نیکی کا حسن

نیکی کا حسن

  

سردیوں کی چھٹیوں کے بعد جب لڑکیاں سکول گئیں تو پتہ چلا کہ ان کے سکول میں سالانہ تقریبات ہونے والی ہیں، کھیلوں کے مقابلے بھی ہوں گے۔اس کے علاوہ مضمون نویسی اور ڈریس شو یعنی کافی اچھے پروگرامز ہوں گے۔سب لڑکیاں بہت خوش اور پر جوش تھیں۔

سمیرا اور اس کی سہیلیاں بھی بہت خوش تھیں اور انہوں نے تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ سمیرا پڑھائی میں بہت اچھی تھی۔اس نے بڑی محنت سے مضمون تیار کیا اور مقابلے میں شامل کرنے کے لئے ٹیچر کو دے دیا۔ دوسری لڑکیوں نے بھی اپنے مضمون جمع کروا دئیے۔

اگلے دن گیمز کے مقابلے تھے۔ لڑکیوں کا ہاکی میچ پلے گراؤنڈ میں ہوا،جس میں بہت اچھی کار کردگی دکھانے پر سمیرا کو ٹرافی ملی،سمیرا کو انعام دیا۔اس سے اگلے دن جب مضمون نویسی کے مقابلے کا اعلان ہوا تو اس میں بھی سمیرا کی پہلی پوزیشن تھی۔

سمیرا کے اساتذہ اور والدین بہت خوش تھے۔ سکول میں ہر کوئی سمیرا کی تعریف کر رہا تھا۔وہ سب سے مبارکباد وصول کررہی تھی۔ڈریس شو کے مقابلے کے لئے سمیرا نے بہت ہی خوبصورت اور منفرد لباس تیار کیا تھا اور اسے پوری امید تھی کہ یہ مقابلہ بھی وہی جیتے گی، کیونکہ وہ ہر مقابلے کے لئے بہت زیادہ محنت کرتی تھی۔سکول سے جب چھٹی ہوئی تو ٹیچر نے لڑکیوں کویاد کروایا کہ کل ڈریس شو ہے سب کا سلیقہ نظر آنا چاہیے اور سب وقت کی پابندی کے ساتھ سکول کے ہال میں پہنچ جائیں،سب لڑکیوں نے کہا ٹھیک ہے،سمیرا سکول کے گیٹ کے پاس بیٹھی گاڑی کا انتظار کر رہی تھی آج شاید ڈرائیور بابا ٹریفک میں پھنس گئے تھے، ابھی تک نہیں آئے تھے۔

زیادہ تر لڑکیاں جارہی تھیں، بس تھوڑی سی تھیں جو لینے کے لئے آنے والوں کا انتظار کر رہی تھیں۔اچانک سمیرا کو دبی دبی سسکیوں کی آواز آئی۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو برآمدے کی سیڑھیوں پر اس کی کلاس فیلونوشین بیٹھی رو رہی ہے۔

سمیرا نے پاس جاکر رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کوئی بات نہیں ہے،ویسے ہی دل بھر آیا۔کوئی پرانی بات یاد آگئی ہے۔لیکن سمیرا مطمئن نہیں ہوئی اس نے بہت زور دے کر پوچھا بہت ہمدردی کا اظہار کیا تب نوشین نے بتایا کہ جیسے تہیں معلوم ہے میری مضمون نویسی میں بھی دوسری پوزیشن آئی ہے اور گیمز میں بھی تمہارے بعد میرا نمبر ہے۔ میں نے ہر مقابلے میں حصہ لیا ہے، ڈریس شو میں بھی میں اپنا نام لکھوا چکی ہوں لیکن میں ڈریس کا انتظام نہیں کر سکی، کیونکہ ہم غریب لوگ ہیں۔ امی نے بہت کوشش کی لیکن ان سے انتظام نہیں ہو سکا۔ اب مجھے کل کی پریشانی ہے کہ ٹیچر کے سامنے شرمندگی ہو گی۔

یہ سن کر سمیرا نے کہا کہ تم میرا ڈریس لے لو مجھے پہلے دو انعام مل چکے ہیں، اب اگر میں اس تیسرے مقابلے میں حصہ نہیں لوں گی تو کوئی بات نہیں۔نوشین بولی ایسا نہیں ہو سکتا،میں تمہارے ساتھ ایسے کیسے کر سکتی ہوں،بس مجھے میرے حال پر چھوڑ دو،لیکن سمیرا نہیں مانی کہنے لگی اگر ایک ہی کلاس ایک ہی سکول میں پڑھنے والے ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے، ایک دوسرے کے مسائل سے واقف نہیں ہوں گے تو ایسی تعلیم کا کیا فائدہ؟ویسے بھی ہم مسلمان ہیں، ہمیں ایک دوسرے کے دکھ درد کا احساس ہونا چاہیے۔

سمیرا نے نوشین کو بہت پیار اور بہت اصرار سے سمجھایا تو نوشین مان گئی،اس طرح اگلے دن سمیرا اپنا بہت خوبصورت اور منفرد ڈریس نوشین کے لئے لے آئی جسے پہن کر نوشین نے اول انعام حاصل کیا اور سمیرا کو دوسرا انعام ملا۔نوشین نے یہ کہہ کر اْس سے ڈریس لیا کہ وہ بھی مقابلے میں حصہ لے گی کیونکہ اس کے حالات ایسے ہیں کہ وہ فوری طور پر ڈریس کا انتظام کر سکتی ہے۔ اس طرح سمیرا نے بھی حصہ لیا اور دوم آئی لیکن کسی کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اول انعام حاصل کرنے والی نوشین کا خوبصورت ترین ڈریس سمیرا کا تھا جس نے ایثار سے کام لیا۔

سمیرا کو نوشین کی مدد کرکے،اس کے آنسوؤں کو خوشی میں بدل کر،بے حد اطمینان وسکون اور دلی مسرت حاصل ہوئی محسوس ہوا کہ نیکی بے حد قیمتی چیز ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -