سرکاری سکولوں، اساتذہ کیخلافِ بیان بازی، شفقت محمود اسمبلی فلور پر معذرت کریں، غلام اکبر قیصرانی

  سرکاری سکولوں، اساتذہ کیخلافِ بیان بازی، شفقت محمود اسمبلی فلور پر معذرت ...

  

تونسہ شریف (نمائندہ پاکستان)تنظیم اساتذہ پنجاب کے صدر پروفیسر غلام اکبر قیصرانی نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے قومی اسمبلی کے حالیہ بجٹ اجلاس میں تقریر (بقیہ نمبر48صفحہ6پر)

کرتے ہوئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تعریف میں سرکاری سکولوں کی تعلیم کو دوسرے درجے کی تعلیم قرار دے ڈالا جو کہ خلاف حقیقت اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔ان کا یہ کہنا کہ ملک کی اعلیٰ سروسز میں پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ ہی پہنچ پاتے ہیں،بھی حقائق کا منہ چڑھانے کے مترادف ہے۔تنظیم اساتذہ پنجاب کے صدر پروفیسر غلام اکبر قیصرانی، سکول ڈیپارٹمنٹ کی آٹھ تنظیموں کے مشترکہ فورم متحدہ محاذ اساتذہ پنجاب کے چیئرمین حافظ عبدالناصر اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود جن سرکاری تعلیمی اداروں کے کسٹوڈین ہیں،انہیں دوسرے درجے میں شمار کرنا انہیں زیب نہیں دیتا۔ان کے بیان سے لاکھوں سکول اساتذہ کی دل آزاری ہوئی ہے جس پر انہیں معذرت کرنی چاہیے اور اپنا بیان اسمبلی کے فلور پر واپس لیں۔ ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ اعلیٰ سروسز میں پرائیویٹ سکولوں کی کارکردگی کا بھانڈا سی ایس ایس کے گزشتہ دو سالوں اور اس سال کے امتحانی نتائج نے سر راہ پھوڑ دیا ہے۔گذشتہ سال 9613 اْمیدواروں میں سے 202 اور اس سال جو رزلٹ آیا ہے اس میں 13500 میں سے صرف 312 امیدوار کامیاب ہوسکے۔ اگر انگلش میڈیم سکولوں کی کارکردگی دیکھنا ہو تو اس رزلٹ کی تفصیلات نکال کر اس کا تجزیہ کروالیں،آپ کو زیادہ تر امیدوار انگریزی کے مضمون میں فیل نظر آئیں گے۔ کیا وزیر موصوف دو اڑھائی فیصد رزلٹ کی بنیاد پر معیاری تعلیم کا سہرا پرائیویٹ اداروں کے سر باندھنا چاہتے ہیں؟ ہم ان کی خدمت میں بصد ادب واحترام یہ حقیقت بھی پیش کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ پاکستان 1947 والا پاکستان نہیں ہے، بہت ساری کوتاہیوں کے باوجود اب ہم زندگی کے مختلف شعبوں میں بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ آج ہم جہاں کھڑے ہیں، یہ ان لوگوں کے طفیل ہے جو گورنمنٹ سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں سے پڑھ کر نکلے ہیں. ظاہری چکا چوند،بھاری بھرکم فیسوں،رٹا سسٹم اور بے پناہ ایڈورٹائزمنٹ کے چار تیز رفتار پہیوں پر دوڑنے والی" تجارتی تعلیمی گاڑی" سے جو ماہرین برآمد ہوں گے،ان کی کارکردگی ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ کوئی قوم اپنی تعلیم اور نونہالوں کو تاجروں کے حوالے کرکے فلاح اور ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔ہم وزیر موصوف سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سرکاری سکولوں اور ان کے اساتذہ کو کم تر قرار دینے کے بجائے ان کا معیار مزید بہتر کرنے کا کوئی قابل عمل منصوبہ رکھتے ہیں تو سامنے لائیں،اساتذہ کرام ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔اساتذہ رہنماؤں نے وزیر موصوف کے یکساں نصاب کے اعلان کو خوش آیند قرار دیا ہے اور حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور ساتھ ہی اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ" ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں ". اساتذہ رہنماؤں نے کہا ہے کہ تعلیم کا اصل مسئلہ" ذریعہ تعلیم" ہے،اسے حل کئے بغیر ہم تحقیق اور ایجادات کی دنیا میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔اقوام متحدہ کا تعلیمی کوڈ آف ایتھکس کہتا ہے کہ ابتدائی تعلیم بچے کو اس کی مادری زبان میں دی جا? اور گیارہ سال کی عمر تک اسے دوسری زبان نہ پڑھائی جائیتاکہ اس کی فطری صلاحیتیں پروان چڑھ سکیں۔ اکیسویں صدی کی دہلیز پر کھڑے ہوکر جائزہ لیں تو تمام ترقی یافتہ ممالک اقوام متحدہ کے اس اصول پر کاربند نظر آتے ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ اس اہم فیصلے کو فائنل شکل دیتے ہوئے یہ بنیادی پہلو ان کی نظروں سے اوجھل نہیں رہے گا۔

غلام اکبرقیصرانی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -