امریکی صدر نے نیکی کرنے کا سوچ لیا، ایک ایسے بچے کی حمایت میں سامنے آگئے کہ سب عش عش کر اٹھے

امریکی صدر نے نیکی کرنے کا سوچ لیا، ایک ایسے بچے کی حمایت میں سامنے آگئے کہ سب ...
امریکی صدر نے نیکی کرنے کا سوچ لیا، ایک ایسے بچے کی حمایت میں سامنے آگئے کہ سب عش عش کر اٹھے

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کسی نیک کام کی توقع کم ہی کی جاتی ہے لیکن موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ایک برطانوی بچے کو دیکھ کر انہیں بھی رحم آگیا ہے اور انہوں نے امریکہ میں اس کے علاج کی پیشکش کردی ہے۔

ویب سائٹ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق یہ بچہ ایک خطرناک جینیاتی بگاڑ کا شکار ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے اس کے مزید علاج کو بے فائدہ قرار دے کر اس کی لائف سپورٹ مشین ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ چارلی گارڈ نامی اس بچے کی حالت کے بارے میں پتہ چلنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا ”اگر ہم ننھے چارلی گارڈ کی مدد کیلئے کچھ کرسکتے ہیں تو ہمیں ایسا کرکے خوشی ہوگی۔“

امریکی صدر کو سی این این بالکل پسند نہیں، یہ بات بتانے کیلئے انہوں نے ایک ایسی ویڈیو جاری کردی جس کی آپ کو ان سے بالکل توقع نہ ہوگی

دس ماہ کا یہ بچہ انتہائی کمیاب مائٹو کانڈریل بیماری کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کا دماغ شدید متاثر ہوچکا ہے۔ اس کے والدین برطانوی عدالتوں اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں اسے مشینوں کے ذریعے مزید زندہ رکھنے کا کیس ہارچکے ہیں اور اب وہ اسے ایک نئے تجرباتی علاج کیلئے امریکہ لیجانے کیلئے کوشاں ہیں۔ چارلی گارڈ کی بیماری نے پوپ فرانسس کو بھی افسردہ کردیا اور انہوں نے بھی ننھے بچے کی صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔ ویب سائٹ ’گو فنڈ می‘ کے ذریعے ننھے چارلی کیلئے 1.7 ملین ڈالر (تقریباً 17 کروڑ پاکستانی روپے) کے عطیات جمع کئے جاچکے ہیں تاکہ اسے علاج کیلئے امریکہ لیجایا جاسکے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل برطانوی عدلت فیصلہ دے چکی ہے کہ ننھے بچے کو مزید زندہ رکھنے کی کوشش اس کی تکلیف میں مزید اضافے کے مترادف ہوگی کیونکہ اس کے عضلات کی کمزوری دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور اس کا دل بھی رفتہ رفتہ کمزور پڑتاجارہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -