سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت، سرکاری افسران کو رپورٹس اور بیان حلفی پیش کرنے کیلئے حتمی مہلت

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت، سرکاری افسران کو رپورٹس اور بیان حلفی پیش کرنے ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں قائم 7رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ازسرنو تحقیقات کے لئے نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کے خلاف دائردرخواست پر پنجاب حکومت کے متعلقہ افسروں کو رپورٹس اور بیان حلفی پیش کرنے کے لئے حتمی مہلت دیتے ہوئے قراردیا کہ اگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ان افسروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی،چیف جسٹس محمد قاسم خان،جسٹس محمد امیر بھٹی،جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس عالیہ نیلم،جسٹس اسجد جاوید گھرال،جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس فاروق حیدر پرمشتمل فل بنچ کے روبرواس کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عارف کمال نون نے عدالت کو بتایا کہ چیف سیکرٹری پنجاب اور ایڈیشنل سیکرٹری ہوم نے پہلی جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب حکومت کے ان افسروں نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا، ہم نے دونوں افسروں کا بیان حلفی مانگا تھا،عدالت نے یہ بھی استفسار کیا تھا کہ کیا اس وقت کی حکومت کے کسی مجازافسر نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو دوسری جے آئی ٹی بنانے کے حق میں سپریم کورٹ کے روبرو بیان دینے کی ہدایت کی تھی؟چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ لاء افسروں کو ٹیلی فون پرہدایات دیتے رہیں اور بعد میں اس سے منحرف ہوجائیں،ہم کسی کو ادھر ادھر نہیں ہونے دیں گے، بیان حلفی اسی وجہ سے مانگا ہے کہ اگر غلط بیانی کی گئی ہے تو کارروائی کی جاسکے،ان افسروں کا بیان حلفی کہاں ہے؟جس پر پراسکیوٹر جنرل پنجاب عارف کمال نون نے کہا کہ سر مجھے جوکہا گیا تھا وہ میں نے بیان کر دیاہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے قانونی بات کرنی ہے نہ کہ ان کی کہی ہوئی بات آگے بیان کردینی ہے،آپ پراسکیوٹر جنرل پنجاب ہیں، آپ افسروں کی کٹ پتلی نہیں ہیں، جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ آپ نے عدالتی حکم کے باوجود سپریم کورٹ میں دی گئی درخواست کی کاپی بھی پیش نہیں کی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزم پولیس اہلکاروں رضوان قادر وغیرہ نے دوسری جے آئی ٹی کی تشکیل کو عدالت میں چیلنج کررکھاہے۔جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے مدعاعلیہان سے کہا کہ 8 مہینے ہو گئے آپ سے ایک رپورٹ تیار نہیں ہو سکی، درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ایک جوڈیشل کمیشن اور ایک جے آئی ٹی پہلے ہی تحقیقات کر چکے ہیں، فوجداری قوانین کے تحت فرد جرم عائد عائد ہونے کے بعد نئی تفتیش نہیں ہو سکتی، درخواست گزاروں کے وکیل برہان معظم ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم نہیں دیا، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل حکومت کی بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے، فاضل بنچ نے کیس کی مزید سماعت9ستمبر پر ملتوی کرتے ہوئے قراردیا کہ آئندہ اس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی۔

جے آئی ٹی

مزید :

صفحہ آخر -