"میں نے صرف الطاف حسین کولیڈر مانا تھا، مشکل وقت میں نقاد بھی ہوں اور۔ ۔ ۔" تحریک انصا ف کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کھل کر میدان میں آگئے

"میں نے صرف الطاف حسین کولیڈر مانا تھا، مشکل وقت میں نقاد بھی ہوں اور۔ ۔ ۔" ...

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کئی دفعہ اپنی ہی پارٹی کے کارکنان کے نشانے پر رہتے ہیں اور اب ایک مرتبہ پھر وہ کھل کر میدان میں آگئے ہیں۔

سلسلہ وار کئی ٹوئیٹس میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے لکھا کہ " میں نے صرف الطاف حسین کولیڈر مانا تھا اور۲۲ ااگست کے بعد ایم کیو ایم کو ایم کیو ایم ہی نہیں مانا، بدقسمتی سے اب پیچھے مڑ کر دیکھنے کو جی نہیں چاہتا دل رندھ جاتا ہے،اوروں کی طرح جماعتیں نہیں بدلیں ،ایم کیو ایم میں تھا، ایم کیو ایم چھوڑ کر گھر بیٹھا اور پھر اپنے عمران کے ساتھ آگیا"

انہوں نے لکھا کہ "میں کراچی کے ایک بڑے حلقے سے منتخب ہوا ہوں اور احترام کرتا ہوں فاروق ستار بھائی کا جن کو شکست دی، وہ حلقہ مہاجر اکثریتی حلقہ ہے جہاں مہاجروں کے ووٹ فیصلہ کنُ تھے، عامر لیاقت ادھورا نام نہیں کراچی سے باہر کے لوگ نہیں جانتے ہم اپنے شہر کے بیٹے نہیں بلکہ جان لٹانے والے ہیں"

ان کاکہنا تھاکہ "صرف اتنا کہنا ہے کہ “مائنس“ تو میری چڑ ہے  ،سمجھنے والے سمجھ ہی گئے ہوں گے ، مشکل وقت میں نقاد بھی ہوں اور عمران خان کے ساتھ بھی ہوں ، عامر لیاقت کو دنیا کی کوئی طاقت خرید نہیں سکتی نیں نے بہت برا وقت دیکھا ہے وطن کی ساکھ پر ہر سمجھتا ناممکن ہے"

عامر لیاقت نے مزید لکھا کہ "عمران خان اور وزیراعظم دو مختلف زاویے ہیں، عمران خان فائٹر ہو سکتا ہے لیکن وزیراعظم کو سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے، اپنے وزرا کی غیرذمے دارانہ اور جلتی پر آگ جیسی تقاریرسے لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہئے ، ہمارےووٹ 172 سے زیادہ ہونے چاہئیں اور حکمت عملی سے ہوسکتے ہیں"

آخر میں وہ وزیراعظم کو مشورہ دینا بھی نہ بھولے اور لکھا کہ"وزیر اعظم کو مذاکراتی ٹیمیز بنا کر رابطوں کاُآغاز کرنا چاہئیے،عناصر اگرکرپٹ بھی ہیں تو بات چیت جمہویت کا حسن ہے،انگیج کیجیے، غیروں کو بھی اور اپنوں کو بھی، میر شکیل کے کیس کا جائزہ لیجیے، صحافیوں کی غلط فہمیاں دور کیجیے، لفافی جیسی اصطلاح ختم ہوناچاہئیے یہی نیا پاکستان ہوگا"

مزید :

قومی -