بروقت، صاف شفاف الیکشن

بروقت، صاف شفاف الیکشن
بروقت، صاف شفاف الیکشن

  

عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور جمہوری اور سیاسی استحکام کے لئے انتخابات وقت پر ہونا ضروری ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں جہاں وقت پر الیکشن ہوتے رہتے ہیں، وہاں جمہوریت مستحکم ہے، وطن عزیز میں جو سیاسی اور جمہوری عدم استحکام ہے، اس کی بڑی وجہ طویل عرصہ تک آمریت کا دور ہے، جس کی وجہ سے الیکشن بھی کم ہوئے ہیں۔ اس کا واحد حل اوپر تلے چار پانچ الیکشن ہیں جو منصفانہ بھی ہوں۔

اس طرح لوگوں کی سیاسی تربیت ہو جاتی ہے اور جمہوریت کا تسلسل بھی قائم رہتا ہے۔ جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کو کام کرکے دکھانا پڑتا ہے، کیونکہ لوگ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔

یورپ میں جمہوریت کامیاب ہے، کیونکہ وہاں اس کے تقاضے پورے کئے گئے ہیں، مثلاً وہاں معاشی خوشحالی ہے اور تعلیم بھی عام ہے، اسی وجہ سے وہاں الیکشن شفاف ہوتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں تو مرغ بریانی کی ایک ایک پلیٹ کھلا کر ووٹ لئے جاتے ہیں، دیہاتوں میں بھی ووٹ خریدے جاتے ہیں۔

یہ جمہوری طرزِ حکومت کی ایک خامی ہے، لیکن ماہرینِ سیاسیات کہتے ہیں کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہے، اس طرزِ حکومت کی خاص بات یہ ہے کہ لوگ اپنے آپ کو کاروبارِ حکومت یا حکومتی معاملات میں شریک محسوس کرتے ہیں اور عوام کے نمائندے الیکشن جیت کر حکومت میں آتے ہیں، گزشتہ دواڑھائی عشروں سے جو انتخابات ہو رہے ہیں، اس وجہ سے لوگوں میں قدرے سیاسی بیداری پیدا ہوئی ہے اور لوگ (سیاسی) جلسوں میں بڑے ذوق و شوق سے جاتے ہیں اور الیکشن کے دن بھی یہی جذبہ نظر آتا ہے۔

سیاسی پہلوان اکھاڑے میں اُتر آئے ہیں۔اس سیاسی دنگل کا سب سے بڑا مرکز لاہور ہوگا۔

نگران حکومتوں نے بیوروکریسی میں جو اکھاڑ پچھاڑ کی ہے، اس کے الیکشن پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ افسران کا اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اثرورسوخ پیدا کرتے ہوئے کچھ وقت لگ جاتا ہے، بہر حال بیوروکریٹس کی بڑی اہمیت ہے۔

وزراء آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن یہ اپنی سیٹوں پر براجمان رہتے ہیں۔ ان کی ملازمت کے دوران کئی انتخابات کا انعقاد ہوچکا ہوتا ہے، بیوروکریٹس میں بڑا اتحاد ہے اور یہ ایک ادارے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

ان کے آپس میں بڑے روابط ہوتے ہیں وہ سونگھ(Smell) لیتے ہیں کہ کون سی سیاسی جماعت الیکشن میں جیتے گی۔ غرضیکہ جب تک سرکاری مشینری آزاد اور منصفانہ الیکشن کروانے میں اپنا کردار ادانہیں کرتی، نگران حکومتیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

شفاف الیکشن کروانے میں عدالت عظمیٰ کا بھی کردار ہے، ماضی میں اس نے جمہوریت کے استحکام کے لئے کچھ اقدامات کئے ہیں۔ پہلے الیکشن کمیشن کا فارم سادہ ہوتا تھا، لیکن اب عدالت عظمیٰ نے ساتھ بیان حلفی لگانے کی بھی شرط عائد کردی ہے یہ ادارہ بھی چاہتا ہے کہ انتخابات 2018ء بروقت ہو جائیں، تاکہ جمہوری عمل جاری و ساری ہو جائے۔ ہر شہری کی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ پولنگ سٹیشن پر ووٹنگ کے سلسلہ میں کوئی دھاندلی یا گڑبڑ ہوتی دیکھے تو فوراً (پریزائڈنگ) آفیسر کو اطلاع دے،کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہیے۔

عام حالات میں اور انتخابات کے موقع پر تو خاص طور پر ایک عام شہری بھی اگر کوئی جرم ہوتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیے کہ اس کی اطلاع فوری طور پر مجاز اتھارٹی کو دے۔

ہر شہری کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی امیدوار کوووٹ دینے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لے اور اُس کے متعلق ضروری معلومات حاصل کرے کہ وہ دیانت دار ہے، باکردار ہے اور اس سیٹ کے لئے اہل ہے اور یہ کہ کیا وہ کامیاب ہو کر عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرے گا؟ اور کیا وہ ملکی مفادات کا بھی خیال رکھے گا؟

مزید :

رائے -کالم -