سید ناصر زیدی ممتاز شاعر،محقق اور کالم نگار، ایڈیٹر اور سابق وزیر اعظم کے سپیچ رائٹرتھے

  سید ناصر زیدی ممتاز شاعر،محقق اور کالم نگار، ایڈیٹر اور سابق وزیر اعظم کے ...

  

سید ناصر زیدی 8 اپریل 1943ء کو مظفر نگر (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ لاہور میں تعلیم وتربیت پائی۔ بی اے لاہور سے کیا۔ لاہور ہی میں ان کا ذوق شعری پروان چڑھا۔ ہفت روزہ ”حمایت اسلام“ سے کالم نویسی کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ روزنامہ ”امروز“ میں سامع بصری، کے قلمی نام سے لکھتے رہے۔ پندرہ روزہ ”آہنگ“ کراچی میں لاہور کی ادبی ڈائری بھی لکھتے رہے۔ ماہ نامہ ”ادب لطیف“ کے علاوہ متعدد ادبی و نیم ادبی رسائل کے ایڈیٹر رہے۔ کئی وزرائے اعظم کے اسپیچ رائٹر رہے۔ کچھ عرصہ سے لاہور میں مقیم تھے اور مختلف اخبارات میں کالم لکھ رہے تھے۔ روزنامہ پاکستان میں باد شمال کے عنوان سے کالم لکھتے رہے، آپ ماہنامہ "ادب لطیف" کے مدیر بھی تھے. آپ کی نگرانی میں ہی نومبر 2019ء میں پہلی مرتبہ ادب لطیف کا "اقبال نمبر" شائع ہوا تھا اور دوسرے اقبال نمبر پر کام جاری تھا. اس کے علاوہ آپ نے "بیاد شاعر مشرق" بھی مرتب کی تھی. آپ کی مشہور کتابوں میں بیاد شاعر مشرق،کشمیر ہمارا ہے، کشمیر ہمارا ہے،ڈوبتے چاند کا منظر،وصال،التفات(شعری مجموعے)وہ رہبر ہمارا وہ قائد ہمارا(سوانح قائد اعظم)

آپ کی ایک خوبصورت غزل

پھول صحرا میں کھلا دے کوئی

میں اکیلا ہوں صدا دے کوئی

کوئی سناٹا سا سناٹا ہے

کاش طوفان اٹھا دے کوئی

جس نے چاہا تھا مجھے پہلے پہل

اس ستم گر کا پتہ دے کوئی

جس سے ٹوٹے مرا پندار وفا

مجھ کو ایسی بھی سزا دے کوئی

رات سوتی ہے تو میں جاگتا ہوں

اس کو جا کر یہ بتا دے کوئی

جو میرے پاس بھی ہے دور بھی ہے

کس طرح اس کو بھلا دے کوئی

عشق کے رنگ لیے پھرتا ہوں

اس کی تصویر بنا دے کوئی

دل کے خرمن میں نہاں ہیں شعلے

اپنے دامن کی ہوا دے کوئی

پھول پھر زخم بنے ہیں ناصر?

پھر خزاؤں کو دعا دے کوئی

ایک جگہ کہتے ہیں

ہاں یہ خطا ہوئی تھی کہ ہم اٹھ کے چل دیے

تم نے بھی تو پلٹ کے پکارا نہیں ہمیں

سید ناصر زیدی

مزید :

صفحہ اول -