امریکی عدالت نے پبلشر کو ٹرمپ مخالف کتاب تقسیم کرنے کی اجازت دے دی

امریکی عدالت نے پبلشر کو ٹرمپ مخالف کتاب تقسیم کرنے کی اجازت دے دی

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) ایک امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کے خلاف چھپنے والی ایک کتاب کے پبلشر کو کتاب تقسیم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم اس کی مصنفہ میری ٹرمپ کو جو صدر ٹرمپ کی سگی بھتیجی ہیں کتاب کی اشاعت سے الگ تھلگ رہنے کی ہدایت کی ہے اور اس سلسلے میں ان پر عائد پابندی کو برقرار رکھا ہے۔ ٹیلی ویژن چینل پر نشر ہونے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ نیو یارک سپریم کورٹ کی اپیلیٹ کورٹ نے پبلشرز سائمن اینڈ شسٹرز کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں میری ٹرمپ کی کتاب کو تقسیم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ قبل ازیں نیو یارک ریاست کی سپریم کورٹ کے ایک جج ہال گرین والڈ نے مصنفہ کے والد اور صدر ٹرمپ کے بھائی رابرٹ ٹرمپ کی درخواست پر اس کتاب کی اشاعت کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس بنا پر دیا تھا کہ رابرٹ ٹرمپ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی بیٹی نے خاندان کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کر رکھا ہے کہ وہ خاندان کے اندرونی معاملات کی تشہیر نہیں کریں گی۔ نیویارک سپریم کورٹ کی اپیلیٹ ڈویژن نے ماتحت عدالت کا فیصلہ مسترد کردیا ہے اور بنچ میں شامل جج ایلن شنکمین نے جو فیصلہ لکھا ہے اس میں اگرچہ پبلشر کو کتاب تقسیم کرنے کی اجازت دے دی ہے لیکن مصنفہ میری ٹرمپ کو اس عمل میں شریک ہونے سے روک دیا ہے جس نے خاندان کے ساتھ اندرونی معاملات کی تشہیر نہ کرنے کا عہد کر رکھاہے۔ میری ٹرمپ کی کتاب کے عنوان کا ترجمہ یہ ہے۔ ”بہت زیادہ اور کبھی بھی کافی نہیں“ میرے خاندان نے دنیا کے سب سے خطرناک شخص کو کیسے تخلیق کیا۔ ”پبلشر نے اس کتاب کی تاریخ اشاعت 28جولائی مقرر کر رکھا ہے لیکن اس نے اس کی 75ہزار کاپیاں پہلے ہی ملک بھر میں بک سٹورز کو بھیج دی ہیں۔ جج نے فیصلے میں لکھا ہے کہ میری ٹرمپ اور ان کے ایجنٹوں پر کتاب تقسیم کرنے کی پابندی برقرار رہے گی لیکن پبلشرز پر یہ پابندی عائد نہیں ہوگی کیونکہ پبلشرز میری کے ایجنٹ ہیں۔ پبلشرز نے عدالت کو بتایا کہ مصنفہ میری ٹرمپ کے ساتھ کتاب لکھنے کا معاہدہ کرتے وقت انہیں علم نہیں تھا کہ انہوں نے خاندان کے اندرونی معاملات کو ظاہر نہ کرنے کا خاندان کے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہے۔

کتاب اجازت

مزید :

صفحہ اول -