عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر مندر کی تعمیر کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور

  عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر مندر کی تعمیر کے خلاف مذمتی قراردادیں ...

  

لاہور (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر کی مساجد میں مندر کی تعمیر کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئی اور سرکاری خزانے سے مندر کی تعمیر کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیزالرحمن ثانی،مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم، جنرل سیکرٹری مولانا علیم الدین شاکر، قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا حافظ محمداشرف گجر، مولانا محبوب الحسن طاہر، مولانا عبدالعزیز، مولانا خالدمحمود، مولانا سعید وقار، قاری ظہورالحق، مولانا سید عبداللہ شاہ نے جمعۃ المبارک کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری خزانے سے نئے مندرکی تعمیر آئین پاکستان کی روح کے خلاف ہے، غیر مسلم اقلیتوں کو پاکستان میں مکمل تحفظ حاصل ہے اقلیتوں کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے،جبکہ شریعت مطہرہ اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتی کہ مسلمانوں کے ٹیکس سے فنڈ جاری کرکے مندر تعمیر کیے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فقہ اسلامی میں اسلامی ریاست میں مندر تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ علماء نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور مندر کے لیے دی جانے والی سرکاری زمین سے الاٹ شدہ پلاٹ کی الاٹمنٹ فوری طور پر کینسل کرکے مختص فنڈ کو واپس لیا جائے،اور مندر کی تعمیر روکی جائے مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ نہ کھیلا جائے،کیونکہ مفتی اعظم پاکستان شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی ودیگر جید مفتیان، علماء کرام اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے بھی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اسلامی ریاست میں مندر کی تعمیر نظریہ پاکستان کے خلاف ہے،حکومت ریاست مدینہ کا لوگو لگا کر غیر شرعی کام کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں سی ڈی اے کے ماسٹر پلان کے خلاف اگر قدیمی مسجد ہو تو اس کو بھی گرادیا جاتا ہے جبکہ ماسٹر پلان کے خلاف مندر کی تعمیر کی اجازت دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ #/s#

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -