شیر کی بادشاہت

شیر کی بادشاہت

  

ایک جنگل میں ہاتھی کی حکومت تھی جو بظاہر بہت طاقت ور دکھائی دیتا تھا،لیکن دن بھرتالاب کے کنارے سست بیٹھا رہتا اور اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزار دیتا۔جنگل بہت وسیع وخوب صورت تھا،اسی وجہ سے دوسرے جنگل کے جانوروں کی نظر پر تھی۔

دشمن پہلے بھی ایک دفعہ حملہ کر چکا تھا،لیکن شیر کے گروہ نے دشمنوں کو مار بھگایا۔

ہاتھیوں کی لا پروائی دیکھتے ہوئے دشمن ایک بار پھر حملے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ہاتھی اس بات سے بالکل بے خبر تھے،لیکن شیروں کو اس بات کی خبر جلد ہی ہو گئی اور شیروں نے خفیہ طور پر مقابلے کی تیاریاں شروع کردیں اور رات کو جاگ کر پہرا دینے لگے۔

شیر نے ایک دن ہاتھی اور تمام جانوروں کو اِکٹھا کیا اور خطرے سے آگاہ کیا۔

یہ بات ہاتھی کو بْری لگی،لیکن اس نے اپنا غصہ ضبط کر لیا کہ آخر شیر کہنا کیا چاہ رہا ہے۔شیر نے کہا کہ پڑوسی جنگل کے جانور کسی بھی وقت ہم پر حملہ کر سکتے ہیں۔

یہ سن کر ہاتھی زور سے قہقہہ لگانے لگے۔ان کی دیکھا دیکھی گینڈے بھی ہنسنے لگے کہ بھلا ہم اتنے بڑے اور طاقت ور ہیں اور وہ معمولی جانور بھلا کیسے ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ہرن،بندر،خرگوش وغیرہ اپنے بچوں کی طرف سے پریشان ہو گئے اور شیر کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سب جانوروں کی حفاظت بادشاہ کی ذمے داری ہے،مگر ہاتھیوں نے یہ بات سنی اَن سنی کردی۔

شیر کی باتوں میں سچائی تھی اور یہ سچائی ایک دن ہاتھیوں اور گینڈوں پر واضح ہو گئی۔

ایک رات دشمن جانور حملہ آور ہو گئے۔دور سے دشمن کے قدموں کی آہٹ سن کر شیر خود بھی چوکنا ہو گئے اور دوسرے جانوروں کو بھی جگا دیا،تاکہ وہ اپنی حفاظت کر سکیں،لیکن ہاتھی اور گینڈے نیند کے مزے لے رہے تھے۔

پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔دشمنوں نے سوئے ہوئے ہاتھیوں اور گینڈوں کو اپنا نشانہ بنایا،لیکن عین اسی وقت شیروں نے دشمنوں پر اس طرح حملہ کیا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔لڑائی کافی دیر تک ہوئی۔

صبح ہونے کے آثار نظر آنے لگے۔صبح کی روشنی میں دشمن جانوروں کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ہاتھیوں اور گینڈوں کی خاصی تعداد ہلاک ہو گئی۔اب ہر طرف امن کی فضا تھی۔سب جانوروں کے مشورے سے ایک عقل مند اور ذہین شیر کو بادشاہ کے عہدے پر فائز کیا گیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -