پنجاب حکومت کا تا ریخی کارنامہ : شہرِ خموشاں

پنجاب حکومت کا تا ریخی کارنامہ : شہرِ خموشاں
پنجاب حکومت کا تا ریخی کارنامہ : شہرِ خموشاں

  

پنجاب حکومت نے لاہور میں کاہنا کاچھا کے قریب موضع رکھ چیدو میں جدید سائنسی بنیادوں پر قائم قبرستان ’’شہرِ خموشاں‘‘ پراجیکٹ مکمل کرلیا ہے اس نئے قبرستان کا رقبہ تقریباً نوے کنا ل ہے ،جس پر ایک ارب 56کروڑ روپے لا گت آئی ہے ۔ اس کے قیام سے شہر بھر میں مرنے والوں کو تدفین میں آسانی ہو جائے گی ۔ قبرستان کی انتظامیہ کسی بھی مرنے والے کے اہلِ خانہ یا رشتہ داروں کی کال پر میت کو اس کے گھر سے ایمبولینس کے ذریعے لے جانے ، اسے غسل دینے اور تدفین تک کرنے کی پابند ہوگی ۔اس قبر ستان میں جنازگاہ ، وضو خانے ، میت کو غسل دینے کی جگہ اور حسب ضرورت مردے کو چند روز تک محفوظ رکھنے کے لئے سر د خانے، یعنی کولڈ سٹوریج بھی بنائے گئے ہیں ۔ دیگر مذاہب کے لوگوں کے لئے بھی اسی طرح کے قبرستان بنائے جائیں گے ۔ اس کے لئے بھی تیزی سے کام کیا جارہا ہے ۔اس قبرستان میں آٹھ ہزار افراد کو دفن کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، اس قسم کے منصوبے شہر کے دیگر مقامات گلبر گ ،شاہدرہ ،کوٹ کمبوہ اور جلو موڑ میں بھی بنائے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں اس کو مزید وسعت دینے کے لئے سرگودھا میں سوکنال ، فیصل آباد میں نوے کنال، جبکہ ملتان میں باون کنال رقبہ حاصل کیا گیا ہے ۔

لاہور کے ماڈل قبر ستان میں قبروں کی کھدائی کے لئے جدید قسم کی مشینری استعمال کی جائے گی، جو حاصل کرلی گئی ہے، تاکہ قبروں کی کھدائی میں آسانی پیداہوسکے ۔اس کے علاوہ سوگواروں کے خاندان کے افراد اور ان کے عزیز و اقارب کو لانے اور واپس پہنچانے کے لئے بھی جدید ائر کنڈیشنڈ ٹرانسپورٹ سسٹم شروع کیا جارہا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں جس طرح دیگر تقریبات ، شادی بیاہ وغیرہ بے حد مشکل ہو چکے ہیں، اسی طرح ہم نے تدفین کو بھی بے حد مشکل بنادیا ہوا ہے۔ یہ حکومت پنجاب کابہت اہم کارنامہ سمجھا جانا چاہیے۔جنازوں کے جلوس خصوصاً اندرون شہر میں رہائشیوں کو میت دفن کرنے کے لئے سب سے بڑے قبرستان میانی صاحب تک چارپائی پر اٹھا کر لایا جاتا ہے ،جس سے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر ٹریفک میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی تھی۔ جنازے کے ساتھ ایک نوجوانوں کی ٹیم ٹریفک روکنے کے لئے جلوس کے ساتھ چلتی تھی ۔کئی جلوس دوتین میل تک میت کو لے کر پیدل ہی چل پڑتے تھے ، موسم چاہے کتنا گرم ہو یا سرد ،اس کی پرواہ کئے بغیر پیدل جلوس اپنی منزل کی جانب چل پڑتا تھا ۔اب کچھ عرصے سے لوگوں نے محسوس کیا کہ شہر کے کسی بھی حصے میں میت کو پیدل لے جانا مشکل کام ہے اور چند نوجوان ہی میت کو کندھا دیتے دیتے تھک جاتے تھے ، وہ بھی اب کم ہوتے جارہے ہیں۔

کچھ مخیر لوگوں نے ہر علاقے میں بڑے بڑے ڈالے بنا لئے ہوئے ہیں ، جن پر جنازہ بھی رکھا جاتا ہے اور ساتھ کچھ لوگ بھی اس پر کھڑے ہو کر قبرستان پہنچ جاتے ہیں ، چند لوگ موٹر سائیکلوں پر اور کچھ اپنی گاڑیوں پر قبرستان میں پہنچ جاتے ہیں۔ پہلے عید گاہ یا جنازگاہ میں نمازِ جنازہ پڑھی جاتی ہے ،اس کے بعد قریبی عزیز و اقارب قبروں تک ایک با ر پھر میت دفنانے جاتے تھے، جس پر بہت وقت صرف ہوتا ہے، اس کے بعد قبرستان میانی صاحب میں جگہ کا حصول بذات خود ایک بہت مشکل کام ہے ۔قبرستان میں بعض لوگوں نے الگ الگ احاطے لے رکھے ہیں، جہاں ان خاندانوں کے سوا کسی دوسرے کو دفنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔یہاں بھی امیر اور غریب کا نمایاں فرق نظر آتا ہے ۔قبر ستان میانی صاحب میں کئی گور کن حکومت کے مقر ر کردہ ہیں ، جو سرکاری فیس کے علاوہ اپنی ذاتی فیس کے بغیر جگہ نہیں دیتے اور اگر کوئی ان کی مٹھی گرم کردے تو فوراً جگہ بنادیتے ہیں جس طرح ہم نے زندہ رہنا مشکل بنارکھا ہے۔ اتنا ہی مرنا بھی مشکل ہے ۔آج کل کسی شخص کو قبرستان میں دفنانے تک کم ازکم بیس سے پچیس ہزار روپے خرچ آجاتاہے ۔ایک زمانہ تھا جب شادی ہال نہیں ہوتے تھے تو ہر شخص بغیر سرکاری اجازت سڑک بند کرکے شامیانے لگا کر شادی بیاہ کے لئے دو سے تین روز تک سڑک بند رکھتے تھے ، اسی طرح کسی کے فوت ہونے پر بھی سڑک بند کرکے شامیانے لگانے کا رواج چلا آرہا ہے۔

ان قبرستانوں کے لئے محترم سلمان صوفی صاحب کو ڈائرکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ ان سے گزارش ہے کہ ان قبرستانوں میں تمام قبروں کاسائز ، ڈیزائن اور اس پر کتبہ بھی مساوی رکھنے کے احکامات جاری فرمائیں ۔کہیں ایسانہ ہوکہ امیر اور غریب کافرق قبرستانوں میں بھی نظر آنا شروع ہوجائے۔اس سلسلے سرکاری فیس اگر رکھی جائے تو سب کے لئے یکساں ہو، جس طرح گاڑیوں کی نمبرپلیٹ میں یکسانیت ہے اور حکومت خود بنا کردیتی ہے، اسی طرح قبروں کے لئے کتبے بھی حکومت خود بنا کر دے اور اس کی ایک یکساں قیمت مقر ر ہو ۔قبرستان میانی صاحب میں انہی حکومتی کوتاہیوں کے نتیجے میں غربت اورامارات کا فرق واضح نظرآتا ہے،جس کا بڑاسبب سرکاری احکامات ہیں کہ کچی قبر کی فیس ،پکی قبر کی فیس ،سنگ مرمر لگانے کی لگ فیس، حتیٰ کہ مقبر ہ ٹائپ کی چھت بنانے کی بھی الگ الگ فیسوں کی وجہ سے سرمایہ دار حضرات نے قبرستانوں میں بھی اپنی انفرادیت قائم کر رکھی ہے ۔اگر الگ الگ فارمولے دیئے گئے تو ان ماڈل قبرستانوں میں بھی امیر اور غریب کا فرق نظر آنا شروع ہو جائے گااور اگر ہر قبر کے لئے یکساں سائز اور ڈیزائن مقرر کیا گیا توکم ازکم شہر خاموشاں میں تو طبقاتی فرق ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا۔احاطے الاٹ کرنے پر بھی پابندی لگائی جائے ۔اگرچہ زندگی میں تو موجودہ نظام کے تحت ایسا ممکن نظرنہیں آتا کہ طبقاتی کش مکش کا خاتمہ کیا جاسکے ،تاہم قبر ستانوں کا نظم و نسق حکومت میں آجانے کے بعد تو ایسا ممکن ہوسکتا ہے کہ شہر خاموشاں کے وہ مکین جو زندگی میں تو وہ آسائشیں اور انصاف حاصل نہیں کرسکے،ابدی زندگی میں حاصل کرلیں گے ۔اللہ حکومت کو جزادے ۔ عوام تدفین کے لئے شہرخموشاں اتھارٹی کے لئے اس نمبر پر کال کریں۔۔۔ 0303-8438951

مزید :

کالم -