گم کردہ روش

گم کردہ روش
گم کردہ روش

  

جوں جوں انتخابات قریب آرہے تھے اور تمام سیاسی جماعتیں اپنےاپنے جلسے کرنے میں مصروف تھیں میں حیران تھی کہ یہ لوگ کیا کرنے جارہے ہیں یہ لوگ قوم کے اہم ترین مسائل کو سطحی طور پر دیکھ رہے تھے اور اپنی صلاحتیں ضائع کررہے تھے بحثییت ایک پاکستانی اور ایسے فرد کے جو اخلاقی برتری اور مذہبی اقدار پر یقین رکھتا ہے میں یہ سوچ کر دل گرفتہ تھی کہ مجھے اس قوم میں کوئی رہنما نظر نہیں آرہا تھا ۔

یہ بات عام لوگ کےلیے باعث حیرت تھی جیسا کہ میں انہیں عوام سے بات کرتے خطاب کرتے دیکھتی ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ ایک حقیقی لیڈر ہونے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں آخر یہ لوگ ایک پارٹی لیڈر کی بجائے قومی لیڈر ہونے کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے ۔ ہم نے بھلادیا ہے کہ حقیقی لیڈر کسے کہتے ہیں لیڈر قوم کو تقسیم نہیں کرتا اسکو قوم کو متحد کرنا اور انہیں انکی شناخت زہن نشین کرانا چاہیے ۔مگر افسوس کہ نہ صرف سیاسی رہنما بلکہ عوام بھی اپنی مذہبی و اخلاقی اقدار سے دور ہوتے جارہے ہیں " لیڈری " ڈگریوں اور ٹیکنیک سے نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی سے تشکیل پاتی ہے اسکےلیے مہارت عقل اور اخلاقی کارکردگی ضروری ہے کوئی بھی شخص اپنے اچھے کردار اخلاقی برتری اور اپنے لوگوں اور مادر وطن سے اخلاص کی بنیاد پر لیڈر بنتا ہے جس کی نظر ہمیشہ اپنے مقصد یعنی قوم کی ترقی و خوشحالی اور لوگوں کی اخلاقی تربیت پر مرکوز رہتی ہے ہمارے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ ایسے مکمل رہنما تھے جو کہ دنیا میں کوئی اور نہیں ہوگا انہوں نے اپنے بدترین مخالفین کے خلاف بھی کبھی سخت بات نہیں کی بلکہ ہمیشہ انسانی غلطیوں کو درست کرنے پر توجہ دی آپ علیہ السلام نے ہمیشہ بلند ترین اخلاق اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا جو کہ ایک مثال کی صورت ہمارے لیے رول ماڈل ہے ۔کیا یہ ہم سب کی زمہ داری اور فرض نہیں کہ ہم آپ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلیں مگر ہم اسے فراموش کرچکے ہیں ہمیں اس جانب توجہ دلائے جانے اور متحرک کرنے کی ضرورت ہےاور یہ وہ کام ہے جو ایک حقیقی لیڈر سرانجام دیتا ہے ۔

محض باتیں کرنے یا بیانات دینے سے کوئی فرق نہیں پڑسکتا یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ وہ قوم کےلیے کیا کرسکتا ،کرسکتی ہے اس بات پر توجہ نہ دیں کہ کوئی اس بارے میں کیاکہتا ہے ایک لیڈر صرف اچھائی و بہتری ،لوگوں کو متحد کرنے ، ان میں روشن خیالی کے فروغ پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے ۔ بطور پاکستانی شہری میں اور مجھ جیسے دیگرایک لیڈر میں اخلاص بے غرضی دیکھنا چاہتے ہیں جو کہ لوگوں کو متحد کرنے اور انہیں اپنے مذہب اور ثقافت کو نظر انداز نہ کرے ۔قوم کے ہر فرد کے درمیان بھائی چارے کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ملک کے مفاد میں ایک مشترکہ مقصد پر اکھٹا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو جبکہ اس ملک کے سب لوگوں کو بھی اسی راہ پر چلنا ہوگا ۔

صرف ان اخلاقی اقدار کے دوبارہ حصول کے بعد ہی ہم ایک قوم بن سکتے ہیں اور ایک سیاسی رہنما اسی وقت قومی رہنما یا لوگوں کےلیے قابل تقلید بن سکتا ہے جب وہ کردار کی اس بلندی کو حاصل کرلے جو ایک لیڈر کےلیے درکار ہوتی ہیں یہ تب ہوسکتا ہے حب ہمارے لیڈر خود اپنی اصلاح کریں یہ لیڈر لوگوں پراثر رکھتے ہیں اسے مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے انکی رہنمائی کریں نہ کہ ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہیں جیسا کہ وہ کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب عام لوگوں کو بھیچاہیے کہ اپنی اصلاح کریں اپنی زات کا ادراک کریں کہ ہم کہاں سے آئے ہیں اور ایک دن ہمیں کہاں لوٹ کر جانا ہے علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا ہے ۔تفرقہ اور زاتی خواہشات سے بلند ہوتے ہوےء مادیت کی بجائے روح کے قریب ہوجائیں کیونکہ روح ہی روشنی ، زندگی اور اتحاد ہے ہم بطور پاکستانی شہری قوی امید رکھتے ہیں کہ نئی حکومت قوم کو ایک ایسی لیڈر شپ دینے میں کامیاب ہوگی جسکی اسے ضرورت ہے ورنہ ربّ العزّت کے پاس " چوائس " کا اختیار ہر وقت موجود رہتا ہے ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہّ تعالی ہماری رہنمائی فرمائے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے اور قوم کو خوشحالی و ترقی سے ہمکنار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔الہی آمین

۔

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -