کشمیرمیں فوج کی موجودگی انسانی حقوق پامالیوں کا باعث بن رہی ہے علی گیلانی

کشمیرمیں فوج کی موجودگی انسانی حقوق پامالیوں کا باعث بن رہی ہے علی گیلانی

  

سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمینسید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیر کیسول آبادی میں فوج کی موجودگی تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہے اور اس کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں ہے اس لییسول آبادیوں سے مکمل فوجی انخلاعمل میں لایا جائے اور فوجی کیمپ ہٹائے جائیں۔ کے پی آئی کے مطابقعلی گیلانینیکولگام کی بستی کولہ پورہ میں کسی غیر ریاستی باشندے کی ایماپر فوج کے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور گھروں و گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئیسول آبادیوں سے فوجی کیمپ ہٹانے کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ سول آبادی میں فوج کی موجودگی تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہے۔گیلانی نے کہا کہ فوج کی موجودگی بڑے پیمانے پر انسانی حقوق پامالیوں کا باعث بن رہی ہے اور اس کی وجہ سے انسانی زندگیوں کو ہمہ وقت خطرات درپیش رہتے ہیں۔گیلانی کی ہدایت پر حریت معاون جنرل سیکریٹری حاجی غلام نبی سمجھی کولہ پورہ کولگام گئے، جہاں انہوں نے جائے موقعہ پر فوج کے عوام پر قہر ڈھانے کا جائیزہ لیا اور واقعے سے متعلق تفصیلات جمع کیں۔ سمجھیکے مطابق اس بستی میں پچھلے کئی سال سے ایک ایسے غیر ریاستی باشندے نے بودوباش اختیار کی ہوئی ہے، جس کی سرگرمیاں انتہائی قابل اعتراض اور مشکوک بتائی جارہی ہیں۔ بستی والوں نے غیر اخلاقی کاموں کیلئے جب اس کو ٹوکا تو وہ سیدھا فوجی کیمپ پر گیا اور بستی والوں کی وہاں شکایت کی۔ سمجھی نے کہا کہ فوج نے بغیر کسی تحقیقات کے اس بستی پر ہلہ بول دیا اور جو بھی ان کے سامنے آیا، اس کی مارپیٹ اور تذلیل کی۔ فوجی اہلکاروں نے گھروں اور گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ ڈالے اور لاکھوں روپئے مالیت کا نقصان کرایا۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ غیر ریاستی باشندے کو اصل میں فوج نے ہی اس بستی میں پلانٹ کیا ہوا ہے اور وہ پہلے دن سے اس کی پشت پر ہے۔

مزید :

عالمی منظر -