واہ! یہ سادگی اور خدا ترسی

واہ! یہ سادگی اور خدا ترسی
واہ! یہ سادگی اور خدا ترسی

  

میرے ایک دوست نے1975 ء میں مقابلے کا امتحان پاس کیا اور انکم ٹیکس کے محکمے میں جائن کیا۔ایک درمیانے قصبے کے نوجوان کا انکم ٹیکس کے محکمے میں افسر ہونا اس علاقے میں بڑی بات تھی۔

علاقے کے ایک با اثر آدمی نے فوراً اپنی بیٹی کی منگنی اس سے کر دی۔مگر وہ منگنی چھ ماہ بعد ختم کر دی۔اس کی وجہ با اثر آدمی نے نوجوان کے والد کو یہ بتائی کہ میں نے یہ سوچ کر کہ آپ کا بیٹا ایک بڑا افسر ہے پیسے کی ریل پیل ہو گی اور میری بیٹی خوش رہے گی ، منگنی کی تھی۔

مگر آپ کا بیٹا ایماندار بنا پھرتا ہے، رشوت لیتا ہی نہیں پیسے کہاں سے آئیں گے اور میری بیٹی کو خاک خوش رکھے گا۔اس لئے میں بیٹی کو ڈبو نہیں سکتا، منگنی ختم کر رہا ہوں۔

یہ 1975ء کی بات ہے۔ ناجائز آمدن اورحرام خوری کا چسکہ اس وقت بھی ہماری اشرافیہ میں بہت تھا۔ مگر آج تو پورا ملک اس کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ اب تو لوگ نہ خدا سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی کسی احتساب سے۔ آج جب کہ احتساب کی بڑی دھوم ہے۔ کسی محکمے میں بھی چلے جائیں کام کروانے کی کھلم کھلا بولی لگ رہی ہوتی ہے۔ لوگ ڈرتے نہیں اس لئے کہ انہیں نظر آتا ہے کہ جس کے پاس جس قدر حرام مال ہے وہ اتنا ہی خوش باش ہے۔

جو اسے پوچھنے آتا ہے اپنا حصہ لے کر چپ چاپ چلا جاتا ہے۔

صرف معمولی ہیرا پھیری والایا اتفاقیہ کسی معاملے میں ملوث ہو جانے والا ایماندار کم پیسوں کے باعث عمر بھر ذلت اور رسوائی کا نشانہ بنتا ہے۔نیب اور دوسرے ادارے اس کی کسمپرسی کی تشہیر بھی خوب کرتے ہیں اور مگر مچھ نما مجرم پیسے کے زور پر اپنا کیس گول کروا لیتا ہے۔یہی المناک کہانی ہے جس کا کوئی منظر تبدیل ہوتا نظر نہیں آتا۔

یہ بھی نہیں کہ ایمانداروں کا قحط الرجال ہے۔ ایماندار بہت ہیں مگر اپنی ذات کی حد تک۔ارد گرد کیا ہو رہا ہے اس سے ان لوگوں کو کوئی سروکار نہیں،جو انتہائی افسوسناک ہے۔کرپشن کے حوالے سے اگر دیکھیں تو ملک کے لوگ پوری طرح دو حصوں میں بٹ چکے ہیں۔

ایک وہ طبقہ ہے جو کرپشن کے خلاف ہے مگر چپ سادھے ہے ارد گرد کچھ ہو وہ لوگ بولتے نہیں احتجاج نہیں کرتے اور چند ایک کرتے بھی ہیں تو بھی ہت روکھا پھیکا۔ کوئی ان کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا ۔ دوسرا وہ طبقہ ہے جو کرپشن کو موجودہ حالات میں جائز سمجھتا ہے اور کرپشن میں پوری طرح ملوث ہے۔

یہ طبقہ دلیری سے رشوت لیتا اور رشوت دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ یہی اصول رشوت لینے اور دینے والے اپناتے ہیں اس لئے جب رشوت لی اور دی باہمی رضا مندی سے جاتی ہے تو اس کا کوئی ثبوت نہیں مل سکتا۔ کوئی پوچھے تو کیسے۔

اس کو ماپنے کا واحد اصول رشوت لینے والے کا طرز زندگی ہوتا ہے۔ریوینیو کے چھوٹے اہلکار، پٹواری گرداور وغیرہ اور انسپکٹر چاہے وہ کسی بھی محکمے کے ہوں ، چھوٹی عدالتوں کے ریڈر اور رجسٹری کلرک، بڑی تھوڑی تنخواہ لیتے ہیں مگر شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔ کوئی بھی فقط ایک گاڑی پر گزارہ نہیں کرتا۔شاندار گھر اور کئی کئی گاڑیاں ہر ایک کے پاس ہیں۔ہر ہفتے ان کا ہوٹلنگ کا بل ان کی تنخواہ سے زیادہ ہوتا ہے۔

آ ج حکومت کوئی ایسی سکیم نافد کر دے کہ ایسے لوگوں کی ناجائز دولت اور جائداد کاصحیح پتہ بتانے والے کو اس کی مالیت کا بیس (20%) فیصدیا کچھ حصہ دے گی تو لوگ دو دن میں سب کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیں گے۔

ایک کاروباری طبقہ ایسا وجود میں آیا ہے کہ جس نے اپنی آمدن میں اضافے کے لئے کرپشن کے تمام حربے پوری طرح استعمال کئے ۔انہوں نے ہماری اشرافیہ، ہمارے سیاستدان اور ہماری بیوروکریسی کو نوازتے ہوئے خود کو بام پر پہنچایااور پرانے کاروباریوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔جس کسی نے اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی اسے یا تو خرید لیا گیا یا ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا گیاکہ ان کے خلاف کاروائی کرنے والوں کو اپنی عزت بچانا مشکل ہو گیا۔

جس شخص نے بھی ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نرمی بھرتی یا کوئی چھوٹ دی وہ عملاً برباد ہو گیا۔اس گھناؤنے کھیل میں لینڈ مافیا کے لوگ سب سے آگے ہیں۔

مجھے یہ باتیں اس لئے یاد آئیں کہ ایک صاحب نجی محفلوں میں کھلم کھلا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہ ہر کام کو پہیے لگاتے ہیں۔

اس رقم کو وہ رشوت نہیں سروس چارجز کہتے اور سمجھتے ہیں۔کورٹ میں انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے کسی کو رشوت نہیں دی۔ انہوں نے سچ کہا کیونکہ یہ کام ان کے اشارے پر ان کے ملازم کرتے ہیں وہ نہیں اور پھر حق دار کو سروس چارجز ادا کرتے ہیں رشوت نہیں ۔

یہ ان کا مسلک ہے میرا نہیں۔۔میرے ایک عزیز کے ان سے گھریلو تعلقات ہیں۔ انہوں نے ایک دن ان کے گھر کے ایک فرد کو کہا کہ دیانتدارانہ بتاؤ کہ تم لوگوں کی اس قدر کامیابی کی کیا خاص وجہ ہے۔ ہنستے ہوئے جواب ملا کہ جھوٹ بہت بولتے ہیں اور پوری ڈھٹائی سے بولتے ہیں۔

عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایماندار قوموں کی فہرست میں ہمارا ایک سو سترواں (117) نمبر ہے اور ایشیا کی پانچ کرپٹ ترین قوموں میں ہمارا شمار ہے۔ میامار اور پاکستان دونوں میں چالیس (40%) فیصد کام رشوت کی مدد سے ہوتے ہیں ان کا نمبر چوتھا اور پانچواں ہے۔ تیسرے نمبر پر تھائی لینڈ ہے جہاں یہ ریٹ اکتالیس فیصد(41) ہے۔

ویت نام میں یہ پینسٹھ فیصد (65%) ہے۔بھارت رشوت ستانی میں اول نمبر پر رہا ہے جہاں دو سال پہلے رشوت کا ریٹ اکہتر فیصد (71%) تھا مگر نریندر مودی کی حکومت کی کوششوں کے سبب آج کم ہو کر تریپن فیصد(53%) رہ گیا ہے۔

پاکستان میں بھی اب رشوت اور کرپشن کے خلاف ایک تحریک چل پڑی ہے جو یقیناً ایک مثبت عمل ہے لیکن کرپشن روکنے کے لئے صرف سخت سزاؤں کا ہونا ہی کافی نہیں۔ عوام کی تربیت بھی ضروری ہے۔

یورپ کی اصلاحی ریاستوں اور جاپان جیسے ممالک میں سکولوں ہی میں یہ تربیت دی جاتی ہے کہ غلط کام غلط ہے اور اسے کسی طرح بھی قبول نہیں کرنا۔ اس بات کا اندازہ اس طرح ہوتا ہے کہ آپ وہاں کے کسی طالب علم کو نقل کی دعوت دیں وہ آپ سے لڑ پڑے گا کہ ایسی غلط بات کہہ رہے ہو ۔

نقل کروں گا تومجھے کیسے اندازہ ہو گا کہ مجھے کس حد تک مضمون کی جانکاری ہوئی ہے۔ پاکستان میں کسی بچے کو یہ کہیں تو وہ خوش ہو کر فوراً آپ کی دعوت قبول کر لے گا۔ اسے اپنے بارے جانکاری کا نہیں صرف پاس ہونے کا خبط ہے سادہ سی وجہ وہاں علم کی قدر ہے اور یہاں ایک کاغذ کی جو سرٹیفکیٹ یا ڈگری کی شکل میں ہوتا ہے اور یہی چیز ہماری بربادی کا باعث ہے۔

مزید : رائے /کالم