اللہ تعالیٰ کی نیک لوگوں سے دو نعمتوں بہتر معیشت اور منا کا وعدہ ہے :مولانا محمد طیب

اللہ تعالیٰ کی نیک لوگوں سے دو نعمتوں بہتر معیشت اور منا کا وعدہ ہے :مولانا ...

  

صوابی( بیورورپورٹ) جماعت اشاعت التوحید والسنت کے مرکزی امیر مولانا محمد طیب نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نیک لوگوں سے دو نعمتوں بہتر معیشت اور امن کا وعدہ ہے لیکن اس کے بدلے اللہ پاک ان نیک بندوں سے دو چیزیں یعنی بدنی عبادت اور مالی عبادت مانگتا ہے اگر ہم نے اللہ پاک سے یہ دوچیزیں لینی ہے تو ہمیں یہ دو چیزیں دینی ہو گی آج اگر ہم مسلمان ملک ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ان دونوں نعمتوں سے محروم ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے نبی رحمت ﷺ کے مصلے پر ان لوگوں کر بٹھا دیا ہے جو دین کو بھی ذاتی اور دُنیاوی مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کے روز دارالقر آن پنج پیر میں سالانہ دورہ تفسیر قر آن کے اختتام پر ختم قر آن کے ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے کیا جس میں ایک اندازے کے مطابق دو لاکھ افراد نے شرکت کی اس اجتماع کاآغاز مولانا محمد طیب کے والد محترم شیخ القر آن مولانا محمد طاہر ( مرحوم) نے 1936میں کیا تھا اور تب سے دورہ تفسیر قرآن کا یہ سلسلہ جاری ہے 1987میں مولانا محمد طاہر کے انتقال کے بعد یہ درس قر آن ان کے صاحبزادے مولانا محمد طیب باقاعدگی سے ہر رمضان میں دیتے ہیں اس اجتماع سے قومی شخصیت اور آئی ایس آئی اسلام آباد کے سابق چیف میجر (ر) محمد عامر نے بھی خطاب کیا۔شیخ القر آن مولانا محمد طیب نے کہا کہ دین میں سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کے ہاتھوں اُٹھایا جنہوں نے بظاہر علماء کا روپ دھار رکھا ہے پچھلی حکومت نے مجھے مدرسے کے لئے گرانٹ دینے کی پیشکش کی تھی جس کو میں نے شکریہ کے ساتھ مسترد کر دیا تھا انہوں نے کہا کہ اس خطے کا سب سے بڑا قر آنی علوم کا مرکز یہاں کے لوگوں اور جماعت کے مخلص اراکین کے تعاون سے چلتا ہے میرا کام صرف قر آن پڑھانا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے عظیم والد محترم نے ہمیں قر آن سکھایا اور اس کے ساتھ ساتھ وطن سے محبت بھی انہوں نے کہا کہ اسلام اور پاکستان کو جب بھی چیلنج درپیش ہوا میں اورمیری جماعت اگر فوج سے آگے نہیں تو پیچھے بھی نہیں ہو گی آخر میں انہوں نے رقت انگیز دُعا مانگی جس میں ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے خصوصی دُعا مانگی گئی#

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -