سانحہ نائن الیون، بش انتظامیہ خود اس دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھی، امریکی کیمرہ مین کا انکشاف

سانحہ نائن الیون، بش انتظامیہ خود اس دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھی، امریکی ...

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں نائن الیون کا سانحہ جب سے رونما ہوا ہے اس کی حقیقت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ خود امریکی ماہرین کی طرف سے بھی بارہا اسے امریکی حکومت ہی کا کارنامہ قرار دیا جا چکا ہے۔ اب ایک اور شخص میدان میں اتر آیا ہے جس نے نائن الیون کی ذمہ دار ی امریکی حکومت پر ڈال دی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کا نام کرٹ سونین فیلڈ(Kurt Sonnenfeld)ہے جو پیشے کے لحاظ سے کیمرہ مین ہے۔ جب نائن الیون کا واقعہ ہوا اس وقت کرٹ سونین ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں گراؤنڈ زیرو پر موجود تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’میرے پاس کئی ایسے ثبوت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف بش انتظامیہ کو پہلے سے ہی اس واقعے کا علم تھا بلکہ وہ خوداس دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھی۔‘‘رپورٹ کے مطابق 39سالہ کرٹ سونین اس وقت امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ایک ذیلی ادارے کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ یہ ذیلی ادارہ برطانوی ایجنسی ایم آئی 5کی طرز کا ادارہ ہے۔ سونین نائن الیون کے واقعے کے وقت ٹریڈ سنٹر میں مختلف چیزوں کی عکسبندی کے لیے موجود تھا لیکن اس نے یہاں بننے والی ویڈیو کبھی امریکی حکام کے حوالے نہیں کی کیونکہ اس کے فوری بعد اس کی اپنی زندگی میں ایک بھونچال آ گیا تھا۔ 2002ء میں اس پر اپنی بیوی نینسی کو سر میں گولی مار کر قتل کرنے کا الزام عائد ہوا اور اسے امریکہ سے فرار ہو کر ارجنٹینا میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا، جہاں بالآخر اس نے اب سچ بولنے کا حوصلہ پا لیا ہے۔ اس وقت سونین کی عمر 54سال ہے اور وہ تاحال امریکہ میں اپنی 36سالہ بیوی کے قتل کے الزام میں مطلوب ہے۔ مگر، رپورٹ کے مطابق، سونین کا کہنا ہے کہ ’’میرے اس مقدمے کے پیچھے بھی امریکی حکومت کا ہاتھ ہے کیونکہ میں نائن الیون کے واقعے کے متعلق بہت سے ایسے حقائق جانتا ہوں جنہیں وہ منظرعام پرآتے نہیں دیکھ سکتی۔ ‘‘ سانحے میں امریکی حکومت کے ملوث ہونے کے شواہد بیان کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ ’’ورلڈ ٹریڈ سنٹر 6کے تہہ خانے میں ایک بڑے کمرے میں اہم دستاویزات و دیگر اشیاء موجود تھیں جو میں نے دیکھا کہ ٹاور سے جہازوں کے ٹکرائے جانے سے کچھ ہی دیر قبل تیزی سے وہاں سے نکالی جا رہی تھیں۔ اس سے میں کلی طور پر یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کو اس واقعے کا علم تھا اور انہوں نے اسے رونما ہونے دیا۔ وہ نہ صرف جانتے تھے بلکہ ان کا تعاون بھی اس میں شامل تھا۔ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ’’ورلڈ ٹریڈ سنٹر 4مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا تاہم اس کا بیسمنٹ محفوظ رہا۔ اس کا دروازہ بھی اسی طرح سلامت رہا۔ اس بیسمنٹ میں لگ بھگ 1ہزار ٹن سونا اور چاندی پڑی ہوئی تھی۔‘‘ اس معاملے پر کرٹ سونین کا کہنا ہے کہ ’’ورلڈ ٹریڈ سنٹر4سے جہاز ٹکرائے اوراس کا بیسمنٹ سلامت رہا ،ورلڈ ٹریڈ سنٹر 7کو جہازوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا مگر اس کے باوجود وہ آن کی آن میں زمین بوس ہو گیا۔ سب سے مشکوک چیز یہی ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر 7میں نہ تو جہاز ٹکرائے، نہ ہی اس کی عمارت میں کوکوئی نقصان پہنچا تھا مگر یہ پوری کی پوری47منزلہ عمارت حیران کن طور پر 6.5سیکنڈ میں زمین بوس ہو گئی۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اتنی بلند عمارت ایک طرف گرنے کی بجائے اپنی ہی بنیادوں کی طرف کیوں گری؟

مزید :

صفحہ آخر -