مہندرسنگھ بیدی کی دلچسپ آپ بیتی

مہندرسنگھ بیدی کی دلچسپ آپ بیتی
مہندرسنگھ بیدی کی دلچسپ آپ بیتی

  

سوانح عمری کی صنف کو بنیا دی طور پر مغربی صنف ما نا جا تا ہے کیونکہ مشرق کے با رے میں ایک عمومی تا ثر یہ رہا ہے کہ یہاں پر مغرب کے بر خلاف اپنی ذات کو نمایاں کر نا یا خوبیوں کوبیان کر نا ایک طرح سے معیوب ما نا گیا ہے۔ ہماری تہذیب میں اپنی انا کو دبا کر رکھنا یا ما رنا ہمارے نزدیک ایک اخلاقی فریضہ ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ اردو ادب میں بہت سے لوگوں نے سوانح حیات لکھیں مگر ان میں سے بہت کم ایسی ہیں جن کو ادب کے معیار پر پرکھنے کے بعد صحیح معنوں میں آپ بیتی یا سوانح حیات کہا جا سکتا ہے۔بعض سوانح حیات ایسی ہیں کہ جن میں اپنے سوا کسی اور کو اس قابل سمجھا ہی نہیں جا تا کہ اس کی تعریف میں کچھ لکھا جا ئے اسلئے اپنی آپ بیتی لکھنے والا ایک طرح سے سپر مین دکھا ئی دیتا ہے جو ہر طرح کی بشری کمزوری سے پا ک ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے کہ جنہوں نے سوانح حیات لکھتے ہوئے اپنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنی خامیوں کا بھی ذکر کیا ہو اور اپنی ذات کے ساتھ ساتھ معروضی حالات کو بھی اہمیت دی ہو۔ کتاب ”یادوں کا جشن“ کے بارے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ سوانح حیات کی کسوٹی پر پورا اترنے والی کتاب ہے۔

کنور مہندرسنگھ بیدی سحر کی آپ بیتی ”یا دوں کا جشن“ ویسے تو 1983میں شائع ہو ئی مگر اس کتا ب کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بھارت کے ساتھ ساتھ پا کستان میں بھی یہ کتاب ہاتھوں ہا تھ فروخت ہو ئی اور اسکی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ہی اب اس کتا ب کو کچھ عرصہ پہلے ایک اشاعتی ادارے کی جانب سے دو با رہ شائع کیا گیا۔”یا دوں کا جشن“ مہندرسنگھ بیدی سحر(1909_1998) کی ایسی آپ بیتی ہے کہ جس میں اس وقت کے معروضی حالات بھر پور طریقے سے ہما رے سامنے آتے ہیں۔پنجاب کے علاقے منٹگمری(ساہیوال)کے جا گیر دار گھرانے میں جنم لینے والے کنور مہندر سنگھ بیدی نے اپنی اس آپ بیتی میں 1947سے پہلے کے متحدہ پنجاب کے حالات کو اس قدر واقعاتی انداز سے پیش کیا ہے کہ اس کتا ب کو پڑھتے ہو ئے لگتا ہے کہ کتاب نہیں پڑھ رہے بلکہ کو ئی فلم دیکھ رہے ہیں جس میں منظر کشی ہما رے سامنے ہی ہو رہی ہے۔زیادہ دلچسپ با ت یہ ہے کہ کنور مہندر سنگھ بیدی نے صرف ایک شاعر یا ادیب کے طور پر ہی نہیں بلکہ مجسٹریٹ، اسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر جیسے انتظامی عہدوں پر تعینا ت رہتے ہوئے جس طرح اس وقت کے معروضی حالات کو پیش کیا ہے وہ ایک پوری تا ریخ ہے۔1947سے پہلے متحدہ پنجاب کے اہم شہروں جیسے لاہور، ملتان، روہتک،جہلم،کانگڑا، جا لندھر، اور پھر تقسیم ہند کے بعد دہلی، سونی پت اور کرنال جیسے شہروں کا احوال اسلئے بہت دلچسپ ہے کہ کنور مہندر سنگھ بیدی نے ان شہروں میں اہم انتظامی عہدوں پر رہتے ہوئے بہت سے مشاہدات کئے اور پھر ان مشاہدات کو کتاب کی صورت میں پیش کر دیا۔

ان کی اس کتاب سے اندازہ ہو تا ہے کہ انگریز کے دور میں اضلاع کی انتظامیہ اور زیریں عدالتوں میں کا م کاج کی کیا صورت حال ہوتی تھی۔انگریز افسران کا رویہ اپنے سے چھوٹے ہندوستانی افسران کے ساتھ کیسے ہو تا تھا۔ضلعی سطح پر کیسے بعض اوقات پٹواریوں، تحصیل داروں اور مجسٹریٹوں کی کر پشن کے با عث لو گوں کے جا ئز کا م بھی رکے رہتے، بعض اوقات تو اسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے درجے پر فا ئز افسران بھی اس ساری کر پشن میں با قاعدہ حصے دار ہو تے تھے آزادی کے بعد اس کرپشن میں مزید اضافہ ہو گیا۔اگست1947میں تقسیم کے بعد جب بر صغیر کے کئی علاقوں کی طرح دہلی میں بھی فسادات ہو رہے تھے اور ان فسادات میں مسلمانوں کی جان و مال پر حملے کئے جا رہے تھے تو بھارتی وزیر اعظم نہرو نے ان فسادات کو رکوانے کیلئے جب متا ثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان چھوڑ کر پا کستان نہ جا ئیں تو اس کے جواب میں دہلی میں سرکردہ مسلمانوں کی جانب سے نہرو سے جو مطالبات کئے گئے ان میں ایک مطا لبہ یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے کنور مہندر سنگھ بیدی کو دہلی میں سٹی مجسٹریٹ کے طور پر تعینات کیا جائے اور شہر کا تمام انتظام ان کے حوالے کیا جائے۔ کیونکہ مسلمانوں کو کنور مہندر سنگھ بیدی پر پورا اعتماد تھا۔

نہرو نے اس مطا لبے کو تسلیم کرتے ہو ئے بیدی کو دہلی میں سٹی مجسٹریٹ کے طور پر تعینات کر دیا۔ بیدی نے دہلی میں فسادات کو کنٹرول کرنے کیلئے بھر پور اقدامات کئے۔ حتیٰ کہ مو ہن داس کرم چندگا ندھی نے بھی کنور مہندر سنگھ بیدی کو اپنے پا س بلا کر ان کو شاباش دی کہ انہوں نے مسلمانوں کے گھروں سے فسادیوں کا قبضہ ختم کرواکر مسلمانوں کو اپنے گھر واپس دلا دیے ہیں۔تار یخ بتا تی ہے کہ 1947کے فسادات کے دوران”آر ایس ایس“ اور مہا سبھا جیسی انتہا پسند تنظیمیں ایسے سکھوں اور ہندووں سے مسلم دشمنی کا کا م لے رہی تھیں کہ جن کو پاکستان کے علاقوں سے اپنا گھر با ر چھوڑ کر ہندوستا ن میں پناہ لینے کیلئے آنا پڑ رہا تھا۔ ایسے ہندووں اور سکھوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑ کا نہ بڑا آسان ہو تا تھا۔ کنور مہندر سنگھ بیدی کا تعلق بھی ایسے ضلع (ساہیوال) سے تھا کہ جو پا کستان میں شامل ہو نے جا رہا تھا۔

اور کنور مہندر سنگھ بیدی اور انکے خاندان کو اپنی بہت بڑی جا گیر سے بھی ہا تھ دھونے پڑ رہے تھے۔اس کے با وجود کنور مہندرسنگھ بیدی نے اپنے دل کو مسلم دشمنی کے جذبا ت سے پا ک رکھا اور اپنے انتظامی اختیارات کو استعما ل میں لا تے ہوئے بہت سے مسلمانوں کے جان و مال کی حفاظت میں بھی اپنا بھر پور کر دار ادا کیا۔ کنور مہندر سنگھ بیدی تقسیم ہند کو ایک حقیقت قرار دیتے ہو ئے پا کستان اور ہندوستان کے مابین دوستانہ تعلقات کے زبر دست حامی رہے انہوں نے ملازمت سے ریٹائرڈ ہو نے کے بعد نہ صرف پا کستان کے کئی دورے کئے بلکہ اپنی کتاب ”یا دوں کا جشن“ بھی پا کستان اور ہندوستان کی دوستی کے نا م کی۔ کنور مہندر سنگھ بیدی اپنی ذاتی حیثیت میں پا کستان سے ادیبوں اور شاعروں کو ہندوستا ن بلا کر ادبی پرو گراموں کا انعقاد کر واتے یہی وجہ ہے کہ پا کستان کے بہت سے شاعروں کی ان سے بہت قریبی دوستی رہی۔

کتاب ”یا دوں کا جشن“ کو پڑ ھتے ہوئے واضح طور پر یہ احساس ہو تا ہے کہ یہ کتاب ایک ایسے شخص نے لکھی ہے کہ جس کا پس منظر جا گیر دارانہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں ہمیں وہ طبقاتی تعصب بھی دکھائی دیتا ہے کہ جو ایک جا گیر دار کا خاصہ ہو تا ہے۔ جیسے کنور مہندر سنگھ بیدی اس با ت پر با ر بار فخر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کا تعلق کسی عام نہیں بلکہ جا گیر دار گھرانے سے ہے۔ جا گیرداروں کے مخصوص شوق جیسے جا نوروں کو پا لنا اور خاص طور پر اپنے شکار کے شوق پر بیدی نے کئی صفحات لکھے۔ کنور مہندرسنگھ بیدی نے اپنی کتاب میں بھارت میں زمینی اصلاحات کی بھی مخالفت کی۔ بیدی کے مطابق زمینی اصلاحات سے جا گیر داروں کی کمر تو توڑی گئی مگر سرمایہ داروں کو سرمایہ بنانے کی کھلی آزادی اور چھوٹ دے دی گئی جس کے باعث امیر اور امیر اور غریب، غریب تر ہو تا گیا۔خیر یہ تو کنور مہندر سنگھ بیدی کی طبقاتی سوچ کا اظہار تھا کہ وہ اپنی کتاب میں جا گیر دا را نہ نظام اور اقدار کی حمایت کرتے نظر آئے مگر بیدی کی اس طبقاتی سوچ سے قطع نظر کتاب ”یا دوں کا جشن“ میں تا ریخ کے طالب علموں کیلئے دلچسپی کا بھر پور سامان موجود ہے۔

مزید :

رائے -کالم -