احساس ایمر جنسی کیش پروگرام کے تحت مستحقین کو نقد امدا د کی فراہمی کیلئے 29.72ارب روپے منظور

  احساس ایمر جنسی کیش پروگرام کے تحت مستحقین کو نقد امدا د کی فراہمی کیلئے ...

  

اسلام آباد(آن لائن)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت 3.725ملین درخواست گزاروں کو صوبائی، علاقائی و ضلعی کوٹہ کے برعکس فی کس 12ہزار روپے نقد امداد کی فراہمی کیلئے 29.72ارب روپے کی منظوری دیدی۔ای سی سی کا اجلاس مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت جمعہ کو منعقد ہوا۔ا جلا س میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی سال 2020-21 کیلئے مختص 200ارب روپے کے بجٹ سے 29.72ارب روپے خرچ کرنے کی اجازت دی گئی جس کے تحت ان ہدایات کیساتھ ساتھ 3.72ملین درخواست گزاروں کو نقد امدادی رقم فراہم کی جائے گی کہ 2020-21کے دوران ریگولر آپریشنز کیلئے کسی قسم کی اضافی رقم کی ضرورت ہو تو وہ بھی فراہم کی جائیگی۔یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ ڈویژن نے ای سی سی کو بتایا کہ 3.151 ملین افراد جنہوں نے ایس ایم ایس کے ذر یعے معاونت کیلئے درخواستیں دی تھیں وہ طے شدہ معیار کے مطابق پورا اترتے ہیں، تاہم انہیں صوبائی یا ضلعی کوٹہ کی بنیاد پر مالی مدد فراہم نہیں کی جاسکتی۔ای سی سی کو بتایا گیاکہ پنجا ب حکومت پہلے ہی 7لاکھ درخواست گزاروں کو مالی مدد فراہم کرنے پر اتفاق کرچکی ہے۔اجلاس کے دوران ای سی سی نے آر ایل این جی کی سیل پرائس کے حوالے سے پالیسی گا ئیڈ لائنز کیلئے تجاویز بھی لیں۔ای سی سی کو بتایا گیا کہ آر ایل این جی کی نوعیت اور مقامی سطح پر تیار ہونیوالی گیس کی قیمت کے پیش نظر گھریلو صارفین کو آر ایل این جی کی فروخت کے نتیجے میں جولائی2018 تا اپریل2020ء کے درمیان 77.84ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ یہ خسارہ اس وقت ہوا جب آر ایل این جی کی ایڈجسٹمنٹ کا اثر غیر جانبدارانہ بنیادوں پر قیمت پر پڑا جہاں سوئی نادرن گیس پرائیویٹ لمیٹڈ نے ملکی سطح پر پیدا ہونیوالی گیس کو اپنے صارفین کو آر ایم ایل این جی کے نام پر فروخت کیا اور جب بھی سرپلس سسٹم گیس دستیاب ہوا کچھ آمدن میں خسارے کو ریکور کیا۔ آر ایل این جی ریونیو خسارے کی بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ اسکی قیمت میں ڈومیسٹک گیس کے مقابلے میں فرق ہے۔91فیصد ڈومیسٹک گیس صارفین ماہانہ اوسطاً121روپے بل ادا کرتے رہے ہیں جو موسم سرما کے دوران ڈومیسٹک صارفین کو درآمد شدہ آر ایل این جی کی فراہمی کی قیمت سے کئی گنا کم ہے۔ای سی سی نے تجاویز کا جائزہ لیا اور اوگرا سے کہا کہ اس پر نظرثانی کی جائے، خاص طورپر آر ایل این جی ریونیو خسارے پر اور پھر ای سی سی کو رپورٹ دی جائے۔ای سی سی نے آر ایل این جی شعبہ میں سرکلر ڈیبٹ کی صورتحال پیدا ہونے سے بچنے کیلئے حکومتی سطح پر پالیسی فیصلہ کیلئے معاملے کو مشاورت کی بنیاد پر حل کرنے کی غرض سے اس پر مزید ایک چھوٹے گروپ کی سطح پر بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا۔ای سی سی نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و مواصلات کی جانب سے مالی سال 2020-21کیلئے این ٹی سی کیلئے 4.59 ارب رو پے کے بجٹ کی بھی تجویز کی بھی منظوری دی۔ای سی سی نے وزارت صنعت و پیداوار کی تجویز کہ قومی فرٹیلائزر ڈویلپمنٹ سنٹر کے اعداد وشمار کے مطابق یوریا کھاد کاذخیرہ دسمبر 2020 تا فروری2021ء کے عرصے میں دو لاکھ میٹرک ٹن کی سطح سے نیچے رہے گا سے متعلق فیصلہ کیا کہ اس خسارے کو پورا کرنے اور دستیاب سطح تک ذخیرہ کو یقینی برقرار رکھنے کیلئے ایس این جی پی ایل نیٹ ورکس میں ایگریٹک اور فاطمہ فرٹیلائزر نامی دو بند پلانٹس کو جولائی تا دسمبر تین ماہ کیلئے 756 ایم ایم بی ٹی یو ریٹس کے حساب سے گیس فراہم کی جائے گی، اس میں حکومت کا 959ملین روپے کا شیئر بھی شامل ہو گا۔ای سی سی میں کے الیکٹرک لمیٹڈ کے جولائی 2016 تا مارچ2019 کے عرصے کیلئے سہ ماہی بنیادوں پر ایڈجسٹمنٹ کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور 26مارچ2020 کے گزشتہ فیصلے کا اعادہ کیا گیا۔

ای سی سی

مزید :

صفحہ اول -