آزاد میڈیا ہی مضبوط ریاست کی ضمانت

آزاد میڈیا ہی مضبوط ریاست کی ضمانت
آزاد میڈیا ہی مضبوط ریاست کی ضمانت

  

ایک دانشور فرما رہے تھے کہ ہم برے حالات کا الزام دوسروں پر دھرنے سے پہلے یہ سوچتے ہی نہیں کہ جب مضبوط دیواروں کی بنیادوں میں زلزلے سرسرا رہے تھے تو ہم گہری نیند میں تھے، لیکن میڈیا کی بربادی کا معاملہ ایسا نہیں کہ کسی نے صدا نہ لگائی ہو،کسی چاک گریباں نے چیخ چیخ کر شہر دل کی بربادی کی خبر نہ دی ہو۔کسی راہ پر،کسی موڑ پر،اہل ِ اقتدار کو روک کر نہ سمجھایا ہو کہ صاحب رحم،آئینہ ٹوٹ رہا ہے۔ اور یہ بتایا نہ ہو کہ جن شہروں میں آئینے نہ رہیں وہاں اپنے چہرے کے خدوخال بھی پہچانے نہیں جاتے،لیکن جواب کیا ملا؟یہی کہ صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے سوچ سمجھ کر علم کا ”بوجھ“ اٹھائیں،رزق کی ضمانت نہیں۔سابق وزیر اطلاعات اور موجودہ ”سائنس دان“فواد چودھری جیسوں نے کتنا شور مچایا کہ معاشرے کے لئے صحافت اب ضروری نہیں رہی۔خاص طور پر اس حکومت کے لیے تو یہ”آئینہ“ بالکل بے کار کباڑ کی چیز ہے۔ کوشش بھی بہت کی گئی کہ اس بے کار شے کو کباڑ خانے میں کہیں پھینک کر بھلا دیا جائے اور بس۔کوئی چہرہ دکھائے گا ہی نہیں تو رخساروں پہ میل جمے یا ماتھے پہ چیچک اترے،کیا فرق پڑتا ہے۔ پھرمیڈیاکی قبر کھودی گئی اور کفن دفن کا انتظام بھی ہوا، لیکن وہ نہیں ہوا جو سوچا گیاتھا۔اہل ِ صحافت میدان میں آئے اور اپنے اداروں کو بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی، جس کے کسی حد تک مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے۔جہاں آزادی اظہار رائے کو دفن ہونا تھاوہاں ایک خودسر احمق کا رعونت بھرا لہجہ اور غرور دفن ہوا۔حالات تبدیل ہوئے، لیکن اتنے نہیں کہ یہ کہا جائے کہ مضروب کی سانسیں بحال ہو گئیں یا وہ اب چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا ہے۔

فردوس عاشق اعوان کے وزارت ِ اطلاعات میں آنے سے بہتری ضرور آئی ہے، لیکن ابھی ہوا کا وہ خوشگوار جھونکا کہیں محسوس نہیں ہوا،جس سے مستقبل میں بہتری کی امید لگائی جا سکے۔ کئی اطراف سے ان کے معاملات میں مداخلت جاری ہے،ایسے ایسے لوگ بھی وزارت اطلاعات کے ”مامے“بنے ہوئے ہیں، جن کی اپنی وزارت کا قبلہ درست نہیں۔شفقت محمود ہی کو لے لیجئے،موصوف نے اسمبلی میں کھڑے ہوکر بہت سے اخبارات کا نام لے کر کہا کہ انہیں میرٹ سے ہٹ کر اشتہارات جاری کئے گئے،لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنے اخبارات ہیں، جنہیں میرٹ پر ہونے کے باوجود اشتہارات نہیں دیئے جا رہے،کتنے اخبارات کی ادائیگیاں حکومت کے ذمے واجب الادا ہیں اور کتنے میڈیا ہاؤسز ایسے ہیں،جن کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہوتی رہیں اور اب بھی جاری ہیں۔ اسی طرح وزیر اعظم کے درجن بھر ایسے مشیران کرام بھی ہیں، جنہیں میڈیا کو ”صراطِ مستقیم“پر لانے کابڑا شوق ہے اور یہ وقتاً فوقتاًاس کا ”عملی مظاہرہ“ بھی کرتے رہتے ہیں۔

وزیرا عظم کی تقریر کا معاملہ بھی انہی نو رتنوں کی ”خرمستیوں“کے باعث بگڑا تھا۔وہ صاحب بھی وزیر اعظم کے ”حلقہ یاراں“ہی میں تھے جنہوں نے چیئرمین نیب کی متنازع ویڈیو اپنے چینل پر چلوا دی تھی۔ایسے ”فنکاروں“ کی موجودگی میں فردوس عاشق اعوان کے لئے وزارت اطلاعات کو لے کر چلنا آسان نہیں، لیکن پھر بھی وہ ابھی تک بہت کچھ رفو کر چکی ہیں۔انہیں حقیقی کامیابی تب ملے گی جب وہ وزیر اعظم سمیت ہر صاحب اختیار کو یقین دِلا دیں گی کہ میڈیاریاست کا واقعی چوتھا ستون ہے۔اسے دھندلا کرکے خامیاں چھپائی تو جا سکتی ہیں، لیکن دور نہیں کی جا سکتیں۔

میڈیا انڈسٹری کے ساتھ اب بھی رویہ نہ بدلا گیا تو شاید بہت کچھ بگڑ جائے گا، جس کا نقصان کسی ایک خاص طبقے کو نہیں، بلکہ پورے معاشرے کو پہنچے گا۔فی زمانہ حالات یہ ہیں کہ میڈیا انڈسٹری بدترین معاشی بحران سے گزر رہی ہے۔اداروں کے لئے کاغذ، پرنٹنگ اور کارکنوں کی تنخواہوں کے اخراجات اٹھانا مشکل ہورہا ہے۔ اکثر ادارے ایسے ہیں جن کا مستقبل مخدوش ہے کہ جانے کب دیوالیہ ہو جائیں۔ ان حالات میں جب ترازو کا ایک ہی پلڑا جھکتا چلا جائے گا تو پھر معاملات کیسے بہتر ہوں گے۔عمران حکومت اس صنعت کو بھی وہ سبسڈی دے جو دوسری کمزور ہوتی صنعتوں کو دی جارہی ہیں۔ کاغذ سستا کیا جائے،پرنٹنگ سے متعلقہ اشیا کی قیمتیں کم کی جائیں۔اس کے علاوہ ان ایڈورٹائزرز کوبھی سہولیا ت دی جائیں جو اخبارات کے لئے بزنس کا انتظام کرتے ہیں۔یہ تمام معاملات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اگر میڈیا کو آزاد رکھا جائے گا اور اس سے جینے کا حق نہیں چھینا جائے گا تو کاروبارِ حکمرانی میں بھی آسانی رہے گی۔یاد رکھیے،خوشامد برگیڈکبھی آزاد اور موثر میڈیا کی جگہ نہیں لے سکتا۔میڈیا ہوگا تو ہی معاشرہ بالغ اور با شعور ہوگا،اگر یہی آنکھ بند کر دی گئی تو پھر جہالت کے اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔

مزید :

رائے -کالم -