لداخ میں آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے(2)

لداخ میں آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے(2)
لداخ میں آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے(2)

  

ویسے تو انڈیا اور چین دونوں جنگ نہیں چاہتے۔ ایک حقیقت یہ ہے کہ جنگ تباہی لاتی ہے اور دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ جنگ کے کھنڈرات ہی سے نئی اور عالیشان عمارتیں ابھرتی ہیں۔یوں جنگ اور امن، بربادی اور آبادی اور غم اور خوشی لازم و ملزوم حقیقتیں ہیں۔ ایک کے بغیر دوسری کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے کور کمانڈرز چوشال (انڈین لداخ) میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ تین چار دور ہو چکے ہیں لیکن کوئی کلیئر کٹ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ یہ مذاکرات جنگ سے پہلے وقت خریدنے کی ایک کوشش کا نام ہوتے ہیں۔ چین، لداخ کے عقب میں سطح مرتفع تبت کے علاقے میں روائتی جنگ کے سارے ہلکے اور بھاری ہتھیار جمع کر چکا ہے۔ دوسری طرف بھارت بھی دھڑا دھڑا ایسا کر رہا ہے۔

قارئین کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ لداخ میں جنگ صرف 5ماہ تک ہو سکتی ہے۔ مئی، جون، جولائی، اگست اور ستمبر…… اور اس کے بعد برفباری شروع ہو جاتی ہے، درجہ ء حرارت گر جاتا ہے اور سنو وارفیئر (Snow Warfare) ایک نہائت مہنگی آپشن ہے۔ میرا خیال ہے جو کچھ ہونا ہے وہ ستمبر (2020ء)سے پہلے پہلے ہو جائے گا۔ چین کے مقابلے میں انڈیا، آنے والی جنگ کی ٹیرین (زمین) کے تناظر میں گھاٹے میں ہے۔ لداخ کے آس پاس کا علاقہ بھاری سلاحِ جنگ (ٹینک، آرٹلری، میزائل، ائر) کو تادیر Sustain نہیں کر سکتا جبکہ چین کی گہرائی ان بھاری ہتھیاروں کے سنبھالنے کے لئے نسبتاً زیادہ موزوں ہے۔

اوائل جون سے لے کر اب تک انڈیا بھاری جنگی ساز و سامان لداخ میں پہنچا رہا ہے۔ یہ سامانِ جنگ بذریعہ روڈ نہیں پہنچایا جا سکتا اور نہ ہی کوئی ریلوے نیٹ ورک ایسا ہے جو انڈیا کے میدانی علاقوں سے کشمیر اور لداخ کے علاقوں تک جا سکتا ہے۔ لیہ (Leh) لداخ کا دارالحکومت ہے اور خاصا وسیع اور فراخ علاقہ ہے۔ لیکن اس تک جانے کے لئے انڈیا کی دو زمینی شاہراہیں موجود ہیں۔ ایک سرینگر سے لیہ تک جاتی ہے اور دوسری منالی (Manali) سے لیہ پہنچتی ہے۔لیکن یہ دونوں سڑکیں لداخ تک وہ اسلحہ اور جنگی سامان اور ٹروپس وغیرہ نہیں پہنچا سکتیں جس کی ضرورت چین سے جنگ کی صورت میں پڑے گی۔ اس لئے انڈیا ایک طویل عرصے سے اپنی ائر لفٹ صلاحیت بڑھا رہا ہے۔

چندی گڑھ، بھارتی پنجاب کا ریاستی دارالحکومت ہے۔ یہ نسبتاً ایک نیا شہر ہے جس کی پلاننگ برٹش اور فرنچ ماہرینِ تعمیرات نے کی تھی۔ اس کی آبادی تقریباً 10لاکھ ہے اور یہ انڈیا کی وہ واحد ائر بیس ہے جو لداخ اور کشمیر میں طیاروں کے ذریعے سامانِ جنگ بھیج سکتی ہے۔ انڈیا کے پاس ٹرانسپورٹ طیاروں کا ایک بڑا بیڑا ہے جس میں 1L-76،1L-78، C-130J، C-17، AN-32، AN-12 اور چنوک ہیلی کاپٹر وغیرہ شامل ہیں۔

چندی گڑھ ائر بیس 1961ء میں قائم کی گئی تھی۔ اور چونکہ، جیسا کہ اوپر لکھا گیا، کشمیر سے نزدیک ترین واحد فضائی مستقر ہے جہاں سے بذریعہ طیارہ جنگی سامان وغیرہ بھیجا جا سکتا ہے، اس لئے اس کی اہمیت زیادہ ہے۔ انڈیا نے اپنے ٹرانسپورٹ فضائی بیڑے میں جو درج بالا طیارے انڈکٹ کئے ہوئے ہیں ان کے ذریعے آج کل دن رات بڑی عجلت سے (لداخ تک) پروازیں ہو رہی ہیں۔ انڈیا کا سب سے بڑا اور پاور فل ٹینک رشین T-90ہے جو اس کی سٹرائک فارمیشن کا سرخیل (Spearhead) ہے۔ چین کے آرمر میں جو ہلکے اور بھاری ٹینک ہیں ان کا مقابلہ اسی T-90 سے کیا جا سکتا ہے۔

ایک T-90 ٹینک کا وزن تقریباً 46ٹن ہوتا ہے اور وہ صرف C-17طیارے میں ہی لے جایا جا سکتا ہے۔اس ٹرانسپورٹ طیارے (C-17) میں 77ٹن وزن اٹھانے کی صلاحیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں صرف ایک ٹینک، اس کا گولہ بارود اور دوسرا ساز و سامان لے جایا جا سکتا ہے۔ وزن اٹھانے کی صلاحیت (Capacity) میں دوسرے نمبر پر IL-76 اور IL-78 آتے ہیں۔ یہ دونوں طیارے روسی ساخت کے ہیں لیکن ان میں وزن اٹھانے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت 45ٹن ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں T-90ٹینک نہیں لے جایا جا سکتا۔IL-78ایسا طیارہ ہے جو فضا میں IL-76 کو پٹرول بھی منتقل کر سکتا ہے اور بطور روائتی لوڈ کیرئیر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت انڈیا کے پاس 11عدد C-17 ٹرانسپورٹ طیارے ہیں اور یہ دن رات چندی گڑھ سے لیہ (Leh) آ جا رہے ہیں۔T-90ٹینکوں کے علاوہ انڈیا کے پاس T-72 ٹینک ہیں جو 14کور اور 15کور کے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ ایک T-72 کا وزن 40ٹن ہوتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ ٹینک وار فیئر میں جو انفنٹری، ٹینکوں کے ہمراہ ان کے عقب میں جاتی ہے وہ میکانائزڈ گاڑیوں میں سوار ہوتی ہے۔ ٹینک آگے آگے اور یہ بکتر بند گاڑیاں پیچھے پیچھے تاکہ جب موقع آئے تو گراؤنڈ کو ہولڈ کر سکیں۔ انڈین ٹی۔ سیریز کے ٹینکوں کے ساتھ جو بکتر بند گاڑیاں ہوتی ہیں ان کو BMP-2میکانائزڈ کمبٹ وہیکلز کہا جاتا ہے۔1980ء کے عشرے میں اگر آپ کو یاد ہو تو یہ BMP-2 میکانائزڈ گاڑیاں افغانستان کے طول و عرض میں رشین ٹینکوں کے ساتھ ساتھ ہوتی تھیں۔

بھاری ٹینک، کوہستانی علاقوں میں اس لئے آپریٹ نہیں کئے جاتے کہ ان کو لے جانے اور ان کے ساتھ بکتر بند گاڑیوں کو لے جانے کے لئے جو ٹینک ٹرانسپورٹر درکار ہوتے ہیں وہ صرف بڑی بڑی اور کشادہ سڑکوں ہی پر آپریٹ ہو سکتے ہیں اور لداخی علاقے میں ایسی فراخ سڑکیں کہاں ہیں؟ یہی وجہ تھی کہ 1990ء کے عشرے میں T-72 ٹینکوں اور بھاری توپوں کو IL-76 طیاروں کے ذریعے اٹھا کر کشمیر اور لداخ لے جایا گیا تھا۔ یہ ٹینک تب سے وہیں ہیں۔ ان کو ٹرانسپورٹ کرنے کے لئے بھی ٹینک ٹرانسپورٹر درکار ہوتے ہیں اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا پہاڑی سڑکوں کے تنگ موڑ ان دیوہیکل گاڑیوں کو سپورٹ نہیں کر سکتے۔

1999ء کی کارگل وار میں انڈیا کو یہ تلخ تجربہ ہو چکا ہے کہ اس کی بھاری توپیں کوہستانی تنگ موڑوں اور سڑکوں سے نہیں گزر سکتیں۔ اس لئے اس نے ائر موبلٹی پر زور دیا اور دیوقامت ٹرانسپورٹ طیاروں کے حصول کا بندوبست شروع کیا۔ آج اگرچہ انڈیا کے پاس 104عدد AN-32 ٹرانسپورٹ طیارے موجود ہیں۔ لیکن اس کو زیادہ ضرورت C-17 اور C-130J کی ہے جو نہایت مہنگے بھی ہیں اور ان کے لئے فراخ رن ویز کی ضرورت بھی ہوتی ہے جو لداخی علاقوں میں کم کم میسر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دولت بیگ اولدی میں عسکری آمد و رفت کا جو انحصار پہلے AN-32 پر تھا، اب وہ C-130 پر ہے۔ یہ اگرچہ کم لوڈ اٹھاتا ہے (تقریباً 20ٹن) لیکن انڈیا کے اگلے (Forward) مستقروں میں اس سے بہت مفید کام لیا جا رہا ہے۔

ان طیاروں کے علاوہ عمودی اٹھان والے ہیلی کاپٹر بھی ان علاقوں میں ایک اہم انصرامی رول ادا کرتے ہیں۔ ان ہیلی کاپٹروں میں رشین MI-17، انڈیا کے تیار کردہ دھُرو اور امریکی چنوک ہیوی لفٹ شامل ہیں۔ انڈیا کے پاس اب 90عدد دھرو، اور 150عدد MI-17 موجود ہیں۔ حال ہی میں انڈیا نے امریکہ سے 15چنوک بھی خریدے ہیں …… ان فضائی مشینوں نے انڈیا کو ان کوہستانی بلندیوں میں ہمہ موسمی اور روز و شب آپریشنوں کی سہولیات فراہم کر دی ہیں۔ کشمیر کی تنگ وادیوں میں ان طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی اڑانیں آج کل ایک معمول ہیں …… ابھی ایک ڈیڑھ برس پہلے انڈیا نے 2018ء کے موسمِ سرما میں ایک فضائی مشق چلائی تھی جس میں چندی گڑھ سے ان ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے بیک وقت اور لگاتار 463 ٹن عسکری لوڈ لفٹ کیا گیا تھا۔ اس مشق میں 16طیارے استعمال کئے گئے تھے اور تمام کے تمام فِکسڈ ونگ تھے (یعنی ہیلی کاپٹر ان میں شامل نہیں تھے)ان C-17، 1L-76اور AN-32نے صرف 6گھنٹوں میں یہ لوڈ (463ٹن) اٹھا کر چندی گڑھ سے لیہ اور دولت بیگ اولدی میں پہنچا دیا تھا!

قارئین کرام! مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے سطورِ بالا میں جس ائر لفٹ صلاحیت کا ذکر کیا ہے وہ ذکر شائد پہلی دفعہ اردو زبان میں کسی لکھاری کے قلم سے نکلا ہے اس لئے آپ کو شائد خشک اور اجنبی بھی محسوس ہو گا۔ میں اس بوریت کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ لیکن یہی وہ ”بوریت اور خشکی“ ہے جو اردو زبان میں عام لکھنے اور پڑھنے میں نہیں آتی لیکن میں سمجھتا ہوں آج اس قسم کی تحریروں کی از بس ضرورت ہے۔ میں اپنے ریٹائرد آفیسرز حضرات سے گزارش کروں گا کہ وہ میڈیا (بالخصوص پرنٹ میڈیا) میں لکھ کر اس طرح کے دفاعی امور و معاملات سے قارئین کو آگہی دینے کا سلسلہ شروع کریں۔ کل کلاں انڈو۔چائنا وار ہوئی تو پاکستان اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکے گا(ختم شد)

ا

مزید :

رائے -کالم -