شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر89

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر89
شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر89

  

حاجی عبدالرحیم دلشاد نوشاہی نے حضرت ابو الکمال برقؒ سے سلسلہ نوشاہیہ کی خلافت حاصل کی تھی اور پھر آپؒ کی ہدایت پر طریقت کو اس کے شرعی تقاضوں اور اصولوں کے مطابق تبلیغ کا ذریعہ بنا کر سالکین کی ظاہری و باطنی خدمت کرتے آ رہے ہیں۔ وہ 1957ء میں برطانیہ آئے تھے۔ ان کے والد اور دادا سلسلہ نوشاہی کے بزرگ حضرت پیر عید فقیر محمد شاہ نوشاہی کے مرید تھے۔ حضرت پیر سید فقیر محمد شاہ حضرت پیر سید معروف حسین شاہ عارف قادری نوشاہی کے سسر تھے۔ حاجی عبدالرحیم دلشاد گوجر خان کے ایک گاؤں اسلام پورہ جبر پیم نوشاہیاں کے رہنے والے تھے مگر برسوں پہلے برطانیہ میں قیام اختیار کرنے کے بعد وہ یہیں مستقلاً قیام پذیر ہو گئے تاہم دل میں اسلام اور طریقت سے محبت ہمیشہ موجزن رہی۔ شروع میں اس کیلئے وہ تگ و دو بھی کرنا چاہتے تھے لیکن اس دور میں برطانیہ میں ڈربی جیسے شہر میں خال خال ہی کوئی مسلمان ملتا ہو گا۔ 1963ء میں انہیں معلوم ہوا کہ خاندان نوشاہیہ کے چشم و چراغ حضرت پیر سید معروف حسین شاہ عارف قادری نوشاہی بریڈفورڈ میں موجود ہیں تو ایک روزہ وہ آپ کی خدمت میں پیش ہو گئے۔ حاجی عبد الرحیم دلشاد نوشاہی صاحب سے راقم کی فون پر بات ہوئی تو فرمانے لگے ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ نوشہ پاکؒ کی اولاد پاک بریڈ فورڈ میں موجود ہے تومیرے اندر روحانی تڑپ پیدا ہوئی اور میں تلاش کرتا ہوا پیر صاحب کی خدمت میں پیش ہو گیا۔ میرے لئے آپ کی موجودگی بہت بڑی نعمت تھی۔ میں آپ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ کو دیکھتے ہی مجھے قلبی طور پر سکون مل گیا۔ ایک روحانی وجد اور اطمینان سی کیفیت تھی۔ میں سلسلہ نوشاہیہ کا بے حد عقیدت مند تھا مگر میں نے ابھی کسی بزرگ کی بیعت نہیں کی تھی تاہم باپ دادا سے اس روحانی وابستگی کے باعث مجھے سالکانہ تسکین ملتی رہتی تھی۔ ہم نے ڈربی میں ایک گھر لیکر وہاں مسجد بنائی تھی اور درودوسلام کی محافل کے بعد میں اپنے بزرگوں کیلئے بالخصوص دعا کیا کرتا تھا۔ میری یہ تمنا بھی تھی کہ مسجد میں کوئی مستقل امام رکھ کر باقاعدہ ظاہرو باطن کا کام کیا جائے۔ میں نے پیر صاحب کے حضور اپنے دل کی بات بیان کی تو آپ نے فرمایا کہ رابطہ رکھئے گا، انشاء اللہ رب کریم اسباب پیدا فرمائیں گے۔ پھر کچھ عرصہ بعد پیر صاحب نے ہماری مسجد کیلئے بھارت سے آئے ایک عالم دین امام کا بندوبست کر دیا۔ ان کا نام قاری محمد اسماعیل ٹنگاروی تھا۔ پیر صاحب نے ان کا باقاعدہ امتحان لیا۔ اس طرح کہ آپ نے قاری صاحب کی اقتدا میں نماز ادا کی اور پھر ان کا وعظ بھی سنا۔ اس کے بعد آپ نے مجھے بلایا اور کہا ’’دلشاد صاحب آپ کیلئے ایک اچھے امام کا بندوبست کر دیا ہے۔ ان کے عقائد بھی درست ہیں اور آپ کیلئے بہتر رہیں گے۔ آپ اپنی کمیٹی کے ارکان کو بلا لیجئے اور ان کی موجودگی میں قاری صاحب سے معاملات طے کر لیں‘‘۔ پیر صاحب کی ہدایت پر عمل کیا اور الحمد اللہ قاری محمد اسماعیل ٹنگاروی برسوں تک ڈربن کی مسجد میں امامت کے فرائض ادا کرتے رہے۔ پیر صاحب نے ہماری مسجد کیلئے دینی کتب بھی فراہم کیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت پیر سید معروف حسین عارف قادری نوشاہی نے برطانیہ میں جس اہتمام اور نظم کے ساتھ دین کی خدمت انجام دی، اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ آپ نے اسلامی ممالک سے علمائے دین کو برطانیہ بلا کر انہیں اشاعت دین کا موقع دیا اور پھر انہیں برطانیہ میں ہی قیام اختیار کرنے کیلئے تعاون فراہم کیا۔ پیر صاحب کی شخصیت نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ آپ انتھک اور اپنے کام سے عشق کرتے ہیں۔ آپ کے کام کا محور دین و طریقت کی اشاعت رہا ہے۔آپ نے پورے یورپ میں تبلیغ اسلام کی ہے۔ آپ کی ان خوبیوں پر مفصل کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ قسط نمبر88  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پیر صاحب حقیقت میں منکسر المزاج اور نرم انسان ہیں۔ چھوٹوں سے بے حد پیار کرتے ہیں۔ ہر ایک کا احترام کرتے ہیں۔ آپ نے کبھی بڑائی سے کام نہیں لیا۔ کسی دنیاوی لالچ کے تحت کام نہیں کرتے اور یہ حقیقت سب پر آشکار ہے۔ میں نے اپنے معاملات ہمیشہ پیر صاحب کے ساتھ شیئر کئے ہیں۔ 1970ء میں جب میں نے حج کا ارادہ کیا تو پیر صاحب نے مجھے گراں قدر معلومات دیں اور فرمایا’’ آپ جوانی میں حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کا یہ حج انشاء اللہ قبول فرمائے گا‘‘۔ پیر صاحب نے مجھے مدینہ پاک میں موجود ایک صاحب کمال شخصیت حضرت مولانا ضیا الدین مدنیؒ سے ملاقات کی بھی تلقین کی۔ حضرت مدنیؒ شاہ احمد نورانی کی زوجہ محترمہ کے دادا تھے اور الیاس قادری کے مرشد۔

مجھ پر پیر صاحب نے ہمیشہ شفقت فرمائی۔ ایک روز دل میں خیال پیدا ہوا کہ واہ دلشاد برسوں سے سلسلہ نوشاہیہ سے وابستہ ہو اور روحانی مزے بھی لیتے ہو مگر آج تک تم نے کسی بزرگ کی بیعت نہیں کی۔یہ خیال آتے ہی میں حضرت پیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی تو آپ نے فرمایا ’’کیا آپ نوشاہی نہیں ‘‘۔

’’جی حضور میں پیدائشی نوشاہی ہوں‘‘

’’تو پھر بیعت کی ضرورت کیونکر پیش آ گئی‘‘۔ پیر صاحب نے دریافت کیا۔

عرض کیا ’’میں تن من سے نوشاہی ہوں حضور لیکن آج تک کسی بزرگ کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیا‘‘۔ میں نے اس روز پیر صاحب کے دست مبارک پر بیعت کی اور پھر کئی سال بعد جب آپ کے مرشد اور بڑے بھائی حضرت ابوالکمال برقؒ بریڈفورڈ تشریف لائے اور میرے روحانی معمولات دیکھے تو آپؒ نے مجھے خلافت عطا فرما دی۔ اس روز کے بعد میں نے مسجد اور گھر میں محافل کا انعقاد شروع کیا اور بزرگوں کے معمولات کے مطابق کلمہ شریف، یارحمٰن یارحیم، درودشریف، شجرہ شریف، قصیدہ غوثیہ، نعت شریف پڑھ رہے ہیں اور نوجوان نسل کو طریقت کے آداب و ذکر کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں۔ میرے مرشد گرامی فرماتے ہیں ’’دین کی دعوت بہت بڑا مجاہدہ ہے‘‘۔ دین کی تبلیغ اور صوفیانہ خدمات ادا کرنے والوں کو چلے مرقبے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اللہ ان پر اپنی رحمت عطا فرمائے ،ان کی نسبت سے ہمیں نوشہ پاکؒ سے جو روحانی فیضان حاصل ہوا ہے، اس کو اگلی نسلوں تک پہنچانا ہمارا فرض ہے اور یہ فرض جمعیت تبلیغ الاسلام کے پلیٹ فارم سے ادا کر رہے ہیں۔ (جاری ہے)

شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی۔ ۔ ۔ آخری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ