’سب سے بڑے حملے کی تیاری‘ روسی صدر پیوٹن نے اپنا سب سے بڑا ہتھیار عرب ملک پہنچانے کا حکم دے دیا

’سب سے بڑے حملے کی تیاری‘ روسی صدر پیوٹن نے اپنا سب سے بڑا ہتھیار عرب ملک ...
’سب سے بڑے حملے کی تیاری‘ روسی صدر پیوٹن نے اپنا سب سے بڑا ہتھیار عرب ملک پہنچانے کا حکم دے دیا

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک)روس کے شام کی جنگ میں کودنے کے بعد داعش کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اب روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے اس شدت پسند تنظیم کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق ولادی میر پیوٹن نے روس کا سب سے بڑا جنگی بحری بیڑہ بحیرہ روم میں بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس سے قبل بھی روسی بحری بیڑے بحیرہ روم میں موجود ہیں اور وہاں سے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی جا رہی ہے۔ روسی صدر کی طرف سے یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب داعش کی طرف سے دہشت گردی کی دو ہولناک وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ ایک واردات میں بنگلہ دیش میں 20آدمیوں کو ذبح کیا گیا ہے جبکہ دہشت گردی کی دوسری واردات میں بغداد میں 83سے زائد افراد کو خودکش حملے سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔

تیسری عالمی جنگ کا آغاز ?روس نے اپنی فوجیں ایسی جگہ پہنچادیں کہ مغربی ممالک سے تصادم کا بڑا خطرہ پیدا ہوگیا، دونوں جانب تیاریاں زور پکڑگئیں

روسی فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روس کا یہ 55ہزار ٹن کا جنگی بیڑہ اکتوبر میں بحیرہ روم میں پہنچ جائے گا اور جنوری تک وہیں رہے گا۔ بحیرہ¿ روم سے اس بیڑے کو شام میں موجود روسی فوج کے زمینی اڈوں سے منسلک کیا جائے گا۔ ایڈمرل کوزنیسوف (Kuznetsov)نامی طیارہ بردار پر 15سخوئی سو 33جنگی فائٹرجیٹ، 15ایم آئی جی 29جنگی طیارے اور 30جنگی ہیلی کاپٹر بھی بحیرہ¿ روم بھیجے جائیں گے۔روسی فوج کے حملوں سے داعش کو پہلے ہی بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ روسی صدر کے اس اقدام سے شدت پسند تنظیم کا مکمل خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔

مزید :

بین الاقوامی -