کراچی کو لاہور بنانے کا عزم

کراچی کو لاہور بنانے کا عزم
کراچی کو لاہور بنانے کا عزم

  

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں کراچی میں تاجروں صنعتکاروں سمیت مختلف طبقات سے ملاقاتیں کیں، اس موقع پر پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ نے اُمید افزا اعلان کیا کہ موجودہ الیکشن میں کامیابی کی صورت میں وہ کراچی کے تمام بڑے مسائل حل کرکے اسے لاہور کی طرح عوامی سہولتوں کا ترقی یافتہ شہر بنا دیں گے۔

اعلان چونکہ پنجاب کی ترقی کے معمار میاں محمد شہباز شریف کی طرف تھا، اس لئے کراچی کے تاجروں صنعتکاروں طالب علموں ماؤں بہنوں اور بیٹیوں نے اسے پوری توجہ اور انہماک سے سنا۔ کراچی کسی دوسرے ملک کا شہر نہیں، بلکہ پاکستان کا اپنا شہر ہے۔

پاکستان کے کسی علاقے یا شہر کی ترقی کی خبر بہت جلد دوسرے علاقوں اور شہروں تک پہنچ جاتی ہے۔ قائد اعظمؒ کی قیادت میں پاکستان وجود پذیر ہوا تو کراچی نوزائیدہ مملکت کا پہلا دارالحکومت بنایا گیا۔

پاکستان کی محبت میں گھر بار اور جائیدادیں چھوڑ کر ہجرت کرنے والے خاندانوں کی محبتوں کا پہلامرکز کراچی بنا۔ ہزاروں خاندان کراچی میں آباد ہوئے۔ بانی پاکستان حضرت قائد اعظمؒ کراچی میں ہی ابدی نیند سو رہے ہیں۔

پاکستان دشمن ایجنٹوں نے مہاجرین کے جذبات و احساسات کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا۔ بھتہ خوری عام کی، اغوا برائے تاوان روزز کا معمول بنایا، بھتہ میں تساہل کی صورت میں متعلقہ تاجرو صنعتکار کی لاش گھر یا دکان کے سامنے پڑی ملتی تھی۔ بدخواہ لیڈروں نے ہجرت کا تقدس پامال کرنے اور اسے لوگوں کی نظروں سے گرانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

ایک وقت آیا کہ انڈین ایجنٹ نے لندن بیٹھ کر پاکستان کو گالیوں سے نوازنا شروع کر دیا،اس طرح کیمو فلاج ملک دشمن کے چہرے سے غازہ اتر گیا، پاکستان میں موجوداپنی پارٹی سے ہمیشہ کے لئے پتہ کٹوا بیٹھا ۔ میاں محمد نواز شریف نے رینجرز کے جوان جذبوں کی طاقت سے بھتہ خوروں اغوا برائے تاوان کرنے والوں اور آئے روز کراچی کی سڑکوں کو انسانی خون سے رنگیں بنانے والوں سے کراچی کو پاک کیا۔

انڈین ایجنٹ کے گمراہ کن خیالات سے مہاجرین کو نجات ملی۔ کراچی کے بازاروں کی رونقیں اور شہر کی روشنیاں بحال ہوئیں۔ کراچی کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ ہوئی۔ حکمرانوں کی تغافل شعاریوں سے کراچی گندگی کاڈھیر بن چکی ہے، اتنی گندگی اور کچرا کہ میٹرو پولیٹن انتظامیہ اسے اٹھانے سے قاصر ہے۔ سوریج سسٹم ناکارہ ہوچکا ہے۔ بارش ہو جائے تو پانی کی نکاسی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کے لئے وبال جان بن جاتا ہے۔

ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر لڑکھڑاتی بسیں ہمہ وقت حادثات سے بغل گیر ہونے اور انسانی جانوں کے لئے موت کا پیغام دینے کے لئے تیار رہتی ہیں۔2013 ء کے الیکشن کے بعد جب سندھ میں حکومت وجود پذیر ہوئی انہی دنوں میاں محمد شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے، دونوں صوبوں کے دارالحکومتوں یعنی کراچی اور لاہور میں عوامی سہولتوں کا فقدان تھا، پنجاب میں بجلی کی شدید قلت اور لوڈ شیڈنگ کا راج تھا۔

میاں محمد شہباز شریف نے دھرا دھڑ بجلی کے منصوبے شروع کئے، جن سے 2018ء آنے تک بجلی ملنا اور کار خانے چلنا شروع ہوگئے۔ دوست ملک ترکی کے تعاون سے صوبائی دارالحکومت میں صفائی ستھرائی کا نظام بہتر بنایا گیا۔ لاہور اسلام آباد راولپنڈی اور ملتان میں میٹرو بس چلاکر عوام کے لئے آسان سہل اور سستی ترین ٹرانسپورٹ سہولت مہیا کردی گئی ہے، اب عوام کو کسی بس سٹاپ پر گھنٹوں سواری کا انتظار نہیں کرنا پڑتا، بلکہ بس کو سواریوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ پنجاب میں موٹرویز نے فاصلے کم کر دیئے ہیں، یہاں تک کہ لوگ موٹروے کو جہاز پر ترجیح دیتے ہیں۔

گونا گوں مسائل میں لتھڑے کراچی میں کھڑے ہوکر جب پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ نے کراچی کو لاہور بنانے کے عزم کا اظہار کیا تو یقینی طور پر کراچی کے لوگوں نے اس اعلان کو اُمید کی روشنی قرار دیا ہوگا، اس لئے کہ اعلان کرنے والا کوئی اور نہیں، بلکہ میاں محمد شہباز شریف ہے، جس نے دن رات محنت کرکے پانچ سال کے عرصے میں پنجاب اور لاہور کو عوامی سہولتوں سے ہم آغوش کیا ہے، جو بات کرتے ہیں، اس پر پورا اترتے ہیں،جو کام شروع کرتے ہیں، اسے مکمل کرکے چھوڑتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ سی پیک اور اورنج ٹرین کے منصوبے اس کی زندہ مثالیں ہیں، میاں محمد شہباز شریف کا کمال یہ ہے کہ اپنے عوام سے سیاست نہیں کھیلتے، بلکہ بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کرتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -