کئی خواجہ سراء پہلے ہی شادی شدہ ہیں، حج او رعمرہ بھی مردوں کی طرح کرتے ہیں: الماس بوبی

کئی خواجہ سراء پہلے ہی شادی شدہ ہیں، حج او رعمرہ بھی مردوں کی طرح کرتے ہیں: ...
کئی خواجہ سراء پہلے ہی شادی شدہ ہیں، حج او رعمرہ بھی مردوں کی طرح کرتے ہیں: الماس بوبی

  

لاہور (ویب ڈیسک) چیئرپرسن شی میل ایسوسی ایشن الماس بوبی نے کہا ہے کہ ہمیں جیلوں میں بند کرکے ظلم کیا گیا،خواجہ سراﺅں کو حقیر سمجھنے والے اللہ کے مجرم ہیں، خواجہ سراﺅں نے پہلے سے ہی شادیاں کی ہوئیں ہیں، ہم جج اور عمرہ بھی مردوں کی طرح کرتے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ  فتویٰ آنے سے خواجہ سراﺅں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، کیا خواجہ سرا کوئی مسئلہ لیکر آئے تھے جو فتویٰ جاری کیا گیا؟ مخنث شادی وغیرہ نہیں کرسکتے ، خواجہ سراٗء کانام فتوے میں استعمال کرنے سے بے چینی پید ا ہوئی ، علماء کو چاہیے تھا کہ فتویٰ دینے سے قبل ہمیں بلاکر مشاورت کرلیتے ۔ 

نیوٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے الماس بوبی نے کہاکہ ہمارے شناختی کارڈ ہی نہیں بنائے جاتے تو شادی کیسے کریں؟ کچھ لوگ ایسے ہیں جو شادی کرتے ہیں ، ان کے بیوی بچے بھی ہیں ، وہ ہمارے لوگوں کیساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور شام کو اپنے بیوی بچوں کے پاس لوٹ جاتے ہیں ۔ اُنہوں نے بتایاکہ حج او رعمرہ کرنے بھی خواجہ سراء جاتے ہیں اور وہاں بھی مردوں کی طرح فرائض ادا کرتے ہیں ۔ 

مذہبی سکالر ضیا الحق نقشبندی نے کہا کہ 3 سال پہلے بھی خواجہ سراﺅں سے شادی کا فتویٰ آیا تھا لیکنکسی نے اس فتوے پر اعتراض نہیں کیا۔ جن خواجہ سراﺅں کو شریعت نے جائز قرار دیا وہ شادی کر سکتے ہیں۔ اسلام تو خواجہ سراﺅں کو بھی حقوق دیتا ہے۔

 صدر خواجہ سرا ایسوسی ایشن پشاور فرزانہ نے کہا کہ خواجہ سراﺅں کے شناختی کارڈ کا مسئلہ حل کرنا چاہیے،  خواجہ سراﺅں کو ان کے فیملی والے گھر سے نہ نکالیں۔ خیبر پختونخوا میں خواجہ سراﺅں کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پولیس بھی خواجہ سراﺅں کو پکڑ کر تھانے میں بند کر دیتی ہے۔

سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا کہ خواجہ سراﺅں کے مسائل معاشرتی ہیں، معاشرے میں خواجہ سراﺅں کو ان کا مقام ملنا چاہیے اور انہیں عام شہری کے طورپر پارلیمان بھی حق نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ سراﺅں کو پارلیمان میں بھی نمائندگی ملنی چاہیے ۔

مزید :

لاہور -