قومی ڈائجسٹ کا ایک انٹرویو اور سول ملٹری تعلقات!

قومی ڈائجسٹ کا ایک انٹرویو اور سول ملٹری تعلقات!
 قومی ڈائجسٹ کا ایک انٹرویو اور سول ملٹری تعلقات!

  

سب سے پہلے تو میں اپنے دو روز پہلے جمعہ کو شائع ہونے والے کالم بعنوان: ’’پاکستان کا سُپر مشّاق ٹریننگ ائر کرافٹ‘‘ میں ایک سہو کے لئے اپنے قارئین سے بالعموم اور اپنے وزیر دفاع سے بالخصوص معذرت خواہ ہوں کہ ان کا نام خواجہ آصف کی جگہ خواجہ صفدر چھپ گیا ہے۔ میں چونکہ اپنے کالم کی پروف ریڈنگ خود اخبار کے دفتر میں بیٹھ کر کرتا ہوں اس لئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اخبار کے پروف ریڈر نے پروف کی اس صریح غلطی کو کیوں درست نہیں کیا اور نہ ہی اخبار کے ایڈیٹر سے شکوہ کروں گا کہ انہوں نے میرے کالم پر کوئی طائرانہ نظر کیوں نہیں ڈالی۔ چودھری قدرت اللہ صاحب اکثر کالموں کو دیکھ لیتے ہیں لیکن میرے کالموں سے بعض اوقات اعراض برتتے ہیں کہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پروف ریڈنگ کالم نگار نے خود کی ہے۔

اب آمدم برسرِ مطلب، صحافت اور بالخصوص اخباری صحافت کی وادی ء پُرخار میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔۔۔اگرچہ مرورِ ایام کے ساتھ صحافتی اقدار کی بلند بامی گہنا گئی ہے لیکن اس کی بھی وجوہات ایسی ثقہ ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کو اگر ایک طبقہ لائقِ پرستش گردانتا ہے تو دوسرا اس کردار کا زبردست مخالف، شاکی اور نقاد ہے۔ البتہ موخرالذکر گروہ کی تعداد گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ یہ تعداد مسلح افواج کی اپنی کارکردگی کے پیمانے سے بھی نشیب و فراز کا سامنا کرتی رہتی ہے۔ آج بھی پرنٹ میڈیا ہو کہ الیکٹرانک میڈیا، اس تخالف و توافق کے مناظر پڑھنے اور دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ہر قاری کا ایک مائنڈسیٹ ہوتا ہے جس کو تبدیل کرنے کے لئے ایک بڑی ارادی کاوش درکار ہوتی ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنے اذہان کو لچکدار رکھتے ہیں اور کسی انجماد کا نشانہ نہیں بننے دیتے۔ لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسی لچک پذیری (Flexibility) کو اپنی کمزوری سمجھتے اور اس سے دور بھاگتے ہیں۔ غالب کی نظر میں وفاداری بشرطِ استواری ایک ایسا ہی مائنڈ سیٹ ہے جس کا انعام شاعر نے اس شعر میں یہ تجویز کیا ہے کہ اگر کوئی برہمن، آخری عمر تک کٹر برہمن رہے اور اپنی آخری سانسیں کسی بت کدے میں گزار دے تو وہ جنتی ہے اور اسے کعبے میں دفن کرنا چاہیے۔۔۔

میرے ایک دوست پروفیسر خالد ہمایوں بھی ہیں۔ اچھے کالم نگار ہیں، رفیقِ کار ہیں اور ماہنامہ قومی ڈائجسٹ کی ادارت ان کے سپرد ہے۔ انہوں نے گزشتہ چند ماہ میں اس میگزین میں کئی مثبت تبدیلیاں کرکے اسے قارئین کے لئے زیادہ جاذبِ توجہ بنا دیا ہے۔ میرے مضامین بھی اس میں شائع کئے جا رہے ہیں لیکن جب پندرہ سولہ برس پہلے ان سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی تو فوج کے بارے میں ان کے افکار و خیالات کا جھکاؤ جس طرف تھا آج بھی، چشمِ بد دور، اسی طرف ہے۔ اور اسی تناظر میں وہ غالب کے استدلال کے حساب سے ’’جنتی‘‘ ہیں۔ تاہم افواج پاکستان کا کوئی فرد اس جنت کا حق دار نہیں کہ لچک پذیری فوج میں ایک کمانڈ وصف (Command Quality) سمجھی جاتی ہے۔ ملٹری ہسٹری کے طالب علموں کو معلوم ہے کہ جن افواج کا مائنڈ سیٹ یا ڈاکٹرین یا عقیدۂ جنگ تبدل پذیر نہیں ہوتا وہ اکثر ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں۔ فوج کا ہر آپریشن جاری صورتِ حال سے متاثر ہوتا ہے اور اس کا کنڈکٹ آف آپریشن، کمانڈر کے براہِ راست طرزِ عمل کا عکاس ہوتا ہے۔ اگر کسی فوجی کمانڈر میں لچک پذیری کا عنصر نہیں تو اس کو کوئی بڑی اور اعلیٰ کمانڈ نہیں دی جاتی!

اگلے روز محترم خالد ہمایوں کمرے میں تشریف لائے تو ہاتھ میں ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ کے تازہ شمارے (جولائی 2016ء) کی دو کاپیاں پکڑی ہوئی تھیں جو انہوں نے مجھے عنایت کیں۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ میرے سامنے کرسی پر تشریف فرما ہو گئے۔ میں نے رسالے کا سرورق دیکھا جو دامنِ نظر کھینچتا تھا۔ اس کے تین چوتھائی حصے پر جناب خالد محمود صاحب کی ایک تصویر چھپی ہوئی تھی جس کے نیچے ان کے انٹرویو کے تین فقرات بھی درج تھے۔ ان میں جو فقرہ مجھے سب سے زیادہ نمایاں، سب سے جلی اور سب سے واشگاف دکھائی دیا وہ یہ تھا: ’’لاہور میں قائداعظم کے گھر کا نام ہے تو جناح ہاؤس مگر وہاں کور کمانڈر لاہور کی رہائش ہوتی ہے‘‘۔

میں نے رسالے کا کوئی ورق الٹے بغیر پروفیسر صاحب سے پوچھا:’’کیا یہ ’’ڈیک‘‘ آپ کا انتخاب ہے یا کسی اور نے دیا ہے کہ اسے سب سے زیادہ نمایاں جگہ دی جائے؟‘‘۔۔۔ وہ یہ سن کر ہنسے اور کہا: ’’مجھے معلوم تھا آپ اس سرخی کو اسی نظر سے دیکھیں گے جس نظر سے آپ نے دیکھا اور یہ سوال پوچھا ہے‘‘۔ کمرے میں ایک دو صحافی حضرات اور بھی موجود تھے۔ میں نے پروفیسر صاحب سے پوچھا کہ فوج کے اس ’’غاصبانہ ‘‘کردار پر آپ کی نظرِ عنایت آپ کے ماضی کے نصب العین سے اگرچہ مختلف نہیں لیکن کیا خالد محمود صاحب کے طویل انٹرویو میں صرف ایک یہی ٹکڑا تھا جو آپ کو اپنے ڈھب کا نظر آیا؟مجھے تو اس فقرے سے ’’اینٹی ملٹری‘‘ میلانِ طبع کی ’’خوشبو‘‘ کی لپٹیں آ رہی ہیں‘‘۔۔۔ یہ سن کر میرے اور پروفیسر صاحب کے درمیان وہی ’’پرانی بات‘‘ چھڑ گئی جس کا ذکر اقبال نے اپنی نظم ’’ زُہد اور رِندی‘‘ میں کیا ہے۔فرمانے لگے: ’’جی ہاں! ملک میں پہلا مارشل لاء ایوب خان نے لگایا تھا ناں؟‘‘۔۔۔ میں نے جواب دیا:’’ان کو افواجِ پاکستان کا سپہ سالار کس نے بنایا تھا؟‘‘۔۔۔پھر فرمایا سٹیو اور سنٹو کے معاہدے کس نے کئے تھے اور پاکستان کو امریکہ کی جھولی میں کس نے ڈالا تھا؟۔۔۔ میں نے پھر جواب دیا : ’’سب سے پہلی امریکہ یاترا کس نے کی تھی؟ ۔۔۔ ان کا منصب اور ان کا نام کیا تھا؟‘‘

اس طرح کی باتیں ہوتی رہیں۔ ان کو اپنی کہانیاں ازبر تھیں اور مجھے ان کو سن کر محض ’’ہنگورہ‘‘ بھرنے کی عادت نہیں تھی۔ میں نے ان پر واضح کیا کہ ملک کی دفاعی اور خارجہ پالیسیوں کا شعور ایک نہایت نازک معاملہ ہے۔ یہ پالیسیاں ساکن اور منجمد نہیں رہتیں اور حسبِ تقاضائے حالات بدلتی رہتی ہیں۔ کل تک جو بھارت، سوویت یونین کی گود میں تھا، وہ آج امریکہ کی بغل میں جا بیٹھا ہے وغیرہ وغیرہ ۔

میں نے پروفیسر صاحب سے یہ اجازت بھی لی کہ کیا میں آپ کے اس مائنڈسیٹ کے تناظر میں اپنے خیالات کا اظہارکسی کالم وغیرہ میں کر سکتا ہوں ؟۔۔۔ فرمانے لگے: ’’بصد شوق‘‘۔۔۔ سو قارئین گرامی۔ اس کالم کی وجہِ تخلیق (Genesis)یہ تھی جو میں نے آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔

گھر آکر ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ کھولا تو خالد محمود صاحب کا 47صفحات پر مشتمل انٹرویو پڑھنے کو ملا۔ وہ ایک سابق بیورو کریٹ ہیں۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رہا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ سے منسلک رہے، انکم ٹیکس کے محکمے میں تعینات رہے، مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اچھے لکھاری اور دانشور ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا تعلق ایک ایسی نسل سے ہے جو آج بتدریج ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ یہ نسل ہماری معاشرتی، مذہبی اور اخلاقی اقدار کی امین تھی۔ اس میں والدین اور اساتذہ کا رول کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا تھا، اس کی تربیت چونکہ پڑھے لکھے اور منضبط ماحول میں ہوئی ہوتی تھی اس لئے وہ اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتی تھی اور مجھے امید ہے کہ اس نسل نے اپنی اگلی نسل کو بھی انہی نقوش پر تربیت دی ہوگی۔

یہ انٹرویو میرے ایک دوست علی اصغر عباس نے کیا ہے جو ایک کہنہ مشق صحافی اور شیریں بیان شاعر بھی ہیں۔ لیکن خالد محمود صاحب کی ماضی کی بو قلموں مصروفیات اور گو ناگوں تعیناتیوں کے حوالے سے اُن سے جو سوالات پوچھنے چاہئیں تھے اور جو قارئین کے لئے سبق آموز اور معلومات افزاء ہو سکتے تھے وہ کم کم پوچھے گئے ، زیادہ زور ان کی طالب علمی کے زمانے اور پھر کرکٹ عہد(Era) پر دیا گیا جو اگرچہ دلچسپ اور پُراز معلومات دور تھا لیکن جو قارئین لاہور میں نہیں رہتے یا جو کرکٹ کی موشگافیوں اور ریکارڈز وغیرہ سے زیادہ آگاہ نہیں، ان کی تشنگی فروکرنے کا سامان اس انٹرویو میں موجود نہیں۔

اس وسیع و عریض انٹرویو میں خالد محمود صاحب کے درج ذیل کلمات بھی شامل ہیں:

(1) 1964ء کی بات ہے۔ کالج (گورنمنٹ کالج لاہور) کی صد سالہ تقریبات ہونے والی تھیں۔ اس وقت کا گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان تھا جو نہایت ظالم و جابر حکمران تھا۔ خود سر، ضدی اور ہٹ دھرم اور کسی کی نہیں سنتا تھا۔

(2) ہم نے تو بان�ئ پاکستان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا اس سے قوم کو شرم آنی چاہئے۔

(3) مَیں نے قائداعظم کے بیش قیمت لباس دیکھے ہیں جن کو کیڑا لگ چکا ہے۔

(4) قائداعظم ؒ کی کراچی کی رہائش گاہ کے باہر کچرا منڈی لگ چکی ہے۔ شہر بھر کا کوڑا اس کے درو دیوار پر پھینکا جا رہا ہے۔

(5) قائداعظم ؒ نے اپنی زندگی میں لاہور کا وہ گھر جو قیامِ پاکستان کے وقت برطانوی فوج کے پاس کرائے پر تھا اس کو بڑے سخت انداز میں خالی کرانے کو کہا تھا۔

(6) قائداعظم ؒ اپنی زندگی میں وہ گھر خالی نہ کروا سکے۔

(7) نام تو اس کا آج بھی جناح ہاؤس ہے، مگر وہاں کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ ہوتی ہے۔

اگر پروفیسر خالد ہمایوں صاحب کی جگہ میں اس میگزین کا ایڈیٹر ہوتا تو سرورق پر جو سرخی شائع کرتا وہ درج بالا نمبر4 والی یہ سرخی ہوتی:’’قائداعظم ؒ کی کراچی کی رہائش گاہ کے باہر کچرا منڈی لگ چکی ہے۔ اور شہر بھر کا کوڑا اس کے در و دیوار پر پھینکا جا رہا ہے۔‘‘۔۔۔ میرے نزدیک انٹرویو کا یہ ٹکڑا ایک وسیع تر کینوس کو محیط ہے۔ کراچی کے اس گھر میں قائداعظمؒ کا قیام لاہور والے گھر کی نسبت طویل تر تھا، کراچی کی آبادی بھی لاہور سے تقریباً دگنی ہے، یہاں جن لوگوں کی اکثریت آباد ہے ان میں مہاجر، پشتون، پنجابی اور سندھی سب شامل ہیں جبکہ لاہور میں ایسا نہیں۔ کراچی ایک میٹروپولیٹن شہر ہے، پاکستان کا دارالحکومت رہا ہے، تجارت اور تاجروں کا گڑھ ہے۔ اگر وہاں قائداعظم کے گھر کے ’’تقدس‘‘ کا یہ حال ہو چکا ہے تو لاہور میں جناح ہاؤس کے مقابل اس کو رکھ کر دیکھیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ لاہور کے فوجیوں نے اس گھر کی دیکھ بھال اور تزئین و آرائش میں اہل کراچی کے علی الرغم ایک بہتر اور عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ہے؟ اس کا نام جناح ہاؤس ہی ہے، کور کمانڈر ہاؤس نہیں۔ توجہ یہ بھی فرمائیے کہ افواج پاکستان نے پاکستان کے ’’جناح ہاؤس‘‘ کو محفوظ بنانے کے لئے کیا کیا قربانیاں نہیں دیں۔ آج پوری قوم جس ایک ادارے کی معترف ہو رہی ہے وہ افواج پاکستان ہی تو ہیں! مختلف اسباب کی بناء پر اس ادارے کے قدو قامت پر معاشرے کے بہت سے طبقات نے حرف گیری کی ہے۔ میں خود ایک سابق فوجی ہونے کے باوجود جب وردی پوش تھا تو تب بھی مارشل لا کے سخت خلاف تھا اور آج بھی ہوں۔ یہ سوال ایک بڑا الجھا ہوا مسئلہ ہے کہ آیا فوج نے سویلین حکمرانی میں مداخلت کی یا سویلین حکمرانوں کی نااہل اور ناکام گورننس نے فوج کو مداخلت پر مجبور کیا۔لیکن آج اس بات کی ضرورت نہیں کہ فیصلہ کیا جائے کہ انڈہ پہلے تھا یا مرغی پہلے پیدا ہوئی تھی۔ آج قوم کو ان متنازعہ مسائل پر بحث و مباحثہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج سول اور ملٹری کو ایک صفحے پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ملک کے رسائل و جرائد میں فوج کے تشخص کو مجروح کرنے اور ان کو نشانہ ء تضحیک بنانے کی کوششیں اسی طرح جاری رہیں تو کیا ’’ایک صفحے‘‘ والا یہ مشن پورا ہو جائے گا؟

پروفیسر خالد ہمایوں صاحب جیسے اہل قلم کو کشادہ ظرفی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اپنے Mind-set میں لچک پیدا کرنی چاہیے اور خواہ مخواہ قارئین کو اس راہ پر نہیں لگانا چاہیے جو قوم کو تقسیم کردے، ذہنوں میں خلجان پیدا کرے، دل و دماغ میں کنفیوژن کے جراثیم تخلیق کرے اور سول ملٹری تعلقات کو مجروح کرنے کا ’’بالواسطہ اہتمام‘‘ کرے!

مزید :

کالم -