”سکولوں میں بیٹھے بھیڑیئے“

”سکولوں میں بیٹھے بھیڑیئے“
 ”سکولوں میں بیٹھے بھیڑیئے“

  

میں نے کریسنٹ ماڈل گرلز سکول میں تعلیم حاصل کی، دس سال وہیں گزارے۔ تمام تر اساتذہ خواتین تھیں، کسی مرد استاد کی شاید جگہ تھی اورنہ ہی ضرورت۔ ہماری پرنسل مسز خان مرحومہ ایک بہترین منتظم تھیں، ان کا رعب بھی بہت تھا، ان کے دفتر جانا پڑجاتا تو آدھی جان ویسے ہی نکل جاتی، لیکن اگر کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ اسے پورے دھیان سے سنتیں اور حل کرنے کی بھی پوری کوشش کرتیں۔ سکول جاتے ہوئے اکثر طبیعت خرابی کا بہانہ بنا نے کی کوشش کے پیچھے صرف اور صرف سکول سے چھٹی کا شوق چھپا ہوتا،کبھی کسی اور قسم کا کوئی ڈر یا خوف دامن گیر نہیں ہوا۔ سکول کا ماحول آزاد تھا نہ ہی بہت قدامت پسند، اس کی چار دیواری گھر کی طرح محفوظ معلوم ہوتی تھی۔اساتذہ کردار سازی پر یقین رکھتی تھیں،سخت الفاظ بھی استعمال کر لیا کرتیں اور نصیحت کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔مجھے آج بھی اپنے سکول کی ہر ٹیچر یاد ہیں،دل میں ان کے لئے عزت و احترام ہے۔

میرے بچے بھی سکول جاتے ہیں اور میں ان کواس وثوق اور یقین کے ساتھ صبح سکول بھیجتی ہوں کہ اساتذہ ان کے محافظ ہیں، بچوں کی شخصیت سازی ہی ان کا مشن ہے، وہاں چار چھ گھنٹے گزار یں گے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے گر سیکھیں گے، لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر نجی سکولوں کے حوالے سے گردش کرنے والی خبریں پڑھ کر تو دل بیٹھ سا ہی گیا ہے،کئی وسوسے ستانے لگے ہیں، دماغ میں ایک طرف تو کئی سوال جنم لے رہے ہیں تو دوسری طرف خوف کے سائے بھی منڈلا رہے ہیں۔ ازحد افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ خبریں بچیوں کے سکولوں سے متعلق ہیں۔ افسوسناک بات ہے کہ سکول کی اونچی اونچی دیواروں کے احاطے میں بھی بچیاں محفوظ نہیں ہیں، عجیب بات ہے کہ باہر سے آنے والے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے تو ہر سکول و کالج کی دیواروں پرخار دار تارلازم قرار دے دی گئی لیکن اندر بیٹھے بھیڑیوں سے بچانے کا کوئی انتظام و اہتمام ہی نہیں کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر مختلف گروپوں میں اب یہ بات زبان زد عام ہے کہ بچیوں کو ہراساں کرنا تو معمول کی بات ہے، انتظامیہ اس معاملے میں بالکل خاموش تماشائی بنی رہتی ہے بلکہ لڑکیوں کو ہی مورد الزام ٹھہراتی ہے۔سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر یقین ذرا کم ہوتا ہے اور افواہ کا گمان زیادہ ہوتا ہے، اس لئے میں نے اپنے حلقہ احباب میں مختلف لوگوں سے اس موضوع پر بات کی تو معلوم ہوا کہ صورتحال اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہے۔ سکول تو کیا بعض نجی کالجوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اگر انتظامیہ یا کسی ذمہ دار سے شکایت کی جائے تو بات ہنسی میں ٹال دی جاتی ہے، گول کر دی جاتی ہے یا ادھر ادھر کر دی جاتی ہے۔ اب تو کچھ وائس ریکارڈنگز بھی بطور ثبوت منظر عام پر ہیں۔ بچیوں کو دبا دیا جاتا ہے، وہ زیادہ کھل کر بات کرنے اور احتجاج کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اس کا اثر ان کے امتحانی نتائج پر پڑے گا لہٰذا طالبات ایک حد تک ہی بات کر سکتی ہیں، اس سے آگے مصلحتیں راستہ روک لیتی ہیں۔

اس سارے قصے میں شدید تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ ہراساں کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ ان کے اپنے اساتذہ ہیں۔یہ کیسا زمانہ ہے، یہ کیسے لوگ ہیں۔استاد تو طلباء کے لئے رول ماڈل ہوتا ہے، آئیڈیل ہو تا ہے، استاد کے کندھوں پر تو معاشرے کو سدھارنے کا بوجھ ہوتا ہے۔پھر یہ کیسے استاد ہیں؟ یقیناً یہ استادہو ہی نہیں سکتے، یہ تو چند موقع پرست ہیں، کالی بھیڑیں ہیں جنہوں نے اس مقدس پیشے کو بدنام کرنے کی سازش رچائی ہے۔ان جیسے گندے انڈے یقیناً ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، جن کا اپنا دامن تو گرد آلود ہوتا ہی ہے لیکن وہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ کیچڑ میں گھسیٹ لیتے ہیں، مشکوک بنا دیتے ہیں، لوگوں کا یقین ڈانواں ڈول کر دیتے ہیں۔ ویسے تو بچیوں کے سکولوں میں خواتین اساتذہ کو ہی درس و تدریس کے فرائض سر انجام دینے چاہئے، بچیوں کے معاملات سننے اور سمجھنے کی ترغیب بھی دی جانی چاہئے،باقی عملہ بھی اگر خواتین پر ہی مشتمل ہوتو خوب ہے تاکہ ایسے واقعات پیش ہی نہ آئیں۔ مرد اساتذہ اور حضرات کے لئے اور بہت سے ادارے ہیں جہاں وہ اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے ہیں، خواتین کے لئے البتہ معاشرے کی تنگ نظری کی بدولت مواقع محدودد ہیں، اس طرح ان کا بھی بھلا ہو جائے گا۔ اور اگر مرد حضرات کی تعیناتی ناگزیر ہو تو پھر طالبا ت کو یہ تلقین کی جانی چاہئے کہ کسی بھی کام کی صورت میں اکیلے جانے کی بجائے گروپ کی صورت میں جائیں تا کہ کوئی تجاوز ممکن نہ ہوسکے۔

مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ اس دور جدید میں جب والدین اپنے بچوں کے ساتھ دوستی کا دعویٰ کرتے ہیں اور دم بھی بھرتے ہیں تو پھر ان کو اعتماد کیوں نہیں دیتے کہ ان کی بچے بچیاں ہر طرح کی بات ان سے کر سکیں، اپنے مسائل بتا سکیں، ان پر اعتبارکیوں نہیں کرتے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں اس میں کہیں نہ کہیں کوئی سچائی ہو گی۔کب تک’لوگ کیا کہیں گے‘ کے دباؤ کا شکار رہیں گے اور مصلحت کے پردے میں چھپتے رہیں گے۔کبھی کبھی توایسا معلوم ہے کہ ہم سب نے مل کر حالات کو اس نہج تک پہنچایا ہے۔ان سارے حالات پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوتی محسوس ہو رہی ہے، ہمارا معاشرہ اتنی تنزلی کا شکار کیسے ہو گیا، ہم اتنی پستی میں کیسے گھر گئے کہ کوئی بھی بات بڑی اور بری نہیں لگتی، غلط، غلط نہیں لگتا، ہرلڑائی پرائی سمجھتے ہیں۔کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں اور دوسرے کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کے درپے رہتا ہے،پھر ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں نفسیاتی امراض کیسے جنم لیتے ہیں، گھناؤنے جرائم کیوں ہوتے ہیں؟اس دور جدید اور سوشل میڈیا کا ایک فائدہ تو ہوا کہ بچیوں نے اپنے ڈر کو شکست دے دی، دل کی بات زبان پر لانے کی ہمت کی، تمام تر مجبوریوں اورمصلحتوں کے حصار کو توڑ کر سچائی بیان کی، اب اس کو کسی قسم کی سیاست یا وقت کی نذر نہیں ہو نا چاہئے۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نوٹس تو لے چکے ہیں، امید ہے کہ یہ سارے دعوے سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہیں گے جیسا کہ حکومت کی بیشتر پالیسیاں سوشل میڈیا پر بنتی ہیں اور وہیں دم توڑدیتی ہیں۔ہونا تو یہ چاہئے کہ فوری طور پر تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں کمیٹیاں بنادی جائیں تاکہ کسی بھی قسم کی شکایت کی صورت میں تحقیقات ہوں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ممکن ہو سکے، میرا ذاتی خیال ہے کہ ایسے معاملات کو والدین کیجانب سے تحریری درخواست کا پابند نہیں کیا جانا چاہئے۔ تعلیمی اداروں میں ہر جگہ کیمرے لگے ہونے چاہئے تاکہ پکڑے جانے اور دیکھے جانے کا خوف ہر وقت موجود رہے۔ ایسے معاملات کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے، سکولوں کا تقدس قائم رہنا چاہئے، خدارا اس ملک میں کوئی جگہ تو ایسی رہنے دیں جہاں احساسِ تحفظ ہو،یقین ہو، اعتماد ہو،تقدس ہو۔

مزید :

رائے -کالم -