سعودی عرب کے سوا کسی نے عالمی ادارے کو فنڈزفراہم نہیں کیے ، بان کی مون

سعودی عرب کے سوا کسی نے عالمی ادارے کو فنڈزفراہم نہیں کیے ، بان کی مون

  

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ عالمی اداروں کے فنڈز کے حصول کے ذرائع کو شفاف بنانا ضروری ہے بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکمت عملی طے کرتے وقت امداد کے حصول کے ذرائع کی وضاحت زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ سعودی عرب کے سوا اقوام متحدہ نے کسی اور ذریعے سے عطیات وصول نہیں کیے ۔عرب ٹی وی کے مطا بق اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے اپنے رکن ملکوں کی مدد کی جاتی ہے۔ اگر ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حقیقی معنوں میں اثرانداز ہونا چاہیں تو ہمیں اس کے لیے مالی وسائل کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔بان کی مون کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے سعودی عرب کے سوا کسی دوسرے ذریعے سے مالی مدد حاصل نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اقوام متحدہ کی مالی ضروریات کئی گنا بڑھ چکی ہیں مگر سیکیورٹی کوآرڈی نیشن کے بغیر کسی قسم کی رقم ذرائع آمدن کے معقول ذرائع کے بغیر ممکن نہیں ہے۔بان کی مون کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنرل اسمبلی کا انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی وضع کرنے کے حوالے سے دو سال بعد ہونے والا اجلاس منعقد کیا گیا۔

مزید :

عالمی منظر -