امریکی وفد کا دورہ شمالی وزیرستان دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کی کامیابیوں پر آنکھیں کھلی رہ گئیں

امریکی وفد کا دورہ شمالی وزیرستان دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کی کامیابیوں پر ...
امریکی وفد کا دورہ شمالی وزیرستان دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کی کامیابیوں پر آنکھیں کھلی رہ گئیں

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک )پاکستان کے دورے پر آنیوالے امریکی وفدکوشمالی وزیرستان کادورہ کرایاگیاجہاں دہشتگردوں کیخلاف پاک فوج کی کامیابیاں دیکھ کروفدکی آنکھیں کھلی رہ گئیں جبکہ سینیٹرجان مکین کاکہناتھاکہ پاکستان سے مثبت پیغام لیکر جارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرجان مکین کی زیرسربراہی امریکی کانگریس کے 4رکنی وفدکوشمالی وزیرستان کے ہیڈکوارٹرز میران شاہ کا دورہ کرایاگیا،وفد نے دہشتگردوں سے خالی کرائے گئے علاقے دیکھے جبکہ ان کے تباہ کئے گئے انفرااسٹرکچر اور خفیہ ٹھکانوں کامعائنہ بھی کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی سینیٹر جان مکین،سینیٹر لنڈسے گراہم ، سینیٹر جوڈونیلی اورسینیٹر ریک ڈیوس کوآپریشن’ضرب عضب‘پرتفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ وفدنے شمالی وزیرستان کو دہشتگردوں سے خالی کرانے پر پاک فوج کی کامیابیوں کو سراہا،امریکی سینیٹرز نے آپریشن سے متاثرہ گھرانوں کی عزت اور وقار سے اپنے گھروں کو واپسی اور انکی آباد کاری کے حوالے سے بھی پاک فوج کی جانب سے جاری بحالی کے کاموں کی تعریف کی،نیز وفد نے آپریشن’ضرب عضب‘کے شہداء کی یادگارپرحاضری دی جبکہ زخمی ہونے اورپھر آپریشن میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنیوالے فوجی افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی،اس دوران وفدنے فوجی جوانوں کے مادر وطن کی خدمت کے جذبے اور عزم کو بے حد سراہتے ہوئے اسے قابل تقلید قرار دیا۔اس موقع پر سینیٹر جان مکین کاکہناتھاکہ’پاکستان دہشتگردی کیخلاف جنگ میں نہایت اہم فورس ہے ،پاک فوج نے شمالی وزیرستان سے افغان سرحد تک کا علاقہ کامیابی سے کلیئرکیا‘۔

 روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

بعدازاں سینیٹرجان مکین کی زیرسربراہی امریکی کانگریس کے 4رکنی وفدنے دفترخارجہ میں سرتاج عزیزسے ملاقات کی، اس موقع پر طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری بھی موجود تھے ،فریقین نے خطے کی سکیورٹی بالخصوص افغانستان کی صورتحال سمیت دوطرفہ اہم امورپرتبادلہ خیال کیاجبکہ ملاقات کے بعدمیڈیاسے گفتگومیں مشیرِخارجہ نے بتایاکہ امریکی وفد سے ملاقات مثبت اور تعمیر ی رہی جبکہ ایف 16طیاروں کی فراہمی، افغانستان کی صورتحال اورپاک افغان سرحدی انتظام پربھی تفصیلی گفتگو ہوئی جبکہ ہم نے باورکرایاکہ دہشتگردوں کی نقل وحرکت روکنے کیلئے بارڈرمینجمنٹ ضروری ہے ،ملاقات کے دوران بلوچستان میں ڈرون حملے کا معاملہ بھی اٹھایا اور امریکی وفد پر زور دیا کہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں جبکہ نوشکی حملے سے افغان امن عمل کو نقصان پہنچا،نیزامریکا کی بھارت نواز پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاگیاکہ امریکا ، بھارت کے دفاعی تعاون پر تشویش ہے ،امریکا کی بھارت نواز پالیسی سے خطے میں طاقت کا عدم توازن بڑھ رہا ہے ، پاکستان نے گزشتہ چند ماہ میں امریکا سے پارٹنرشپ قائم رکھنے کی بھرپور کوششیں کیں،امریکا کو جنوبی ایشیامیں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنا ہو گا،افغانستان میں قیام امن کے حامی ہیں جبکہ امریکی وفد نے افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں جبکہ افغانستان میں قیامِ امن کیلئے پر خلوص کوششیں کیں ،افغانیوں کی باعزت واپسی کیلئے عالمی برادری تعاون کرے۔ انہوں نے بتایاکہ امریکی وفد نے شمالی وزیرستان کا دورہ کرکے بہت اطمینان کا اظہار کیاجبکہ وفدنے آپریشن’ضرب عضب‘میں شریک پاک فضائیہ کے پائلٹس سے بھی ملاقات کی۔دریں اثنا سینیٹر جان مکین کا کہنا تھا کہ انہوں نے شمالی وزیرستان کے دورے کے دوران آپریشن’ضرب عضب‘کی کامیابیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں،میران شاہ کا دورہ کرکے حیرت ہوئی اوروہاں کی صورتحال میں بہتری پر اطمینان ہوا،پاک امریکا تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور آئندہ برسوں میں بھی مضبوط رہیں گے ، امریکا اوربھارت کے حالیہ معاہدوں سے یہ تعلقات کسی صورت متاثر نہیں ہونگے ، پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو مختلف تناظر میں دیکھتے ہیں جبکہ پاکستان سے تعلقات انتہائی اہم، آزادانہ اور مختلف نوعیت کے ہیں،پاکستان کی دفاعی ضروریات سے آگاہ ہیں جبکہ پاکستان اور امریکا کا دشمن مشترکہ ہے ،دونوں ملکوں کوملکر لڑنا ہوگا،خطے میں امن کیلئے پاکستان کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں اور باہمی تعلقات کی مضبوطی کیلئے پرعزم ہیں جبکہ پاکستان سے مثبت پیغام لیکر جارہے ہیں،امریکا پاکستان کو بہت اہمیت دیتا ہے ،خطے میں استحکام کیلئے پاکستان کا کردار انتہائی اہم اوراسکی قربانیوں کے معترف ہیں، افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،افغانستان کی خراب صورتحال پر پاکستان کا موقف بالکل درست ہے ، خطے میں امن کیلئے دونوں ممالک کو دہشتگردی کیخلاف اپنی کوششیں جاری رکھنا ہونگی،ملاقاتوں میں پاکستان کا موقف سمجھنے میں مدد ملی، امریکی حکومت کودورے کا فیڈ بیک دینگے جبکہ کانگریس کو پاکستان کی اقتصادی ترقی کیلئے امداد جاری رکھنے کے بارے میں بریف کرینگے۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

علاوہ ازیں امریکی سینیٹر جان مکین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے دورہ پاکستان کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتوں کی تصاویر ٹویٹ کیں جبکہ انکاکہناتھاکہ’ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کا کردار اہم ہے ، پاکستانی آرمی چیف کیساتھ ملاقات بہت اچھی رہی جس میں علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ مشیرخارجہ سرتاج عزیز سے بھی وفود کی سطح پرملاقات مفید رہی، امریکی وفد کوشمالی وزیرستان میں جاری آپریشن’ضرب عضب‘سے متعلق بریفنگ دی گئی جبکہ امریکی وفد نے آپریشن کے شہداءکی یادگار کا دورہ بھی کیا۔

مزید :

اسلام آباد -