سی پیک روشن مستقبل کی ضمانت، پاک چین دوستی کا مظہر منصوبہ ہر حال میں پایہ تکمیل تک پہنچا کر ثمرات ہر پاکستانی تک پہنچائیں گے: عمرا ن خان

    سی پیک روشن مستقبل کی ضمانت، پاک چین دوستی کا مظہر منصوبہ ہر حال میں پایہ ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیرِ اعظم عمران خان کی صدارت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت منصوبوں کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعظم نے سی پیک اتھارٹی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکیا۔وزیراعظم کو جاری منصوبوں کی مو جودہ صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے اجلا س سے خطب کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے حوالے سے ایک بہترین منصوبہ ہے اور پاکستان کے روشن مستقل کی ضمانت ہے - وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک چین دوستی کے مظہر سی پیک منصوبے کو ہر حال میں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے اور اس کے ثمرات ہر خاص وعام پاکستانی تک پہنچائے جائیں گے۔وزیراعظم نے سی پیک اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اس ادارے کی کارکردگی اور استطاعت کو مزید موثر بنانے کے لئے تما م ضروری اقدامات کئے جائیں۔اجلاس میں وفاقی وزارء اسد عمر، مخدوم خسرو بختیار، عمر ایوب، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، چئیرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ اور متعلقہ وزارتوں کے اعلی حکام نے شرکت کی دریں اثنا وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی سے متعلق ایک اہم اجلاس ہوا جس میں شرکا نے ملکی خود مختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرنے کا عزم کیا ہے۔اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔قومی قیادت کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن چاہتا ہے لیکن اپنی سالمیت کے دفاع کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ عوام اور ملکی سرحدوں کی سلامتی کیلئے پرعزم ہیں۔اجلاس کے شرکا نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کا نوٹس لے۔اعلیٰ سطح اجلاس میں پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور اور قانونی نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے بڑے شہروں کے ماسٹر پلان کو ازسر نو ترتیب دینے کے حوالے سے جائزہ اجلاس بھی ہوا۔اجلاس میں مشیر ماحولیات ملک امین اسلم، ممبر قومی اسمبلی و ماہر ٹاؤن پلاننگ خیال زمان، چئیرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی ، سیکرٹری ہاؤسنگ و دیگر سینئر افسران شریک جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب سمیت صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے اعلیٰ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیرِ اعظم کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے بڑے شہروں کے ماسٹر پلانز کو دورِ حاضر کی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کرنے اور ازسرِ نو مرتب کرنے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند سالوں میں بڑے شہرو ں میں بغیر کسی منصوبہ بندی پھیلاؤ کی وجہ سے نہ صرف ماحولیات کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں بلکہ اس پھیلاؤ کی وجہ سے شہری سہولتوں کے حوالے سے پیچیدہ مسائل، شہر وں میں واقع سر سبز علاقے محدود اور ملحقہ زرعی زمینوں کے رقبے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے فوڈسیکیورٹی کو بھی مستقبل میں شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہر شہر کے محرکات اور سماجی و معاشی سرگرمیوں کو مدنظر رکھ کر ماسٹر پلان میں ترامیم و اپ گریڈیشن کا عمل آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کو از سر نو ترتیب دیتے ہوئے اس امر پر خصوصی توجہ دی جائے کہ شہری علاقے ملکی معیشت کے لئے انجن آف گروتھ کا کام سر انجام دیں اور اس سے نوجوانوں کے لئے نوکریوں اور معاشی سرگرمیوں کے بہتر مواقع پیدا ہوں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے میں بھی حکومت کی طرف سے مراعات کا مقصد شعبے کے فروغ و جدت کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ وزیرِ اعظم نے صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ شہروں کے ماسٹر پلانز کو ازسر نو ترتیب دینے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کیا جائے تاکہ یہ کام جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ماسٹر پلانز کو حتمی شکل دینے کے روڈ میپ اور اس عمل کی تکمیل کے دوران عبوری لائحہ عمل پر مشتمل رپورٹ آئندہ ایک ہفتے تک مکمل کی جائے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -