دوسرے ممالک میں پھنسے پاکستانی مسافر

دوسرے ممالک میں پھنسے پاکستانی مسافر
دوسرے ممالک میں پھنسے پاکستانی مسافر

  

اپنے پاؤں پر کلہاڑی کیسے ماری جاتی ہے؟ یہ سیکھنا ہو تو موجودہ حکومت اور حکمرانوں سے رجوع کرنا پڑے گا۔ پی آئی اے کے‘ دوسرے لفظوں میں پاکستانی پائلٹوں کے بارے میں بیان دے کر وزیرِ ہوا بازی نے بظاہر بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا ہے‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قومی ادارے کی لٹیا ہی ڈبو دی ہے۔ یاد رہے کہ وزیرِ ہوا بازی غلام سرور خان نے چند روز قبل کہا تھا ملک بھر میں 860 پائلٹس ہیں اور دوران انکوائری معلوم ہوا ہے کہ کچھ پائلٹس نے چھٹی والے دن پیپرز دیے اور جعلی اسناد حاصل کیں‘ ان 860 میں سے 262 پائلٹس کی اسناد مشکوک ہیں۔اس ادارے میں اندر کھاتے کیا ہو رہا تھا‘ کس طرح یہ ادارہ ایک عرصے سے گھاٹے میں جا رہا تھا‘ اور اربوں روپے سالانہ کی حکومتی امداد پر اس کا تنفس بحال رکھا گیا تھا‘ یہ سب ملک اور اس قومی ادارے کے داخلی معاملات تھے اور جو پردہ قائم تھا‘

اسے قائم رہنا چاہئے تھا تاکہ اس ادارے کے ساتھ وابستہ ملک کی قومی شناخت اور ساکھ قائم رہتی‘ لیکن حکومت کے ’عالی دماغوں‘ نے ملک اور قوم کو بدنام کرنے کا یہ موقع بھی ضائع نہیں جانے دیا۔ فوری نتیجہ اس کا یہ ہے کہ انٹر نیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کی جانب سے تحفظات کا اظہار کئے جانے کے بعد یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) نے منگل کے روز پی آئی اے کے یورپی یونین میں آپریٹ کرنے پر چھ ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے اور صرف تین جولائی تک پروازیں چلانے کی اجازت دی ہے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ برطانیہ نے بھی اپنے ہاں پی آئی اے کا فضائی آپریشن معطل کر دیا۔ اگرچہ توقع ظاہر کی گئی ہے یورپی یونین کی جانب سے لگائی گئی پابندی جلد ختم کرا لی جائے گی لیکن اس خدشے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مزید ممالک بھی پی آئی اے کے اپنے ہاں آپریشن پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اس طرح جو معاملہ داخلی سطح پر حل کیا جا سکتا تھا‘ اور اگر کچھ پائلٹس غیر قانونی طریقے سے آگے ان کی انکوائری کر کے خاموشی سے ان کو الگ کیا جا سکتا تھا‘ اس کا تماشا بنا دیا گیا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ پی آئی اے کا شمار دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہوتا تھا۔ اس کی کارکردگی اتنی اچھی تھی کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں دو ایک نئی ایئر لائنز کے قیام اور استحکام میں ان کی مدد بھی کی۔ اب وہ ایئر لائنز دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں شمار ہوتی ہیں اور ان کا فضائی بیڑا فروغ پذیر ہے جبکہ پی آئی اے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور وزیر ہوا بازی جیسے لوگ اس گرتی ہوئی دیوار کو مزید دھکے لگانے میں مصروف ہیں۔ پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ زوال کا سفر شروع ہو گیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس کی وجہ منتخب حکومتوں کے ادوار میں پی آئی اے میں ملازمین کی سیاسی بھرتیاں ہیں۔ یعنی کمائی کم تھی اور کھانے والے زیادہ تھی۔ ہوتے ہوتے منافع میں جانے والا ادارہ خسارے میں جانے لگا اور اب صورت حال یہ کہ حکومت اگر ہر سال اربوں روپے کی مدد نہ کرے تو یہ ادارہ چل ہی نہیں پاتا۔ رہی سہی کسر اب وزیر ہوا بازی نے پوری کر دی ہے۔ خسارے کی وجہ سے ہی اب کچھ عرصے سے اس ادارے کی نج کاری کے بارے سوچا جا رہا تھا۔ وزیر ہوا بازی کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے اب اس کا ٹکا بھی نہیں ملنے والا۔ کر لیں اس کی نج کاری۔

اب صورتحال یہ ہے کہ یورپ اور برطانیہ میں پی آئی اے کو صرف دو دن مزید آپریٹ کرنے کی اجازت ملی ہے۔ ان دو دنوں میں کتنے لوگوں کو واپس لایا جا سکے گا؟ اور پھر جنہوں نے ریٹرن ٹکٹس لے رکھے ہیں اور وہ بیرونِ ملک بیٹھے ہوئے ہیں ان کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ سپیشل پروازوں کے نام پر دوسرے ممالک میں آپریشن تاحال جاری ہیں‘ لیکن ایسی پروازوں کے ٹکٹ نہایت مہنگے فروخت کئے جا رہے ہیں۔ اگر اب یورپی یونین میں آپریشن معطل ہونے جا رہا ہے یا طیاروں کی کمی ہے تو اس میں ان لوگوں کا کوئی قصور نہیں ہے جنہوں نے ریٹرن ٹکٹس خرید رکھے ہیں اور وہ دوسرے ممالک میں بیٹھے واپسی کے منتظر ہیں۔ ان لوگوں کو واپس لانے کے بجائے ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ علیحدہ سے ٹکٹ لیں یعنی مہنگا والا تب ان کو واپس لایا جائے گا۔ جو لوگ دوسرے ممالک میں رہ رہے اور وہ ابھی وہیں رہنا چاہتے ہیں‘ ان کی الگ بات ہے لیکن جو مسافر وزٹ کے لئے دوسرے ممالک گئے ہوئے ہیں‘ انہیں وہاں پھنسا دیا گیا ہے۔ یہ میں سنی سنائی باتیں نہیں کر رہا بلکہ اپنا تجربہ بیان کر رہا ہوں۔

میری ہمشیرہ فروری میں ایئر بلیو ایئر لائن کی ٹکٹ پر فروری میں دبئی گئی تھیں۔اپریل میں ان کی واپسی تھی‘ لیکن اپریل میں لاک ڈاؤن ہو گیااور ایئر لائن کا آپریشن کینسل ہو گیا۔کہا گیا کہ جب آپریشن دوبارہ شروع ہو گا تب واپسی ممکن ہو سکے گی۔ پھر کہا گیا کہ ایئر لائن یکم جولائی کو اوپن ہو رہی ہے۔ہمشیرہ نے واپسی کی ٹکٹ او کے کروا لی۔لیکن یکم جولائی والی فلائٹ کینسل ہو گئی۔ مذکورہ کمپنی خصوصی فلائٹ چلا رہی ہے لیکن اس کی ٹکٹ بہت زیادہ مہنگی ہے۔ ایئرلائن ان مسافروں کو ایڈجسٹ کرنے کو تیار نہیں جنہوں نے ریٹرن ٹکٹ لے رکھے ہیں حالانکہ انہیں واپس لانا متعلقہ ایئرلائن کی ذمہ داری ہے‘ چاہے اسے سپیشل فلائٹ کا نام دے یا کوئی اور۔ان کا خیال رکھنا حکومت اور اس ادارے کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری ہر حال میں پوری کی جانی چاہئے۔ کیا وہ واپسی کے لئے نئے سرے سے انتظامات اور تگ و دو کریں گے؟ ضروری ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ رابطہ کرکے ان کو سہولت فراہم کی جائے۔ اب پی آئی اے کی پروازیں بند ہونے جا رہی ہیں تو اندیشہ ہے کہ نجی ایئر لائنز والے مزید کھل کھیلیں گے اور یورپ میں بھی مسافروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں گے۔ حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہئے تاکہ دوسرے ممالک کو گئے ہوئے مسافر خجل خراب ہونے سے بچ سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -