میاں نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک نوکری سے برطرف، ویڈیو سکینڈل میں قصور وار قرار

  میاں نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک نوکری سے برطرف، ویڈیو سکینڈل ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمدارشد ملک کو ویڈیو سکینڈل میں قصور وارقراردیتے ہوئے نوکری سے برطرف کردیاہے۔چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں عدالت عالیہ کی انتظامی کمیٹی نے انکوائری افسر مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد محمدارشد ملک کی برطرفی کی منظوری دی،انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں جسٹس محمد امیر بھٹی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان،جسٹس شجاعت علی خان،جسٹس عائشہ ملک،جسٹس شاہد وحید اور جسٹس علی باقر نجفی نے شرکت کی،ارشد ملک کاتعلق پنجاب عدلیہ سے ہے،وہ یکم اگست 2000ء کو ایڈیشنل سیشن جج بھرتی ہوئے،22جولائی 2009ء کو انہیں سیشن جج کے عہدہ پر ترقی ملی،بعدازاں 2018ء میں ان کی خدمات تین سال کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سپرد کی گئیں اورانہیں فروری 2018ء میں اسلام آباد احتساب عدالت کا جج مقررکیاگیا،انہوں نے احتساب عدالت کے جج کے طور پر 24 دسمبر 2018 ء کو میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں 7سال قید،جائیدادکی ضبطی اورپونے 4ارب روپے جرمانہ کے علاوہ 10سال کے لئے نااہلی کی سزا سنائی تھی جبکہ میاں نوازشریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں بری کردیاتھا،6 جولائی 2019 ء کوپاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوز جاری کی تھی جس میں جج ارشد ملک اعتراف کررہے ہیں کہ انہوں نے دباؤ کے تحت میاں نواز شریف کو سزاسنائی،اس پریس کانفرنس کے جواب میں ارشد ملک نے 7جولائی 2019ء کوپریس ریلیز جاری کی جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے بغیر کسی دباؤ کے میاں نواز شریف کے کیس کا فیصلہ دیا،انہوں نے اپنی پریس ریلیز میں الزام لگایا کہ ریفرنس کی سماعت کے دوران میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے نمائندوں نے انہیں بارہا رشوت کی پیش کش کی اور تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں،ارشد ملک نے اسی نوعیت کا بیان حلفی 11جولائی 2019ء کواسلام آباد ہائی کورٹ میں داخل کیا،ویڈیو سکینڈل سامنے آنے کے بعد اگست 2019ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی خدمات لاہورہائی کورٹ کو واپس کردیں،لاہورہائی کورٹ نے 22اگست 2019ء کو انہیں او ایس ڈی مقررکیا اور ستمبر میں ان کے خلاف انکوائری شروع کردی،مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم انکوائری افسر مقررہوئے جنہوں نے اپنی رپورٹ میں محمدارشد ملک کو قصور وار قراردیا،ان کی رپورٹ پر گزشتہ روز عدالت عالیہ کی انڈمنسٹریشن کمیٹی نے محمد ارشد ملک کو برطرف کرنے کی منظوری دے دی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں میاں نواز شریف کی معینہ مدت کے لئے ضمانت منظور کرتے ہوئے ارشد ملک کے حوالے سے بھی آبزرویشنز دی تھیں،سپریم کورٹ میں پہلی مرتبہ 16 جولائی 2019 کو اس ویڈیو سکینڈل کیس کی سماعت ہوئی اوراس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹرجسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے ریمارکس دیئے تھے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو جج نے کہا وہ انتہائی غیر معمولی باتیں ہیں۔ سپریم کورٹ کوئی فیصلہ دے گی تو ہائیکورٹ میں زیر سماعت کیس پر اثر پڑے گا،16 جولائی 2019ء کو ہی جج ارشد ملک نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 ء کے تحت ایف آئی اے کو درخواست دی جس پر ایف آئی اے نے سائبر کرائم کی شقوں کے تحت ان کی ویڈیو بنانے کے حوالے سے مقدمہ درج کیا،23جولائی2019 ء کو سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک کے ویڈیو کیس پر ایف آئی اے کو تین ہفتوں میں مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے 23 اگست 2019ء کو کیس کا فیصلہ سنایا اور کہا کہ جج ارشد ملک کی 7 جولائی 2019ء کی پریس ریلیز اور 11 جولائی 2019ء کا بیان حلفی اْن کے خلاف فرد جرم ہے،ارشد ملک کی ایک نازیبا ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی جو مبینہ طور پر ان کی ملتان تعیناتی کے دوران بنائی گئی تھی،اس تمام معاملے کی انکوائری کے بعداب لاہورہائی کورٹ نے انہیں قصور وارقراردے کر نوکری سے فارغ کردیاہے۔ارشد ملک کا پنجاب کے سیشن ججوں کی سنیارٹی لسٹ میں 12واں نمبر تھا۔

جج برطرف

مزید :

صفحہ اول -