A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

’’جب بھی میں الماری کھولتی میرے کپڑے کترے ہوئے ملتے، امی نے پریشان ہوکر ایک مولوی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے ایسا انکشاف کردیا کہ ۔۔۔‘‘جادو ٹونے کا شکار ہونے والی لڑکی کی انتہائی حیران کن کہانی

’’جب بھی میں الماری کھولتی میرے کپڑے کترے ہوئے ملتے، امی نے پریشان ہوکر ایک مولوی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے ایسا انکشاف کردیا کہ ۔۔۔‘‘جادو ٹونے کا شکار ہونے والی لڑکی کی انتہائی حیران کن کہانی

Jul 04, 2018 | 16:28:PM

نظام الدولہ

اس روز میں اپنے دوست کے ساتھ ان کے پیر صاحب کو سلام کرنے گیا تھا ۔ایک خاتون اپنی جواں سال بیٹی کے ساتھ وہاں رنجیدہ صورت بنائے بیٹھی تھیں۔لڑکی آنکھوں سے لگتا تھا کہ وہ سو نہیں پاتی۔معلوم ہوا کہ لڑکی کے ساتھ ایک عجیب معاملہ درپیش ہے ۔کوئی چیز اسکے نئے کپڑے کتر دیتی ہے ۔ہزاروں روپے کے قیمتی کپڑے تباہ ہوچکے تھے اور اسے روزانہ نیا سوٹ خریدنا پڑ رہاہے۔ایسا لگتا ہے کوئی قیمنچی سے باقاعدہ کترتا ہے ۔

ایسا معاملہ میں نے پہلے بھی سن رکھا تھا ۔ بہت سی خواتین کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ الماری میں استری اور تہہ کئے ہوئے کپڑے بھی کترے جاتے ہیں ،جبکہ الماری میں اس خدشہ سے سپرے بھی متواتر کیا جاتا تھا کہ کوئی ایسا کیڑا یہ حرکت نہ کرتا ہو کہ جسے کپڑے کترنے کی عادت ہو ۔پھر گھر والوں نے اس الماری پر نگرانی بھی کرائی کہ کوئی ملازم شرارت سے یہ کام نہ کرجاتا ہو۔جب خاتون خانہ اس روز روز کی مشقت سے عاجز آگئی تو اسے کسی نے بتایا کہ یہ شیطانی عمل ہوتا ہے جس کی وجہ سے کئی خواتین کے ساتھ کپڑے کترنے کی شیطانی وارداتیں ہونے لگ جاتی ہیں۔

مجھے یہ بات ہضم نہیں ہوتی تھی کہ کیا کوئی شیطانی قوت قینچی لیکر آتی ہے یا پھر وہ اپنے دانتوں اور انگلی کے ناخنوں سے اتنی نفاست کے ساتھ کپڑے کتر جاتی ہے کہ کوئی پتہ ہی نہیں چلتا ۔یہ محض اتفاقات کا تسلسل لگتا تھا ۔

لیکن اس دن تو عجیب بات ہوگئی ۔ پیر صاحب نے پہلے لڑکی اور اسکی والدہ سے ہر طرح کا سوال کرکے تسلی کرلی کہ کوئی انسان تو یہ کام نہیں کرتا ۔اتمام حجت کے بعد انہوں نے استخارہ کیا اور کچھ دیر بعد بتایا کہ یہ کام بچی کا رشتہ باندھنے کے لئے کیا گیا ہے اور جان بوجھ کر جناتی شرارت کرائی جارہی ہے ۔

یہ بات سن کر لڑکی کی والدہ بولیں’’ رشتے تو کئی آچکے ہیں لیکن ابھی ہم شادی کرنے پر تیار نہیں کیونکہ ابھی یہ فارمیسی میں ایم فل کرنا چاہتی ہے ۔اسلئے کئی لوگوں کو انکار کرچکے ہیں ۔ہوسکتا ہے کوئی ایسا ہو جو ۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ چونک سی گئیں اور بولیں ’’ میری بھاوج بہت زور دیتی ہے کہ اسکے بیٹے سے بیاہ کردوں ۔لیکن وہ لوگ ہمیں پسند نہیں کیونکہ عجیب فسادی اور خرانٹ لوگ ہیں۔ان کی ہماری دولت پر نظر ہے ‘‘

’’ میں یہ نہیں بتاسکتا کہ وہ کون لوگ ہیں ۔تاہم اسکا علاج کئے دیتا ہوں کہ آئیندہ کوئی بھی یہ شیطانی عمل نہ کرے ،علاج کرنا اس لئے ضروری ہے میری بہن کہ اگرکسی پر کیاہوا کالا علم پرانا ہوجائے تو یہ بہت برا ثابت ہوتا ہے ۔مریض کو ایسی بیماری بھی لگ جاتی ہے جس کا ڈاکٹر علاج نہیں کرسکتے بلکہ کہتے ہیں کہ اسکو کوئی مرض نہیں۔بندہ پوچھے جب مرض نہیں تو دوا کس چیز کی کھلاتے ہو۔وہ وہم کا علاج کرتے رہتے ہیں ۔شیطانی مخلوق کی یہی واردات ہوتی ہے ۔وہ مسخرکئے گئے انسان کواسقدر خوار کردیتی ہے کہ بندہ کسی ایک علاج کے قابل نہیں رہتا ۔میرے اللہ کے کلام سے جب کسی ایسے مریض کا علاج کردیا جائے اور بندہ خود بھی ذکر الٰہی کی عادت اپنا لے توکسی جادو کرانے والے کو زیادہ کامیابی نہیں ہوپاتی ‘‘ پیر صاحب نے روحانی علاج کا تفصیلی ذکر کیا اور انہیں کچھ تعویذات دے کر پندرہ دن بعداسی وقت آنے کی ہدایت کی۔

میں بغور اس صورتحال کو دیکھ رہا تھا ۔ماں بیٹی کے چلے جانے کے بعد میں نے بھی ٹھان لی کہ میں بھی پندرہ دن بعد آوں گا اور دیکھوں گا کہ ماں بیٹی کے کپڑوں کو کترنے کی وارداتوں کا کیا بنا ہے ۔پندرہ دن بعد جب ان لوگوں سے ملاقات ہوئی تو دونوں ماں بیٹی کو انتہائی پرجوش دیکھا۔ماں نے بتایا کہ جب سے انہوں نے تعویذات گھر میں جلائے اور ان کا پانی پیا ہے ،سوائے ایک بار کے ،پھر کوئی کپڑا کترا نہیں گیا اور انکی بیٹی کو اب نیند بھی ٹھیک آرہی ہے ۔شیطانی واردات کے متاثرہ فریق کی یہ بات اس کے منہ سے سن کر میں حیران رہ گیا کہ کیا واقعی آج کی دنیا میں جادو کراکے شیطان یا جنات کوانسانوں کی زندگیوں میں خرابی پیدا کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے ۔ممکن ہے آپ میں سے کسی کے ساتھ یا جاننے والے کے ساتھ ایسا واقعہ رونما ہوا ہو۔۔۔ایسا ہے تو لازمی مجھے بھی بتائیں ۔(nizamdaola@gmail.com )

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں