نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (3)

نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (3)
 نواز شریف، پولینڈ کی قرارداد اور مہاجر کوٹہ (3)

  

دلچسپ بات یہ ہے کہ پڑھی لکھی ہنر مند اور تجربہ کار مہاجر کمیونٹی کو میرٹ پر ملازمت دینے کے لئے چودھری صاحب کا دُکھ صرف سندھ تک ہی محدود رہا۔ انہیں اعلیٰ درجے کی وفاقی ملازمتوں کا خیال نہ آیا، جن میں سندھیوں کا کوٹہ صرف19فیصد ہے اور اس میں سے بھی 40فیصد مہاجروں کا ہے، جبکہ پنجاب کا کوٹا50فیصد ہے، جس میں کسی اور کا حصہ نہیں، جبکہ میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں صرف ساڑھے سات فیصد کو ملتی ہیں، تو اِس لحاظ سے کیا یہ کہنا جائز ہو گا کہ اعلیٰ درجے کی وفاقی ملازمتوں میں سندھی وڈیروں کے نالائق بچوں کو صرف 19فیصد (بلکہ اس کا بھی 60فیصد) حصہ ملتا ہے، جبکہ 50 فیصد پنجاب کے چودھریوں کے نالائق بچے لے جاتے ہیں؟ یہ کس قدر احمقانہ دعویٰ ہو گا جس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔سندھ میں کوٹہ سسٹم کی ضرورت کس لئے پیش آئی اِس کا جواب ہر اُس شخص کو جاننے میں دشواری پیش نہیں آئے گی،جو سندھ کی تاریخ سے ذرا سا بھی واقف ہو اور اسے یہ معلوم ہو کہ صوبہ سندھ میں تو پاکستان اُسی وقت بن گیا تھا جب وہ1930ء میں مسلمانوں کے ایک صوبے کی حیثیت سے زبردست جدوجہد کے بعد سندھ کی پریذیڈنسی سے الگ ہوا تھا، لیکن جہاں لوگوں کے ذہنوں میں یہ بھی واضح نہ رہنے دیا گیا ہو کہ پاکستان کیوں بنا تھا اور مذہبی جماعتوں نے ایک منظم پروگرام کے تحت اس بات پر پوری قوم کوکنفیوژ کر دیا ہو کہ پاکستان بنانے کا مقصد کیا تھا اور کسی میں یہ سوال کرنے کی جرأت بھی نہ رہی کہ اگر یہ اسلام کے نام پر بنا تھا تو بشمول جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمن کے والد کی جماعت جمعیت العلمائے ہند کے بیشتر مذہبی جماعتوں نے تحریک پاکستان کی مخالفت کیوں کی تھی اور پاکستان میں اسلامی نظام کے لئے زور لگانے والی جماعت اسلامی ہندوستان میں سیکولر ازم کی حمایت کیوں کرتی ہے؟وہاں سندھ کی تاریخ کے بارے میں درست آگاہی کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

بہرحال اس ضمن میں حقائق یہ ہیں کہ جب پاکستان بنا تو صرف دو صوبے ایسے تھے جن میں ذریعہ تعلیم مقامی زبانیں تھیں۔ ایک بنگال اور دوسرا سندھ، چنانچہ دونوں صوبوں میں زبان اور ثقافت کے حوالے سے مرکز کے غلبے کے خلاف مزاحمت دیکھنے میں آئی۔ سندھ میں سندھی سے محبت اِس لئے بھی تھی کیونکہ انگریزوں کے دور میں وہ بمبئی انتظامیہ کے غلبے کے خلاف جدوجہد کا حصہ تھی۔عالمی شہرت کے حامل پروفیسر طارق رحمن ’’گوگل‘‘ پر پی ڈی ایف کی شکل میں دستیاب اپنے تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ سندھ کے مسلمان لیڈر سندھ کو بمبئی کی پریذیڈنسی سے اس بنا پر علیحدہ کرنا چاہتے تھے کہ زبان اور ثقافت کی حیثیت سے اس کی علیحدہ اور ممتاز شناخت تھی،جبکہ ہندو یہ سمجھتے تھے کہ اگر ایسا ہوا تو صوبے میں مسلمانوں کی اکثریت ہو گی اور وہ اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔ یہ بظاہر ایک انتظامی معاملہ تھا، لیکن اس میں ہندو مسلم کشمکش کا تناؤ بھی تھا۔سندھی زبان اس لحاظ سے جدوجہد کا حصہ تھی کہ سندھی یہ سمجھتے تھے کہ یہ زبان انہیں جو شناخت دیتی ہے وہ بمبئی سے مختلف ہے، جبکہ ہندوؤں کا کہنا تھا کہ اس بنیاد پر سندھ کی علیحدگی بمبئی کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کردے گی۔ بالآخر مسلمان جیت گئے اور سندھ 1930ء میں علیحدہ صوبہ بن گیا، جس کا ایک بڑا فائدہ سندھ یونیورسٹی کا قیام تھا، جو1946ء میں وجود میں آئی۔ تقسیم سے قبل ایک موقع پر بمبئی پریذیڈنسی میں اُردو کے ذریعے تعلیم کے طور پر نفاذ اور اس کے فروغ کی تجویز پیش کی گئی تھی جسے سندھ کے عوام اور اُن نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا،چنانچہ مسلمانوں کے نمائندوں اور انگریز افسروں کی سفارشات کی روشنی میں فیصلہ ہوا تھا کہ سِندھی کو ذریع�ۂ تعلیم رہنے دیا جائے اور فارسی و عربی کے فروغ کے لئے اقدامات کئے جائیں۔(جاری ہے)

اس پس منظر میں سندھ یونیورسٹی کے قیام کا مقصد ڈاکٹر بخشانی کے الفاظ میں یہ تھا کہ ’’سندھ شاید ہندوستان کا سب سے پرانا صوبہ ہے اس کی اپنی تاریخ ثقافت اور روایات ہیں۔ اس کی نسلوں اور زبانوں کو شرقی امتیاز حاصل ہے۔ اس کی زمین اور پتھروں سے اس کی قدیم تحریکیں اور جغرافیائی تبدیلیاں اگلوائی جا سکتی ہیں۔ یہ سب غیر دریافت شدہ پڑا ہے اور عربی، فارسی اور سندھی زبانوں کو ان کی زبان دانی کے ورثے سمیت دریافت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی، چنانچہ1947ء میں صورتِ حال یہ تھی کہ سندھ یونیورسٹی کو پشت پر لٹے ہوئے سندھی زبان کی پوزیشن مضبوط تھی۔سندھ میں یہ عدالتوں، انتظامیہ اور صحافت کی زبان تھی، جہاں اس کی بڑی مانگ تھی اور جو شخص سندھی زبان میں تعلیم حاصل کر لیتا اسے آسانی سے ملازمت مل سکتی تھی۔تمام سکولوں میں ذریعہ تعلیم سندھی زبان تھی اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں مختلف سطحوں پر مطالعہ کا مضون بھی تھی۔ قیام پاکستان کی تحریک میں بھی سندھ پیش پیش تھا اور یہ واحد صوبہ تھا، جس کی اسمبلی نے1945ء میں پاکستان کے حق میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی سندھیوں نے مہاجروں کا آگے بڑھ کر خیر مقدم کیا تھا اور کراچی مہاجروں کے لئے پی آئی بی کالونی سندھ کے وزیراعلیٰ پیر الٰہی بخش نے بنوائی تھی۔کراچی کو کیونکہ پاکستان کا دارالخلافہ بنایا گیا تھا، اِس لئے پاکستان کے حق میں رضا مندی ظاہر کرنے والے تمام سرکاری ملازمین بھی کراچی پہنچے اور ان کے آگے پیچھے یوپی وغیرہ سے اُردو بولنے والوں کی بڑی تعداد بھی کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں آ پہنچی، جن میں سے اکثر اس وجہ سے تعلیم یافتہ اور ہنر مند تھے کہ یوپی کے مسلمانوں نے جہاں علی گڑھ یونیورسٹی سے تحریک پاکستان اٹھی تھی، سر سید احمد خان کی اپیل پر تعلیم حاصل کرنے پر خاطر خواہ توجہ دی تھی، جس کی بنیاد پر ان میں کئی کو انگریزی راج میں سرکاری ملازمتوں کا تجربہ بھی حاصل ہو گیا تھا، جس سے انہیں پاکستان کے انتظامی معاملات چلانے میں بڑی مدد ملی۔ہندوستان سے اُردو بولنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد میں آمد سے سندھ کے شہروں میں آبادی کا تناسب غیر معمولی طور پر تبدیل ہو گیا۔1951ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی میں ان کی آبادی57فیصد، حیدر آباد میں 66فیصد، سکھر میں54فیصد، میرپور خاص میں 65فیصد اور نواب شاہ میں54فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ چنانچہ اُردو بولنے والوں کی سندھ کے شہروں میں یکایک اکثریت کا مطلب یہ تھا کہ سندھی نہ صرف ثقافتی اور سماجی طور پر، بلکہ تعلیمی اور معاشی طور پر بھی نقصان میں ر ہیں گے،بلکہ نوکریوں کے لئے انہیں اُن سے مقابلہ کرنا پڑے گا ،جن کی مادری زبان اُردو ہے۔یہ کتنا بڑا نفسیاتی دھچکا تھا اس کا غیر سندھی اندازہ نہیں کر سکتے۔ یہ احساس کہ وہ گھاٹے میں آ گئے ہیں اور اپنے ہی صوبے میں ان کی مٹی پلید ہو گئی ہے۔ نئی سندھی مڈل کلاس کے لئے ایک پھوڑے کی طرح تکلیف کا باعث تھا، صرف نوکری اور طاقت کے لحاظ سے نہیں، بلکہ عزتِ نفس کے لحاظ سے بھی۔ کسی کے دِل میں یہ خیال کہ اس کی زبان دیہاتی اور گنواروں والی زبان ہے اسے ذلت کا احساس دِلانے کے لئے کافی ہے۔اُردو بولنے والوں نے بھی کبھی یہ بات چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ سندھ کی ثقافت کو ایک دیہاتی، چنانچہ کم درجے کی ثقافت سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نفسیاتی طور پر بھی اپنی نظرمیں اس کم تر کلچر سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش نہیں کی۔اس حوالے سے ایک مہاجر نقطہ نظر بھی ہے، جس کو سمجھنے کے لئے یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔انیسویں صدی میں اُردو نے شمالی ہندوستان میں تعلیم یافتہ اشرافیہ کی علامت کے طور پر فارسی کی جگہ لے لی تھی اور ہندوؤں و مسلمانوں کے درمیان کشمکش کے نتیجے میں مسلمانوں کی شناخت بن گئی تھی، چنانچہ یو پی سی بی سے پاکستان آنے والے مسلمانوں کے دِلوں میں یہ تاثر عام تھا کہ پاکستان میں اُردو کو تحفظ اور فروغ دیا جائے گا۔ مقامی زبان کی خاطر اُردو کی اہمیت کو کم کرنے کا خیال اس تصور کے منافی تھا جو وہ اُردو کے برصغیر کے تمام مسلمانوں کی زبان پر ہونے کے بارے میں سنتے چلے آ رہے ہیں۔اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ہندوستان

مزید :

کالم -