احسان اللہ احسان کے فراراور ٹرائل نہ کرنے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹادی گئی

احسان اللہ احسان کے فراراور ٹرائل نہ کرنے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست ...

  

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے کالعدم تنظیم کے سربراہ احسان اللہ احسان کے فرار ہونے اوراسکے خلاف ٹرائل نہ کرنے کے خلاف دائرتوہین عدالت کی درخواست نمٹا دی حکومت نے قراردیا ہے کہ دہشتگرد کی گرفتاری کی کوشش کی جارہی ہے اور گرفتار کرنے کے بعد ہی اس کا ٹرائل ہوسکے گا پشاور ہائیکورٹ کے دورکنی بنچ نے بیرسٹر عامرخان چمکنی کی وساطت سے فضل خان کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاضی بابرارشاداوراے اے جی عاطف خان بھی عدالت میں پیش ہوئے عدالت کو بتایا گیا کہ آرمی پبلک سکول واقعہ کے بعد2017میں پشاورہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی جس میں شہید بیٹے کے والد نے موقف اپنایا کہ سانحہ میں ملوث دہشتگرد احسان اللہ احسان کیخلاف ٹرائل شروع نہیں کیاجارہا ہے جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ تحقیقات کے بعد ملٹری کورٹ کی جانب سے اس کا ٹرائل کیاجائیگاتاہم احسان اللہ احسان کے فرار ہونے پر درخواست گزار نے پشاورہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی کہ متعلقہ دہشتگرد فرار ہوگیا جبکہ اسکے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوسکی جس پر عدالت نے ہوم سیکرٹری سے رپورٹ بھی طلب کی اور عدالت کو بتایا گیا کہ ان دہشتگردوں کے خلاف ملٹری کورٹ نے ٹرائل کرنا تھا تاہم بعد میں ملٹری کورٹس ختم کردی گئیں وزارت داخلہ کیجانب سے عدالت میں خفیہ خطوط بھی پیش کئے گئے جس میں حکومت سے ان دہشتگردوں کے خلاف ٹرائل کی اجازت دینے کی منظوری مانگی گئی تھی تاہم یہ ملٹری کورٹس ختم کردی گئی تھیں دوران سماعت احسان اللہ احسان کے فرار ہونے سے متعلق سوال پر فریقین نے جواب دیا کہ متعلقہ دہشتگرد کو گرفتار کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کارلائے جارہے ہیں اوراس کے فرارہونے میں انکا کوئی کردار نہیں ہے کیس میں دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے توہین عدالت کی درخواست نمٹادی جبکہ فریقین کو جاری نوٹسز واپس لے لیے گئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -