اسلام آباد میں ”بُت کدہ“؟

اسلام آباد میں ”بُت کدہ“؟

  

رویت ِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو فوری طور پر اسلام آباد میں مندر کی تعمیر روکنی چاہئے،ہم پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کے حقوق تسلیم کرتے ہیں جہاں جہاں اُن کی آبادیاں ہیں وہاں پر وہ اپنی عبادت گاہیں بنائیں، اپنے طریقے پر عبادت کریں،لیکن اسلامی ریاست کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ سرکاری فنڈز سے بُت کدے بنائے، اسلام کی ساڑھے چودہ سو سال کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی کہ اسلامی حکومت نے بُت کدہ بنایا ہو۔ معروف عالم ِ دین مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ حکومت کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے خرچ پر مندر تعمیر کرے، خاص طور پر ایسی جگہ جہاں ہندوؤں کی تعداد بہت کم ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو حق ہے کہ جہاں ان کی آبادی کے لئے ضروری ہو، اپنی عبادت گاہ بنائیں اور برقرار رکھیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ نازک وقت میں ایسے شاخسانے نہ جانے کیوں کھڑے کئے جاتے ہیں،جن سے انتشار کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔

قیامِ پاکستان سے پہلے اُن علاقوں میں جہاں ہندوؤں کی آبادی تھی، وہاں مندر موجود تھے، لیکن جب وہ نقل مکانی کر گئے تو مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں میں ان کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہ تھا،چنانچہ ان عمارتوں کی حالت وقت کے ساتھ ساتھ مخدوش ہوتی چلی گئی، بھارت میں جب تاریخی بابری مسجد شہید کی گئی تو ردِعمل میں پاکستان کے بعض شہروں میں مندروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا،اِس سے پہلے کئی مندر لوگوں نے الاٹ کرا لئے تھے یا اُن پر ویسے ہی قبضہ کر لیا تھا،جو مندر موجود تھے، چونکہ ان میں جانے والے پجاری نہ تھے،اِس لئے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی حالت بھی خستہ و خراب ہوتی گئی اور اُن کے دروازوں پر قفل لگے رہے۔سندھ میں چونکہ ہندو ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں،اِس لئے وہاں انہوں نے ضرورت کے مطابق اپنے مندر آباد رکھے ہوئے ہیں اور کوئی اُن پر معترض بھی نہیں ہوتا،لیکن حیرت ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں جہاں مشکل سے چند سو ہندو ہوں گے، حکومت کو بیٹھے بٹھائے مندر کی تعمیر کا خیال کیسے آ گیا، اگر اِس کا مقصد دُنیا کے سامنے پاکستان کا ”سافٹ امیج“ پیش کرنا ہے تو یہ حاصل نہیں ہو گا اور اگر ہندوؤں کو خوش کرنا مقصود ہے تو یہ بھی ”خیال است وجنوں“ والا معاملہ ہے۔

بھارت ہندو اکثریت کا مُلک ہے اس نے سیکولرازم کا جو بہروپ بنا رکھا تھا اس کا پردہ خود ہندو قیادت ہی نے چاک کر دیا ہے، بابری مسجد کی شہادت سے جس کام کا آغاز ہوا تھا، وہ اب بہت آگے بڑھ چکا ہے اور مسلمانوں کے بہت سے تاریخی آثار کے بارے میں یہ شوشے چھوڑے جا رہے ہیں کہ وہ ہندو مندرگرا کر بنائے گئے تھے،ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے خیال میں تاج محل آگرہ بھی ایک مندر کی جگہ تعمیر ہوا تھا۔سنگ و خِشت کی عمارتیں تو رہیں ایک طرف،بھارت میں اب مسلمانوں کی جانیں بھی محفوظ نہیں اور ان کا لہو گائے کے خون اور گوشت سے بھی سستا ہے، آئے روز مسلمانوں کو جرم بے گناہی میں قتل کیا جا رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند ان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور آن کی آن میں سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ مودی کی نگرانی میں گجرات میں مسلمانوں کے خون سے جو ہولی کھیلی گئی، ربع صدی کے بعد اس کی خونیں یادیں آج بھی رُلا رُلا دیتی ہیں،اس کے مقابلے میں پاکستان نے ہمیشہ مذہبی روا داری کا ثبوت دیا ہے اور غیر مسلموں کو اُن کی عبادت میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ بھارت اور دوسرے ممالک سے آنے والے سکھ یاتری جس کا ہمیشہ اعتراف کرتے ہیں تازہ ترین سہولت کرتارپور راہداری کی شکل میں دی گئی ہے،جس کے ذریعے سکھ یاتری بلا روک ٹوک آ سکتے ہیں،سکھوں کے دوسرے مقاماتِ عقیدت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے،لیکن حیرت ہے کہ جہاں ہندو پجاری ہی نہیں ہیں وہیں ایک مندر بنانے کی کیا ضرورت آن پڑی ہے؟

چند دِن سے حکومتی ترجمان اپنے تئیں یہ دور کی کوڑی لے کر آئے ہیں کہ مندر کی تعمیر کے لئے پلاٹ مسلم لیگ(ن) نے الاٹ کیا تھا، اس طُرفہ منطق کے قربان جایئے کہ مسلم لیگ(ن) کے بہت سے فلاحی منصوبے اس حکومت نے یا تو ختم کر دیئے یا اُنہیں فراموش کر دیا،لیکن اگر یاد رہی تو یہ بات کہ یہ پلاٹ مسلم لیگ(ن) نے الاٹ کیا تھا۔ اگر ایسا تھا بھی تو کیا اب اِس الاٹ شدہ پلاٹ پر بُت کدے کی تعمیر بھی ضروری ہے، پلاٹ تو دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے نے منظور کیا تھا وہ بہت سے پلاٹ منسوخ بھی کرتا رہتاہے،اِس پلاٹ میں ایسی کیا بات ہے کہ یہ پتھر پر لکیر ہو گئی ہے اور اسے منسوخ نہیں کیا جا سکتا،ویسے بھی تحریک انصاف کی حکومت، مسلم لیگ(ن) کے منصوبوں کو ختم کر کے راحت محسوس کرتی ہے اور اسے عین کارِ ثواب سمجھتی ہے، تو اس پلاٹ کی منسوخی سے وہ کیوں ہچکچا رہی ہے؟ اور اِس بات پر کیوں بضد ہے کہ اس پر مندر ضرور تعمیر ہو گا۔

چند برس قبل متحدہ عرب امارات میں ایک مندر تعمیر ہوا ہے جس کا بھارتی حکومت نے بڑا چرچا کیا اور افتتاح بھی بڑی دھوم دھام سے ہوا، اول تو متحدہ عرب امارات میں بھارتی ہندو بڑی تعداد میں موجود ہیں، دوسرے وہاں کی حکومت بھارت کے ساتھ نہ صرف خصوصی تعلقات رکھتی ہے،بلکہ اُسے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا رکن بنانے کے لئے بھی سرگرم عمل ہے،اِس لئے یو اے ای میں تو مندر بنانے کی سمجھ آتی ہے،لیکن پاکستان کے دارالحکومت میں مندر کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے،جہاں ہندوؤں کی سب سے زیادہ تعداد اس سفارتی عملے اور اُن کے خاندانوں پر مشتمل ہے، جو بھارتی سفارت خانے میں کام کرتے ہیں۔ نیپال وغیرہ کا سفارتی عملہ بھی ہندوؤں پر مشتمل ہو گا، یہ سب مل ملا کر دو اڑھائی سو سے زیادہ نہیں بنتے، تھوڑے سے مقامی ہندو بھی اسلام آباد میں ہوں گے،اُنہیں اگر اپنی عبادت گاہوں سے دلچسپی ہے تو بہتر ہے کہ وہ پہلے اپنے اُن مندروں کی حالت بہتر بنائیں جو خستہ حالی کا شکار ہیں اور جہاں پجاریوں کی غیر موجودگی سے دھول اڑتی ہے۔ یہی بات سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے کہی ہے،جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں کٹاس مندر بحال کرایا تھا اور اُن کے اس کام کی تعریف بھی ہوئی تھی۔

مفتی منیب الرحمن اور مفتی محمد تقی عثمانی کا موقف ہے کہ اسلامی حکومت سرکاری خرچ پر مندر تعمیر نہیں کرا سکتی، یہ مشورہ بہت صائب ہے اور سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرنا چاہئے اور مندر کے لئے پلاٹ کی الاٹمنٹ کا ”کریڈٹ“ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو دینے کی بجائے،اس غلط فیصلے پر خط ِ تنسیخ کھینچ دینا چاہئے، ویسے بھی جہاں مسلم لیگ(ن) کے بہت سے منصوبے خاک میں ملا دیئے گئے وہاں ایک پلاٹ کی منسوخی سے کیا طوفان آ جائے گا، بہتر ہے کہ یہ فیصلہ جلد سے جلد کر لیا جائے تاکہ بُت کدے کی تعمیر کی ناخوشگوار بحث طول نہ کھینچے۔ اسلام دُنیا میں شرک و بُت پرستی کی بیخ کنی کا داعی ہے، بُت کدے آباد کرنے والوں سے اس کی ازلی جنگ ہے، مسلمانوں کے مُلک میں، مسلمانوں کی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے تحفظ کے لئے اپنے وسائل استعمال کرے گی، بُت شکنی کی مستحکم روایت سے آنکھیں بند کر کے بُت کدے تعمیر کرنا اللہ وحدہ‘ لاشریک کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے،قبل اِس کے اللہ کی غیرت جوش میں آئے اِس کام سے تائب ہو کرگناہوں کی معافی طلب کرنی چاہئے۔ اس بحث سے قطع نظر مندر کی تعمیر کے آغاز نے معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔اسے محض بُت کدے کی تعمیر کہہ کر بات ختم نہیں کی جا سکے گی۔پاکستان میں رہنے والے ہندوؤں کو دستورِ پاکستان نے وہ تمام انسانی اور بنیادی حقوق عطا کیے ہیں جو دستورِ پاکستان کا حصہ ہیں۔ان کو عبادت گاہیں تعمیر کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔جن عناصر نے پاکستان میں یہ شوشہ چھوڑا ہے انہوں نے کچھ مناسب نہیں کیا،لیکن اب جبکہ عملی طور پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ کسی کو جذباتی انداز میں کارروائی کا حق حاصل نہیں ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل، ہندو آبادی کے نمائندوں اور مفتیان کرام کو مل بیٹھ کر معاملے پر غور کرنا چاہئے اور ایسا کوئی اظہارِ خیال و عمل نہیں کرنا چاہئے،جس کے نتیجے میں اہل ِ پاکستان کی فراخ دِلی اور رواداری پر حرف آئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -