وزیر اعلیٰ عثمان بزدار۔۔۔ایک رابن ہوڈ

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار۔۔۔ایک رابن ہوڈ

  

حالیہ دنوں میں اس مملکت کے ایوانوں کے اندر ایک لفظ سلیکٹڈ کی بہت گونج ہے۔ اہل لوگ ہوں یا نااہل سب ہی اس ورد کی مالا جپتے نظر آتے ہیں۔ اس شور میں اصل عوامی مسائل کہیں زمین بوس ہو کر رہ گئے ہیں۔ حکومتی جماعت کی جانب سے چور کا شور ہو یا متحدہ اپو زیشن کی طرف سے سلیکٹڈ کے نعرے،کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی گونج کبھی بھی کارکر دگی سے بڑی نہیں ہو تی۔ وزیراعظم عمران خان کو ووٹ ملا تو اس بلے کے نشان پر جس سے وہ گراؤنڈ میں بڑے بڑے گیندبازوں کی دھولائی کیا کرتے تھے۔ وہ بلے کا نشان جس پر قوم نے اعتماد کیا اور خیبر پختونخوا کے لوگوں نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دوبارہ کسی جماعت کو موقع دیا تو وہ یہی بلے والی جماعت تھی۔

ایسا ہی ایک شور کچھ ماہ قبل پنجاب اسمبلی کے ایوان میں بھی سننے کو ملا جب عمران خان نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو اپنا وسیم اکرم کہا تھا۔ اس لفظ کے بعد تو جیسے حریف جماعتوں کو کوئی نیا نعرہ ہی مل گیا تھا اورپھر ایسا کوئی فورم نہیں تھا کہ جس پر عثمان بزدار کو لفظ وسیم اکرم پر تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑاہو لیکن پھر کیا ہوا!!!

سب خاموش کیوں ہو گئے؟ اپوزیشن کو سانپ کیوں سونگھ گیا؟ اس کا جواب آپ کو اپوزیشن کی کوئی جماعت نہیں دے سکے گئی کیونکہ جو کام وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے کیا اس سے ان تنقید کرنے والوں کا کو ئی تعلق ہی نہیں ہے۔عمران خان کے وسیم اکرم نے گزشتہ دس ماہ میں کار کر دگی دیکھائی اور قوم کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ ان لوگوں میں بھی پیدا کیا جو گزشتہ ستر سال سے اس لفظ ”جذبے“ سے آشنا تک نہ تھے۔ عثمان بزدار نے دکھاوے بازی کی بجائے انفرادی کارکر دگی پر توجہ دی۔ آپ میری یہ بات لکھ لیں اور اسے اپنے پلو سے باندھ لیں کہ ظاہری خوبصورتی اور نمائش سے بہتر ہے انسان کے اندر اس کا نفس خوبصورت ہو لیکن اندرونی خوبصورتی ہر کوئی نہیں دیکھ پاتا اگر عثمان بزدار بھی رم جھم کے موسم میں لانگ بوٹ پہن کر لاہور کی ایک مشہور شاہراہ پر نکل آئیں تو ان کا مقام سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کوبھی کاٹ گزرے۔

اب بات کر لیتے ہیں پنجاب کے عوام کی وہ عوام جو گزشتہ دس سال کے دورِ حکومت میں بھی غربت سے نہیں نکل سکی، وہ عوام جس کے پاس آج صاف پینے کا پانی نہیں، وہ عوام جس کے پاس تعلیم کے حصول کیلئے سکول نہیں، وہ عوام جن پر اشرافیہ کی حکومت مصلت تھی، وہ عوام جو دو وقت کا کھانا نہیں کھاتی، وہ عوام جس کے 14شہریوں کو بے دردی سے ماڈل ٹاؤن میں قتل کر دیا گیا، وہ عوام جو آج بھی انصاف کیلئے دردر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور وہ عوام جس کی زمینوں پر برسوں تک قبضہ مافیا کا راج رہا لیکن پھر بھی یہ عوام شیر شیر کے نعرے لگاتی رہی مگر ظلم کا نظام کب تک چلے گا؟ آخر خدا کو اس قوم کی بے رحم حالت پر ترس آہی گیا اور پھر ظالموں کی حکومت کا تختہ اُلٹ گیا اور عمران خان کی حکومت نے اس ظالم رات کے اندھیرے کو خوشحالی اور امید کے سورج کی پہلی کرن نے چاک کیا۔

آپ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ عثمان بزدار نے آخر ایسا کیا کر دیا جس سے وہ گزشتہ ادواروں کے تمام وزراء اعلیٰ پر سبقت لے گئے ہیں۔ میں آپ کی توجہ عثمان کی گزشتہ دس ماہ میں سب سے بڑی کامیا بی پر ڈالنا چاہتا ہوں۔ میرے کپتان کے وسیم اکرم نے اپنے دورِ اقتدار کے صرف دس ماہ میں اس صوبہ کے تنگ دست عوام کیلئے قبضہ مافیا کو لگام ڈالی اور ان کے خلاف خصوصی کارروائی مہم کا اجراء کیا۔ دس ماہ میں ہی قبضہ مافیا کے خلاف 146مقدمات کا اندراج ہوا اور ان کے خلاف کاروائی کے دوران 496افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ با اثر قبضہ گروپوں کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی گئی جبکہ ماضی میں قبضہ گروپوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی اور انہیں بے بس عوام اور یتیم کا حق مارنے کیلئے بے لگام چھوڑ دیا گیاتھا۔

تحریک انصاف کی حکومت نے بااثر قبضہ مافیا کو نکیل ڈال کر انہیں قانون کے کٹھرے میں کھڑا کیا اور صوبے کو ان مافیا سے پاک کرنے کے عزم کی عکاسی کی۔بزدار صاحب نے بڑے بڑے قبضہ گروپوں پر ہاتھ ڈالا اور سرکاری و نجی اراضی سے قبضہ واگزار کروایا جبکہ اس کے بر عکس سابق ادوار میں لاہور سمیت کئی شہروں میں قبضہ گروپوں کو کھلی چھٹی دی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ”پنجاب میں قبضہ مافیا کا خاتمہ کر کے دم لیں گے“ کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان بزدار کے اس ایک جملے سے کتنے یتیموں اور مظلوموں کو سہارا ملا ان کے دل کو کتنا سکون پہنچا؟ بس یہی وجوہات تھی کہ عثمان بزدار کو وسیم اکرم کہہ کر طنز کرنے والوں کی بولتیاں بند ہوں گئیں کیونکہ اس کا جواب ان کی کارکر دگی نے دیا۔

میرا وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کو ایک مشورہ ہے کہ جناب آپ کو کوئی سلیکٹڈ کہے یا کچھ اور آپ کو اس پر رتی بھر بھی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔اس سے قبل بھی لوگ آپ کو کیا کچھ نہیں کہتے رہے اور آپ کو کن کن الزامات کا سامنا رہا پاکستان کی عوام سب جانتی ہے، آپ کی کردار کشی کی گئی مگر وہ کپتان ہی کیا جو اپنے عزم سے پیچھے ہٹ جائے۔ وزیر اعظم صاحب آپ ایوان میں عوام کیلئے آئے ہیں اس لیے ان کی پریشانیوں کو حل کریں اور اپنے وزیر اعلیٰ سے سیکھیں کہ لوگ کچھ بھی کہیں آپ خاموشی سے اپنا کام کر تے رہیں اور عثمان بزدار کی طرح ایک خاموش رابن ہوڈ بن کر دیکھائیں جس کی خاموشی بھی مخالفین کیلئے ایک کرارا جواب ہے۔

مزید :

رائے -کالم -