ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کسی بھی قسم ٹیکس دینے کو تیار نہیں ہیں ،عوامی حلقے

ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کسی بھی قسم ٹیکس دینے کو تیار نہیں ہیں ،عوامی حلقے

  

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) مسلسل قدرتی افات کے زد میں رہنے والے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کسی بھی قسم ٹیکس دینے کو تیار نہیں ہیں۔کسٹم ایکٹ کو مسترد کرتے ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی کسٹم ایکٹ پر خاموشی یہاں کے عوا م کے ساتھ مذاق ہے، وزیر اعلیٰ کی جانب سے کسٹم ایکٹ کی واپسی تا حال التوا کا شکار ہے ، ملاکنڈ ڈویژن کے کسی بھی حصے میں کسٹم ایکٹ تسلیم نہیں کرتے، وفاقی حکومت مسلسل قدرتی افات سے متاثرہ ڈویژن کو خصوصی پیکج اور یہاں کے عوام کی قربانیوں کے تحفے میں کسٹم ایکٹ دے رہا ہے جو یہاں کے عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی اور ظلم ہے، کسٹم ایکٹ کا اعلان التوا کا شکارہونے سے ملاکنڈ ڈویژن کے کاروباری ،معاشی اور مالا کنڈ ڈویژن کے عوام میں شدید غم وغصہ مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ عید کے بعد ڈویژن بھر میں تحریک چلانے کا اعلان۔ ملاکنڈ ڈویژن سے منتخب نمائندے کسٹم ایکٹ پر خاموشی کے بجائے عوام کا ساتھ دے، کسٹم ایکٹ کے خلاف ایندہ کیلئے لایحہ عمل بنا ینگے،قومی،سماجی ،سیاسی او کاروباری حلقوں کا دوٹوک لفظوں میں اعلان،ما لاکنڈ ڈویژن کسی بھی ٹیکس کو اپنے اپر لاگو ہونے کی سکت نہیں رکھتا،قدرتی،مصنوعی آفات سے نبر ازمو ہونے کیلئے معاشی پیکج،ریلیف اور انسانی بنیادوں پر عوام کو امداد دینے کے بجائے ٹیکس کی چھوٹ پر مکمل خا موشی نے ما لا کنڈ ڈویژن کے عوام کو مایوس کیا،عوامی حلقوں کا رد عمل،سوات ، شانگلہ اور بونیر نے جتنی قربانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی ہے اس کے نتیجے میں حکومت ان محرومیوں کو چھپا کر انہیں اقتصادی طور پر زبون حال کر رہا ہے وفاقی حکومت نے ظلم و جبر کا یہ فیصلہ کر کے ڈویژن کے اندر معاشی عدم استحکام کا اخری کیل ٹو نس دیا ۔جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی کسٹم ایکٹ کو ختم کرنے کیلئے وفاق کو سفارش کی ہے تاہم عمل درامد کیوں نہیں ہورہا، عوامی حلقوں میں گھنگھناہٹ شروع ہوئی ہے، کسٹم ایکٹ والی سوات کے 1969کے ادغام پا کستان کے موقع پر100سال کیلئے کا ر امد ہو گا،جس میں حکومت لوگوں کی فلاح بہبود،ترقی اور خوشحالی کا پا بند ہو گا تاہم وفاق نے کسٹم ایکٹ کے اپر خاموشی نے کئے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے اور قدرتی آفات زدہ علاقے میں عوام کی اتنی ہمت نہیں کہ وہ مزید کوئی ٹیکس برداشت کر سکیں ،مسلسل قدرتی آفات کے زد میں انے والی ما لاکنڈ ڈویژن میں کاروبار ،معیشت اور زراعت کو بری طرح متا ثر کیا ہے حکومت مالا کنڈ ڈویژن کے عوام نے کسٹم ایکٹ کی واپسی کے حوالے سے واضح طور پر تو اعلا نات کئے ہیں تاہم یہاں سے منتخب اراکین اسمبلی صوبے اور وفاق میں با اختیار ہونے کے باوجود خامو ش اخر کیوں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -