سرائیکی صوبے کے بجائے سیکرٹریٹ بنانے کیخلافَ سرائیکی پارٹی کا احتجاجی مظاہرہ

      سرائیکی صوبے کے بجائے سیکرٹریٹ بنانے کیخلافَ سرائیکی پارٹی کا احتجاجی ...

  

ملتان(سپیشل رپورٹر) پاکستان سرائیکی پارٹی کے زیر اہتمام ملتان میں حکومت کی طرف سے سرائیکی وسیب پر مشتمل سرائیکی صوبے کے قیام کی بجائے سیکرٹریٹ بنانے کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیاقیادت(بقیہ نمبر34صفحہ6پر)

چیئرپرسن ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ، مرکزی صدر ملک اللہ نواز وینس اور سیکریٹری جنرل محمد اکبر انصاری نے کی۔ مظاہرے میں ڈپٹی چئیرمین علامہ اقبال وسیم، چیف آرگنائزر احمد نواز سومرو، ملک جاوید چنڑ ایڈووکیٹ، ڈاکٹر مقصود خاں لنگاہ، سید خلیل بخاری، ریاض کھرل، ملک نعیم اقبال، اکرم گھلو، اللہ وسایا لنگاہ، مجید خاں لنگاہ، ملک شوکت جٹ، سلطان کلاچی، اشرف خاں لنگاہ شرافت عباس، اعجاز الرحمان، صابر گھلو، غلام فرید سراجانی و دیگر نے شرکت کی مظاہرے میں متفقہ طور پر حکومت کی جانب سے تقسیم شدہ سیکریٹریٹ کے قیام کو حکومت اور پنجاب تقسیم مخالف قوتوں کی جانب سے وسیب کے باسیوں کو آپس میں لڑانے کی گھناؤنی سازش قراردے کر شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ ملتان سرائیکی وسیب کے عین وسط میں ہے اور وسیب کے باسیوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکریٹریٹ ملتان میں قائم کیا جائے اور بہاولپور اور ڈی جی خان میں اس کے کیمپ آفس قائم کیئے جائیں۔ چیئرپرسن ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست پاکستان کی جانب سے آٹھ کروڑ سرائیکی قوم کی شناخت کو تسلیم نہ کرنا اور انکے حقوق کے تحفظ کیلئے ان کے صوبہ کا مطالبہ پورا نہ کرنا دراصل ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ مرکزی صدر اللہ نواز وینس نے کہا کہ سرائیکی قوم تین دہائیوں سے پرامن آئینی جمہوری جدوجہد نہ تو سول سیکریٹریٹ اور نہ ہی گیارہ اضلاع پر جنوبی پنجاب کے نام سے صوبہ کیلئے کررہی ہے۔ مکمل سرائیکی وسیب پر شناخت کے ساتھ صوبہ کے قیام کیلئے حکومت فوری طور پر آئینی بل پارلیمنٹ میں لائے تاکہ پی پی پی اور ن لیگ کی اصلیت بھی سرائیکی قوم کے سامنے آسکے۔ سیکریٹری جنرل محمد اکبر انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ تخت لاہور کی سازش کو سمجھنے کی بجائے جو لوگ بھونڈے انداز کے ساتھ سیکریٹریٹ کے حوالے سے ملتان یا بہاولپور کی حمایت یا مخالفت یا نامنظور نامنظور کے نعرے لگا کر سرائیکی وسیب کے ان دو شہروں سے متعلق زہر اگل رہے ہیں وہ دراصل سرائیکی دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت دے رہے ہیں۔ ملتان کی تاریخی، مذہبی اور وحانی اہمیت کو تسلیم نہ کرنیوالوں کو تجدید ایمان کی ضرورت ہے۔ جبکہ قیام پاکستان میں بہاولپور کا تکمیل پاکستان کیلئے تاریخی کردار کو نہ ماننے والوں کی حب الوطنی مشکوک ہے۔ ڈپٹی چیئرمین علامہ اقبال وسیم نے کہا کہ رحیمیارخان کی تمام تحصیلوں کی مسافت بذریعہ موٹروے ملتان تک اور بذریعہ نیشنل ہائی وے بہاولپور تک برابر ہے اسی طرح ضلع بہاولنگر کی تمام تحصیلوں بشمول تحصیل حاصل پور کی مسافت براستہ وہاڑی ملتان تک اور انکی براستہ لال سونہارا بہاولپور تک مسافت برابر ہے۔ جبکہ تحصیل احمدپورشرقیہ کی ساٹھ فیصد علاقوں کا فاصلہ ملتان اور بہاولپور برابر ہے جبکہ بقیہ چالیس فیصد محض پانچ سے بیس کلومیٹر زیادہ ہے۔ بہاولپو ر اور یزمان کا فاصلہ لاہور تک کیلئے زائد از پانچ سو کلومیٹر ہے جبکہ ملتان کی مسافت محض ایک گھنٹہ ہے۔ چیف آرگنائزر احمدنواز سومرونے کہا کہ تخت لاہور نے سرائیکی وسیب کے باسیوں کو سہولت دینے کی بجائے وسیب میں فتنہ کی بنیاد رکھی ہے تاکہ ملتان اور بہاولپور کی بحث میں سرائیکی صوبہ کی تحریک کو ثبوتاڑ کیا جاسکے۔ مرکزی نائب صدر اللہ وسایا لنگاہ نے کہا کہ بہاولپور سیکریٹریٹ کی صورت میں ڈیرہ غازی خان ڈویڑن کے باسیوں کو زیادہ مسافت کی صعوبت برداشت کرنا ہوگی۔ یوں اس سیکریٹریٹ کی افادیت کا خاطرخواہ فائدہ نہ اٹھاسکیں گے۔ رحیمیارخان سے مرکزی رہنماخلیل بخاری نے کہا کہ سیکریٹریٹ ہمارے مسئلہ کا حل نہیں مکمل سرائیکی وسیب پر شناخت کیساتھ صوبہ بنایا جائے اور ملتان کو اس کا دارالحکومت بنایا جائے۔ ترجمان ملک جاوید چنڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیکریٹریٹ کا علاقائی دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں فوری طور پر جھنگ،میانوالی، بھکر اور خوشاب کے اضلاع بھی شامل کئیے جائیں۔ ڈپٹی مرکزی سیکریٹری اطلاعات سلطان محمود کلاچی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سرائیکی وسیب میں پانچ نئے اضلاع کے قیام پر حکومتی پیش رفت خوش آئند ہے،اس کے ہمراہ مزید نئے اضلاع علی پور، جام پور،شورکوٹ،نورپورتھل اور پیرمحل کو بھی اضلاع کا درجہ دیا جائے۔ اس موقع پر نے خطاب کیا۔

نعرے بازی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -