سوئس اکاؤنٹس میں کمی!

سوئس اکاؤنٹس میں کمی!

خبر کے مطابق سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں محفوظ پاکستانیوں کی رقوم میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور یہ35فیصد ہو کر اب کل رقم73 کروڑ80لاکھ ڈالر تک ہی رہ گئی ہے، سوئس بنکوں میں پوری دُنیا کے صاحب ِ ثروت جائز و ناجائز رقوم رکھتے ہیں کہ وہاں کے قوانین کے مطابق یہ محفوظ ہوتی ہیں کہ یہ بنک کھاتہ دار کے حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات دینے کے پابند نہیں ہیں، چنانچہ جب بھی ہمارے ملک میں کرپشن کا ذکر ہوتا تو اس میں سوئس بنکوں کا حصہ بھی موجود ہوتا ہے۔اگرچہ ہمارے صاحب ِ ثروت حضرات اور اشرافیہ کے یورپ کے ممالک میں بھی اثاثے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بھی سرمایہ کاری موجود ہے،جہاں تک سوئس بنکوں کا تعلق ہے تو پرانے دور میں سیف الرحمن ان بنکوں سے محترم آصف علی زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) کے اکاؤنٹ دریافت کرنے اور لانے کے دعوے کرتے رہے،کامیابی نہ ملی۔موجودہ وزیراعظم عمران خان کے برسر اقتدار آنے سے قبل اور وزیراعظم بن جانے کے بعد بھی دعویٰ کیا گیاکہ سوئس بنکوں میں پاکستانیوں کے 200ارب رکھے ہوئے ہیں وہ واپس لائیں گے کہ ان کے نزدیک یہ کرپشن کی رقوم ہیں، جو لوٹ کر وہاں رکھی گئی ہیں۔عمران خان ہوں یا اس سے پہلے کے حکمران ان کو یہ سوچنا چاہئے تھا کہ اگر اتنا ہی زور دار پروپیگنڈہ کیا اور برآمدگی کے دعوے کئے گئے تو رقوم کے مبینہ مالکان بھی اپنی بچت کا کوئی طریقہ دریافت کریں گے، اس خبر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران تو اپنے ارادوں کو عملی جامہ نہ پہناسکے اور رقوم رکھنے والے حضرات نے وہاں سے اپنے اکاؤنٹس کہیں اور منتقل کرنا شروع کر دیئے اور اب تک بڑی رقوم نکالی جا چکی ہیں، اب بھی قریباً74 کروڑ ڈالر محفوظ ہیں۔ان کی واپسی ممکن ہے یا نہیں یہ تو کارروائی شروع ہونے پر ہی پتہ چل سکتا ہے۔ اب تک زرداری، بے نظیر بھٹو کے نام پر بتائی گئی رقوم تو واپس نہیں ہو سکیں۔وزیراعظم اب بھی پُریقین ہیں اور اس ارادے کا اظہار کر رہے ہیں،رقوم واپس قومی خزانے میں لائی جائیں گی، ایسی صورت میں ان کو جائز اور قانونی کوششیں ضرور کرنا چاہئیں۔ کامیابی کا تناسب کیا ہے یہ تو بعد میں پتہ چلے گا۔

مزید : رائے /اداریہ