لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے احتساب کے عمل کومزید واضح کردیا: اسفند یارولی

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے احتساب کے عمل کومزید واضح کردیا: اسفند یارولی

  

پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو برطرف کرنے کے فیصلے نے ملک میں جاری احتساب کے عمل کو مزید واضح کردیا ہے۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ سابق وزیراعظم کے خلاف فیصلے دباؤ کے بنیاد پر کئے گئے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ اسفندیارولی خان نے کہا کہ ویڈیو میں بتایا گیا ہر حرف آج سچ ثابت ہوا لہٰذا عدالت سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف فیصلوں کو بھی کالعد م قرار دے کر انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ جمہوریت کی مضبوطی کیلئے آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر ایک سیاسی رہنما یا کسی بھی فرد کے خلاف دباؤ کے نتیجے میں ناحق فیصلے کئے جاتے ہیں تو اس سے ملک مضبوط نہیں ہوگا بلکہ انارکی پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوجائیگا۔ آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی۔ اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ فیصلے خواہشات پر نہیں بلکہ انصاف اور ثبوتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ کسی بھی جج کا دباؤ میں آنا دراصل پورے پورے نظام عدل پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے انتظامی کمیٹی میں شامل تمام ججز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حق اور سچ پر مبنی فیصلہ دیتے ہوئے عدالتی وقار کو بچالیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -