جوش صاحب کی جگتیں

جوش صاحب کی جگتیں
جوش صاحب کی جگتیں

  

جوش ملیح آبادی ذات کے پٹھان تھے ،عام طور پر تاثر تھا کہ وہ گرم مزاج ہیں لیکن انکے کلام کی تلخی اور انقلابیت کے درپردہ ان میں ایک شگفتہ اور محفل باز انسان چھپا ہوا تھا ۔وہ قادر الکلام شاعر ادیب تھے ۔اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ انہیں اردو فارسی عربی اور انگریزی پر بھی دسترس تھی لیکن زیادہ تر وہ اردو میں ہی بات کیا کرتے تھے ۔عام طور پر کم ہی لوگ انکی جگت اور طنز سے بچ پاتے تھے ۔جب کوئی جملہ زبان پر آجاتا تو اسے روک نہ پاتے تھے اور کہہ کر ہی ٹلتے تھے ۔مثال کے طور پر ان کا یہ واقعہ سن لیجئے ۔

جوش صاحب نے پاکستان کے ایک بہت بڑے سیاستدان وزیر کو اردو میں خط لکھا۔ لیکن اس کا جواب انہوں نے انگریزی میں دیا۔ جواب میں جوش نے انہیں دوبارہ لکھ بھیجا ’’جنابِ والا،میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا تھا۔لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمادیا ہے‘‘

جوش صاحب کا لطیفانہ انداز کسی بھی بات کو لطیفے کا رنگ دے دیتا تھا ۔ ایک مولانا کے جوش صاحب کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔کئی روز کی غیر حاضری کے بعد ملنے آئے تو جوش صاحب نے وجہ پوچھی۔کہنے لگے’’کیا بتاؤں جوش صاحب،پہلے ایک گردے میں پتھری تھی اس کا آپریشن ہوا۔اب دوسرے گردے میں پتھری ہے‘‘

’’میں سمجھ گیا‘‘جوش صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اندر سے سنگسار کر رہا ہے۔‘‘

مزید : ادب وثقافت