ہم راز،کی پوسٹ، پر گزارشات؟

ہم راز،کی پوسٹ، پر گزارشات؟
ہم راز،کی پوسٹ، پر گزارشات؟

  

ہمراز احسن اچھا بچہ ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ مجھے بھائیوں جیسا عزیز ہے اور کسی دم اس کی یاد اور رفاقت نہیں بھولتی۔ہم نے ایک عرصہ باہمی رفاقت میں گزارا اور ایک دوسرے کے کئی رازوں کے بھی امین ہیں۔ تحریک آزادی صحافت کے بھی ساتھی ہیں۔1977ء کی بڑی تحریک اسے یہاں سے اجنبی دیس لے گئی جو اب اس کا وطن بھی ہے، وہ بیوی بچوں سمیت لندن میں مقیم اور اب ماہ و سال کی گردش کے بعد ”شاہ جی“ ہے۔ یہاں بھی وہ شاہ حسین کے ملنگ کی کیفیت سے دوچار تھا تو وہاں جا کر بن ہی گیا۔ سید اکمل علیمی اور محمد حنیف رامے کے بعد یہ ہمراز احسن ہے جو صحافت میں ہونے کے باوجود خوشخط تحریر لکھتا ہے۔ ترقی پسند تو تھا ہی، لندن میں قیام کے دوران مزید ”پڑھ لکھ“ گیا اور اب ماشاء اللہ مصنف بھی ہے اور وسیع مطالعے کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے۔

ہماری ملاقات اب فیس بک کے ”لائیکس“ تک رہ گئی ہے، حالانکہ ایک دور وہ بھی تھا جب پل نہیں گزرتا تھا، اسی ہم راز احسن نے فیس بک پر ہی کورونا کی وبا سے بدلتی فضا کے حوالے سے ایک دکھی سی تحریر لکھ کر بحث کا دروازہ کھول دیا اور ہمارے دوست اپنے اپنے خیالات کا اظہار بھی کر رہے ہیں، ہمراز احسن نے کورونا کی وجہ سے تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اس سماجی دوری کے ماحول میں ایک دیرینہ رفیق اور دوست کو فون کیا، اس سے بات ہوئی تو یوں احساس ہوا، جیسے دو اجنبی بات کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑی حقیقت ہے، کورونا وبا کو اب تو قریباً چھ ماہ ہو چکے، ہم لوگ پچھلے چار ماہ سے گھروں میں بند ہیں، سماجی فاصلے تو اپنی جگہ سماجی رشتے بھی مدھم پڑتے چلے جا رہے ہیں، میں نے ابتدا میں چند روز دفتر جا کر کام کی کوشش کی تو چیف ایڈیٹر محترم مجیب الرحمن شامی کی ہدائت موصول ہو گئی کہ سب بوڑھے قرنطینہ کر لیں اور دفتری امور گھر سے انجام دیا کریں تو ہم بھی گھر بیٹھ گئے، البتہ کبڑے کو لات راس آ جانے کے مطابق اس سے یہ ہوا کہ مجھ کو لیپ ٹاپ کھولنا، دیکھنا اور بند کرنا سیکھنا پڑ گیا، ورنہ میں موبائل پر ”لائیکس“ کے سوا صرف فون کرنا، سننا اور پیغام وصول کرنا ہی جانتا تھا۔

ہمراز احسن کی اس پوسٹ کی وجہ سے میں بھی غور پر مجبور ہوا، اور بہرحال حالیہ چار پانچ ماہ میں جو مجھ پر بیتی اور اپنے آبائی پس منظر کے حوالے سے جو تصور ابھرا، میں نے بھی اس کا ذکر کر دیا، میرے اعتقاد کے مطابق تو یہ وائرس انسان کی کارستانی ہو، کسی لیبارٹری سے فرار ہوا ہو، یا کسی کیمیاوی جنگ کا تجربہ ہو، اس نے پوری دنیا تبدیل کرکے رکھ دی، انسان کو اس کی اوقات یاد دلا دی ہے کہ یہ خاکی کچھ بھی نہیں، اب تک بھی دنیا کورونا کی گرفت میں ہے۔ کوئی دوا ایجاد نہیں ہوئی اور کسی ویکسین کا تجربہ بھی کامیاب نہیں ہوا، دنیا کی معیشتیں زمین بوس ہوتی نظر آ رہی ہیں اور انسانی رشتوں کے ساتھ ساتھ نفسیات بھی تبدیل ہو گئی ہیں، اس وبا کو ہمارے حضرات اپنے اپنے معنی پہنا رہے ہیں، دل پہ جو گزرتی ہے، اس کا ذکر اپنی جگہ، تاہم جو بات مجھے کھٹکنے لگی وہ یہ ہے کہ انسان اتنی بڑی وبا اور مسلسل پریشانی کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نافرمان قوم بنا ہوا ہے، کسی نے بھی توبہ نہیں کی، مظالم کا سلسلہ جاری ہے، زبردست آج بھی زیر دست کو دباتا چلا جا رہا ہے۔ مفادات کا ٹکراؤ جوں کا توں اور جنگی جنون جاری ہے۔

منافع خور مزید منافع کے لئے ہر چال چل رہے، دھوکا باز دھوکے سے باز نہیں آ رہے، جھوٹ جھوٹ ہے، انسانیت کی تذلیل جاری ہے، ابھی تو صرف دو دن گزرے ہیں، جب مقبوضہ کشمیر کے تین سالہ بچے نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے، یہ درست کہ اس ننھے کی معصومیت نے دل ہلا دیئے لیکن ردعمل مذمت کے سوا کیا ہے، کیا کسی طاقتور یا طاقتوروں نے بھارتی حکومت کے مظالم کو روکنے کا بھی اہتمام کیا۔ راز و، عالمی دنیا تو رہی ایک طرف مجھے بتاؤ کہ ہمارے مسلمان ممالک نے اس پر کسی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ہم جو اس برصغیر کے رہنے والے ہیں اور ایک بیٹی کی پکار پر محمد بن قاسم کی آمدکا ذکر کرتے ہیں تو ہمارا عملی رویہ کیا ہے؟ ہم نے کیا ایسی تحریک شروع کی کہ اس ظالم دنیا میں اقتدار پر قابض لوگ اگر اقتصادی مفادات کے باعث خاموش ہیں تو ہم دنیا بھر کے عوام ہی کو آواز بلند کرنے پر آمادہ کریں، یہ دنیا اور اس کے عوام اگر فلائیڈ کی پولیس والے کے ہاتھوں موت پر اتنا بڑا احتجاج کر سکتے ہیں تو ہم ان کی توجہ ”معصوم نواسے“ کشمیر کی بیٹیوں اور نوجوانوں کی درد بھری آواز کی طرف کیوں نہیں دلا سکتے۔

ہاں! میرا تھوڑا بہت جو مبلغ علم ہے، اس نے مجھے یہ سمجھایا ہے کہ یہ کورونا وبا جو بھی ہے، اللہ کی طرف سے انتباہ ہے، ہم مسلمانوں کو خصوصاً اور رب کو کسی نہ کسی انداز میں تسلیم کرنے والے سب انسانوں کا فرض ہے کہ وہ اس وبا کو ”انتباہ“ جان لیں، دکھ کا اظہار کریں اور توبہ کرکے تائب ہو جائیں، ورنہ یہ تو وائرس ہے۔ تاریخ ہمیں اس سے بھی بڑے بڑے عذابوں کے بارے میں بتاتی ہے اور قوم موسیٰ کی چالاکیوں کا ذکر تو قران مجید میں بھی تفصیل سے موجود ہے، لیکن افسوس یہ ہے کہ کوئی قوم بھی اس وبا کو انتباہ جان کر توبہ پر مائل نہیں بلکہ مادیت کی طرف زیادہ رجوع کیا جا رہا ہے، ہم مسلمان اور پاکستانی تو جھوٹ تک سے گریز نہیں کرتے۔ ہمراز احسن کی اس پوسٹ پر بڑے پڑھے لکھے اور سنجیدہ حضرات نے بھی رائے دی۔ دیرینہ دوست اور کولیگ بابر زمان نے پیرس سے تائید کی تو میری سابقہ کولیگ مسز ساجدہ فخر ہمایوں نے اپنے مخصوص انداز میں میری رائے پر میرے بارے میں پوچھ لیا تو عرض ہے۔ مودبانہ اطلاع ہے کہ میری توبہ تو یکم مارچ 1975ء سے شروع ہے اور 1988ء میں جب میں فخر (مرحوم) سے ملنے کے لئے آپ کی شاپ پر آیا تو آپ نے اپنے اسی مخصوص انداز ہی میں بات کی تھی، افسوس کہ فخر سے ملاقات نہ ہوئی ورنہ آپ کو تب ہی علم ہو جاتا، بہرحال رازو، معذرت کہ اتنا کچھ کہہ گیا، میں تو اس بات پر قائم ہوں کہ اس وبا نے اگر سب کچھ تبدیل کر دیا ہے تو انسان کوبھی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بدل ہی لے کہ یہ حقیقتاً انتباہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -