حکومت کا اختیار اور قادیانی!

حکومت کا اختیار اور قادیانی!
 حکومت کا اختیار اور قادیانی!

  

حکومت کسی کو کیسے مسلم یا کافر قرار دے سکتی ہے؟ اس سوال کے دو پہلو ہو سکتے ہیں شائد یہ کہ کسی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے۔ یا یہ کہ حکومت کسی فرد کے ایمان اور کفر جو اس کا نجی معاملہ ہے اس کا فیصلہ کیسے کرسکتی ہے؟پہلے پہلو کے مطابق ہر ملک کی حکومت خود مختار ہوتی ہے اور وہ اپنی حدود کے اندر جو چاہے فیصلہ کرسکتی ہے۔ اسے یہ اختیار اس کا آئین اور اس کی پارلیمنٹ دیتی ہے۔ کچھ حکومتیں جو مکمل خود مختار نہیں ہوتیں وہ بعض معاملات میں فیصلے نہیں کرسکتیں اس کا تعین بھی پہلے سے اس حکومت اور مملکت کے آئین میں موجود ہوتاہے۔ خود پاکستان کی حکومت کو آئین اس بات کا پابند بنانا ہے کہ وہ اسلام کی حدود وقیود کے اندر رہ کرہی قانون سازی کرسکتی ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں ایسے فیصلے کرسکتی ہے جو اسلام اور اسلامی حدود و قیود اور قوانین سے متصادم نہ ہوں۔اس کا تعین کرنے کے لئے کہ کوئی قانون اسلام سے متصادم ہے یا نہیں اس کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ جیسے ادارے موجود ہیں جو اس بات کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اس لئے یہ بات تو طے شدہ ہے کہ دنیا کی کسی بھی مملکت اور اس کی حکومت کی طرح پاکستان کی مملکت اور حکومت بھی ہر فیصلہ کرنے میں کلّی طور پر آزاد ہے ماسوائے ایسے فیصلوں کے جو اسلام سے متصادم ہوں۔ اب اگر کوئی سمجھتا ہے کہ قادیانیوں کو کافر یا غیر مسلم قرار دینا خلاف اسلام ہے تو اسے کسی ٹی وی پر زور خطابت دکھانے کی بجائے ان اداروں سے رجوع کرنا چاہیے۔ لیکن اگر اسے یہ غلط فہمی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے جو فیصلہ کیا اسے اس کا اختیار نہیں تھا تو ایسے شخص کی عقل ودانش پر سوائے افسوس کے کچھ نہیں کیا جاسکتا ۔

سوال کے دوسرے پہلو کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایمان، کفر وغیرہ فرد کے ذاتی اور نجی معاملات ہیں اس لئے حکومت کو ان میں دخل دینے کا اختیار نہیں ہے۔ دنیا میں دوطرح کے خیالات عام ہیں۔ ایک طرح کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو عوام کی فلاح وبہبود کے لئے ہر معاملے میں دخل دینے کا اختیار حاصل ہے۔سوشلسٹ، کمیونسٹ معاشروں میں حکومت کو عوام کے جملہ امور پر مکمل کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے برعکس جیسے امریکہ کے ری پبلیکنز میں ایک طبقہ جو لبرل کہلاتا ہے ان کا نقطہ نظر یہ ہے، کہ حکومت کو فرد کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔ اس نظرئیے کے تحت وہ لوگوں پر ٹیکس عائد کرنے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مقرر کرنے اور بہت سے دوسرے معاملات کو حکومت کے اختیارات سے باہر سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود دنیا کی ہر حکومت اپنے شہریوں کے نجی معاملات کو طے کرتی ہے، اور فیصلے کرتی ہے۔ اس سلسلے میں قانون سازی بھی کرتی ہے۔ مثلاً ازواج دو افراد کا نہایت ذاتی معاملہ ہے۔ لیکن کسی کے میاں بیوی ہونے کا فیصلہ حکومت کے بنائے گئے قوانین کے تحت ہی طے ہوتا ہے۔ عیسائیت اور ہندومت میں طلاق نہیں ہے لیکن حکومتوں نے یہ قانون بنا رکھے ہیں اور وہ قانون کے تحت کسی عورت مرد میں علیحدگی کا فیصلہ صادر کرتی رہتی ہیں۔ ہم جنسوں کو اپنی شادیوں کے لئے حکومت کے قوانین کی ضرورت اسی لئے پیش آئی کہ یہ نہایت نجی معاملہ حکومتی قانون سے طے ہوتا ہے۔

ایمان اور کفر دل کا معاملہ ہے لیکن اس کے بھی کچھ ظاہری آثار ہیں۔ ایک شخص بت کے سامنے سجدہ ریز ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ مسلمان ہے۔ اس کے قول اور فعل کو مدنظر رکھ کرطے کیا جاتا ہے کہ وہ کیا ہے اور پھر اس سے اسی کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔ مسلمان ہونے کے لئے متفقہ طور پر طے شدہ ہے کہ وہ حضرت محمدﷺ کے بعد کسی نبی رسول کی آمد کا تصورنہ رکھتا ہو۔اب اگر دھوکا دینے کے لئے ایک طرف ایک قادیاتی حضرت محمدﷺ کو آخری نبی بھی مانے اور مرزا غلام احمد کو بھی نبی اور رسول قرار دے تو یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص کسی مندر میں بت کے آگے سجدہ ریز ہو اورمسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرے، اس دعوے کو ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دلوں کے حال اللہ جانتا ہے اگر وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے مان لینا چاہیے کیوں کہ یہ اس کا ذاتی اور نجی معاملہ ہے۔

اسلام درون خانہ معاملات میں دخل نہیں دیتا۔ لیکن یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ اسلام میں حکومت اور مذہب الگ الگ نہیں ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ اسے لوگوں کے افکار،عقائد وغیرہ سے کوئی سروکار نہیں۔ اس لئے ابتدائے اسلام ہی سے نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کے ساتھ مملکت اور حکومت کی سطح پر سختی سے نبٹا گیا۔ جھوٹے مدعیان نبوت کی بھی ایک تاریخ ہے اور اسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی حیات مبارک میں ایک بد بخت نے ایسا اعلان کیا جس کا نام اسود عنسی تھا۔ رسول اللہﷺ نے خود اس کی سر کو بی کے لئے حضرت ابوموسیٰ اشعری کی قیادت میں اسلامی لشکر روانہ فرمایا۔ مسیلمہ کذاب طلیحہ اسدی، حارث دمشقی، مغیرہ بن سعید عجلی، بیان بن سمعان تمیمی، خالد بن عبداللہ قسری، اسحاق اخرس مغربی، استاد سیس خراسانی، ابو عیسیٰ بن اسحاق یعقوب اصفہانی، بابک بن عبداللہ، علی بن فضل یمنی،علی بن محمد عبدالرحیم، ابو سعید حسن بن سیرام، محمد بن علی شمغانی ،عبدالعزیز باسذی، حامیم مجلسی، ابو منصور عسبی برغواتی، اصفر تغلبی، احمد بن قسی، عبدالعزیز طرابلسی کو کافر قرار دے کر ہلاک کیا گیا۔ عہد نبوت، عہد صحابہ اورعہد خلفائے راشدین میں کبھی کسی کو شک وشبہ نہیں رہا کہ یہ لوگ وہی کلمہ پڑھتے ہیں ویسی ہی نمازیں پڑھتے ہیں اورروزے رکھتے ہیں جیسے دوسرے مسلمان اس لئے ان سے تعرض نہ کیا جائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد بھی متعدد لوگ نبوت کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ اہل اسلام نے تو اب تک مع مرزا غلام احمد کسی کو نبی تسلیم نہیں کیا تھا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود قادیانیوں نے ان دوسرے مدعیانِ نبوت کو تسلیم کیا؟

اب آیئے ایک نظر عالم اسلام پر بھی ڈال لیتے ہیں کہ ان کذابوں سے دوسری اسلامی مملکتوں اور حکومتوں نے کیا سلوک کیا۔ افغانستان میں مرزا کی زندگی میں اس وقت کے شہزادہ بعد میں امیر عبداللہ خان کے اتالیق عبدالرحمن کو تحقیق کے لئے قادیان بھیجا گیا۔ یہ حضرت، سید عبداللطیف خوست کے شاگرد تھے۔ انہوں نے کچھ عرصہ مرزا کے ہاں قیام کیا اور مرزا کی بیعت کر کے واپس ہوئے اور قادیانیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ امیر عبدالرحمن نے انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جہاں پر اسرار طور پر گلا گھونٹے جانے سے واصل جہنم ہو گئے۔ دو سال بعد سید عبداللطیف خوست حج پر جانے کے ارادے سے نکلے تو پہلے قادیان گئے وہاں چند ماہ قیام کیا اور قادیانیت اختیار کر لی۔ 1903ء میں واپس آئے۔ امیر عبدالرحمن نے گرفتار کیا، خود اس سے عقائد معلوم کئے پھر سردار نصر اللہ خان اور دس دوسرے علماء نے اس سے مکالمہ کر کے عقائد دریافت کئے جس کے نتیجے میں اسے 14 جولائی 1903ء کو سزائے موت دے دی گئی۔

مرزا غلام احمد قادیانی سے ابتدائی طور پر بعض مسلمان متاثر ہو جاتے تھے کیوں کہ مرزا نے ایک مولوی ایک مناظر کے طور پر اپنا سفر شروع کیا پھر مصلح کہلائے اور رفتہ رفتہ مجدد وغیرہ بننے کے بعد ظلی بروزی نبوت سے ہوتے ہوئے مکمل نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ جھوٹے مدعیان نبوت کی یہ خاص علامت رہی ہے۔ سچے انبیاء علیہم السلام نے روز اول جو دعویٰ کیا وہی برقرار رکھا کیوں کہ یہ من جانب اللہ تھا۔ جھوٹے نبیوں نے انسانی فطرت کا لحاظ رکھتے ہوئے رفتہ رفتہ ترقی کی منازل طے کیں اور ان میں سے اکثر نے پھر نبوت تک ہی بس نہیں کیا الوہیت کے دعوے بھی کر دیئے۔ خود مرزا غلام احمد کا دعویٰ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے حلول کیا ہے۔

اب آیئے دیکھتے ہیں دوسرے ممالک قادیانیوں کے بارے میں کیا فیصلے کر چکے ہیں اور وہاں کسی نے حکومت کو چیلنج کیا کہ حکومت کو اس کا اختیار ہے یا نہیں؟ بنگلہ دیش نے 2004ء میں قادیانی لٹریچر پر مکمل پابندی لگا دی اس سے قبل قادیانیوں کے خلاف متعدد احتجاجات ہوئے تھے۔ بیلا روس (Belarus) میں 2007ء میں قادیانیت کی تبلیغ کی ممانعت کر دی گئی لٹریچر پر پابندی لگا دی گئی اور ان کے اجتماعات کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ بیلجئم جانے کے لئے قادیانیوں کا نکاح نامہ تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ اس لئے بیلجئم نے بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ جب برسلز میں قادیانیوں نے مسجد کے نام سے اپنی عبادت گاہ بنانے کی کوشش کی تو فسادات کا خطرہ پیدا ہو گیا اس لئے اس نام نہاد مسجد کی تعمیر پر پابندی لگا دی گئی۔

بلغاریہ میں مذہبی اقلیتوں کی ایک فہرست ہے جہاں قادیانیوں کو ایک مذہبی اقلیت ماننے سے انکار کر دیا گیا۔ تو قادیانیوں نے خود کو غیر تجارتی تنظیم کے طور پر رجسٹر کرانے کی کوشش کی اسے بھی مسترد کر دیا گیا۔ تاہم ایک طویل قانونی جنگ کے بعد خود کو غیر تجارتی تنظیم کے طور پر رجسٹر کرانے میں کامیابی حاصل کر لی لیکن اب بھی اس پر قانونی جنگ جاری ہے۔ مصر میں 2010ء میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی اور کئی قادیانیوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ مصر کی مسلم اکثریت قادیانیوں کو مسلم تسلیم نہیں کرتی۔ گیمیا میں قادیانیوں کو 1950ء سے ہی مزاحمت کا سامنا تھا۔ جنوری 2015ء میں گیمبیا کے سرکاری ادارے سپریم اسلامک کونسل نے گیمبیا کے ٹی وی اور پرنٹ میڈیا پر اعلان کر کے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ انڈونیشیا میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی اور انہیں غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ 2008ء میں قادیانیوں پر پابندی لگا دی گئی۔ 2010ء اور 2011ء میں قادیانیوں کی تبلیغ اور عبادت گاہوں کو مسجد کہنے پر پابندی لگا دی گئی۔ ملائشیا میں 2009ء میں اسلامک ریلجیئس کونسل کے ایک اعلامیئے کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ ان کے جمعہ کے اجتماعات پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ان احکامات کی خلاف ورزی پر ایک سال قید اور تین ہزار ملائشی رنگٹ جرمانہ کرنے کا قانون بھی نافذ کر دیا گیا۔ اور قادیانیوں کی عبادت گاہوں کے باہر بڑے بڑے حروف میں ایک نوٹس لگا دیا گیا جس کے مطابق Qadiani bukan Agama Islam قادیانیت اسلام نہیں ہے۔ فلسطین میں ابھی تک حکومت مستحکم نہیں ہے انہیں اپنے مسائل در پیش ہیں لیکن 2010ء میں حیفہ اسرائیل میں قادیانی مرکز کے سربراہ محمد شریف عودہ نے ایک اسرائیلی ریڈیو پر شکایت کی تھی کہ فلسطین میں قادیانیوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ گویا اہل فلسطین انہیں مسلمان تسلیم نہیں کرتے سعودی عرب میں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع نہیں لیکن قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے حرمین شریفین میں غیر مسلموں کا داخلہ بشمول قادیانیوں کے داخلہ ممنوع ہے قادیانی حج بھی نہیں کر سکتے۔ ان میں سے کسی ملک میں کسی نے حکومت کے اختیار کو چیلنج نہیں کیا۔

سوویت روس میں تمام مذاہب کی سرگرمیوں پر پابندی تھی۔ چین میں انتہائی نجی اور ذاتی مسئلے یعنی بچوں کی پیدائش پر پابندی تھی یعنی ایک سے زیادہ بچے پیدا نہیں کئے جا سکتے کسی نے چین، روس میں حکومت کے اختیارات پر سوال نہیں اُٹھایا۔ اب جو پاکستان میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان پر حیرت ہے اور اس سے بھی زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ خواہ مفتی عبدالقوی ہو یا حمزہ علی عباسی تمام کا کھرا، تحریک انصاف کی طرف جاتا ہے کیا جماعت اسلامی جو تحریک انصاف کی اتحادی ہے اس پر کوئی روشنی ڈالنے کی زحمت کرے گی؟

مزید :

کالم -