ملک بحران سے دو چار ہے، فوج اور عدلیہ سمیت دیگر ادارے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں: محمود اچکزئی

ملک بحران سے دو چار ہے، فوج اور عدلیہ سمیت دیگر ادارے اپنے دائرہ کار میں رہ کر ...

  

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک اس وقت بحران میں ہے ،ملک میں جمہوری نظام بہترین نظام ہے، ہم اس کی مخالفت نہیں کرتے ،فوج ‘ عدلیہ سمیت دیگر ادارے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں ،حقوق مانگنے والوں کو یہاں جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، بکنے اور خریدنے والا اس ملک کا دوست نہیں، تنازعات کے باوجود ہم بھارت کیساتھ گزارا کررہے ہیں، اسی طرح ہمیں افغانستان کیساتھ بھی گزارا کرنا ہوگا، افغانستان اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہے، امریکہ اور سوویت یونین کا حال بھی برا ہوا تھا،افغان بارڈر طورخم پر تنازعہ کے بعد مسئلہ کو بھائیوں کی طرح بیٹھ کر حل کرنا چاہئے تھا ،افغانستان اورپاکستان اب بھی بہترین اسٹریجک پاٹنربن سکتے ہیں ،جو سپورٹ نوازشریف کو ملی ہے وہ کسی کو نہیں ملے گی۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے جمہوری نظام کو فروغ نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت بحران سے دوچار ہے ملک اس وقت ٹھیک رہے گا، جب ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط کیا جائے اور اگر جس دن پاکستان کو صحیح معنوں میں فیڈریشن بنایا تو تمام تر برائیاں ختم ہو جائیں گی، خدا کرے کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہو اور جاسوسی ادارے دنیا کے بہترین ادارے ہوں، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر تمام ادارے اپنے اپنے حدود میں رہ کر کام کریں تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈریشن اور صوبہ کو توڑنے کی باتیں ہورہی ہیں اور حقوق مانگنے والوں کو یہاں جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، ہم نے بنیادی انسانی حقوق کیلئے امریکہ سے زیادہ محنت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری نظام بہترین نظام ہے، ہم اس نظام کی مخالفت نہیں کرتے، فوج عدلیہ اور صحافیوں کو اپنے دائرہ کار میں کام کرنا ہوگا، پاکستان اس وقت مشکلات سے دوچار ہے اور مشکلات سے نکالنے کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بلوچ قوم کو حکمرانی میں پورا حق ملنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جمہوری و سیاسی جماعت موجودہ نظام کیخلاف نہیں جائے گی، ملک میں جو بھی کرپٹ ہو ،ان کیخلاف تحقیقات ہونی چاہئے، کوئی بھی ذی شعور شخص کرپشن کی حمایت نہیں کرے گا۔ اگر وزیراعظم کیخلاف کرپشن کا کوئی کیس ہے تو ماضی میں اس کی مثالیں بہت ملتی ہیں، این آر او کے تحت 8 ہزار کیسز کو اپنے حق میں نمٹا دیا گیا، کرپشن کس ادارے میں نہیں ہورہی، اگر کرپشن کیخلاف کچھ کرنا ہے تو تمام اداروں میں ہونیوالی کرپشن کی تحقیقات ہونی چاہئے صرف وزیراعظم پر اس لئے الزام لگانا کہ ان کے بیٹوں کا پانامہ لیکس کے مطابق کمپنیاں ہیں تو یہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں بدقسمتی کیساتھ ہر کوئی اپنے آپ کو مضبوط کرنے کیلئے بکنے اور خریدنے والا معاملہ شروع کردیتا ہے لیکن بکنے اور خریدنے والا اس ملک یا وطن کا دوست نہیں ہے، جس طرح تنازعات کے باوجود ہم بھارت کیساتھ گزارا کررہے ہیں، اسی طرح ہمیں افغانستان کیساتھ بھی گزارا کرنا ہوگا کیونکہ جو حالات اور صورتحال ہے ان پر ہم سب کو نظررکھنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ، افغانستان اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہے ،پاک افغان بارڈر طورخم میں جو واقعہ رونما ہوا اس مسئلے کو بھائیوں کی طرح بیٹھ کر حل کیا جائے، سوویت یونین کے نکلنے کے بعد ہمیں افغانستان کو چھوڑ دینا چاہئے تھا کیوں نہیں چھوڑا؟یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان بہترین اسٹریجک پاٹنر بن سکتا ہے، ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب اور دیگرصوبوں سے تعلق رکھنے والے پچاس ہزار سے زائد مزدور وہاں کام کررہے تھے اب وہاں پر وہ کام نہیں کرسکتے۔

مزید :

صفحہ آخر -