اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری نہیں کر تے،وزارتِ مذہبی امور

  اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری نہیں کر تے،وزارتِ مذہبی ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزارت مذہبی امور نے اسلام آباد میں مندر سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو ایم این ایز نے 2017 میں عبادت گاہ کی تعمیر کیلئے ہیومن رائٹس کمیشن میں درخواست دی تھی وزارتِ انسانی حقوق کی درخواست پر سی ڈی اے نے 2020 میں مندر کیلئے جگہ الاٹ کی اقلیتی ارکان پارلیمنٹ نے وزارتِ مذہبی امور کو بھی مندر کی تعمیر کیلئے فنڈ زکی درخواست کی تھی۔ ترجمان وزارت مذہبی امور نے جمعہ کے روز وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ وزارتِ مذہبی امور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری نہیں کرتی بلکہ وزارت اقلیتی عبادتگاہوں کی مرمت اور تزئن و آرائش کا کام کرتی ہے،وزارتِ مذہبی امور نے یہ درخواست وزیر اعظم کے پاس بھجوا دی تھی،اقلیتی آبادی کی عبادت گاہ کی تعمیر کیلئے فنڈز سے متعلق فیصلہ وزیر اعظم کرینگے،ترجمان کے مطابق وزیراعظم تمام تر سماجی اور مذہبی پہلووں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرینگے۔ ترجمان مذہبی امورکے مطابق حکومت اس سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی اور مشاورت حاصل کرے گا۔اسلام آباد میں مذہبی عبادتگاہوں کیلئے جگہ کی فراہمی کی ذمہ داری کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ہیپاکستان بطور ریاست و حکومت آئین کے مطابق اقلیتوں کے متعین شدہ حقوق کی حفاظت کرے گامذہبی آزادیوں کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ریاست پاکستان کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت تمام تر دینی حلقوں اور مذہبی قائدین کی رائے کا احترام کرتی ہے۔ہندو برادری مندرکاسنگ بنیاد اور تعمیر اپنے وسائل سے کر رہے ہیں۔

وزارتِ مذہبی امور

مزید :

صفحہ اول -