ہے، کسی ہسپتال کے ایم ایس یا ضلع کے ای ڈی او ہیلتھ کو معطل کر کے شہ سرخیاں تو بنائی جا سکتی ہیں، پورے نظام کی اصلاح نہیں کی جا سکتی، جس طرح لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے عدلیہ کے نظام میں خامیوں کو تسلیم کیا ہے اور کام نہ کرنے والوں کو کان سے پکڑ کر باہر نکالنے کی بات کی ہے، نیز یہ بھی کہا ہے کہ کسی جج کے خلاف اُس کی بُری شہرت ہی سب سے بڑا ثبوت ہو گا، اُسی طرح وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی صوبے کے انتظامی افسروں کو گڈ گورننس کا ٹاسک دے کر بُری کارکردگی پر اُن کا احتساب کر سکتے ہیں، بس اس کے لئے انہیں سیاسی دباؤ اور سفارش کو بالائے طاق رکھنا ہو گا۔ مجھے تو یہ بالکل اچھا نہیں لگتا کہ مظلوم، بوڑھے اور نظام کے ستائے ہوئے لوگ حکمرانوں کو جھولی اُٹھا کے بددعائیں دیں، پتہ نہیں حکمران یہ کیسے برداشت کر لیتے ہیں؟

مزید :

کالم -