امریکہ کے2 طیارہ بردارجنگی بحری بیڑے چین کی جانب کیوں بڑھ رہے ہیں؟

امریکہ کے2 طیارہ بردارجنگی بحری بیڑے چین کی جانب کیوں بڑھ رہے ہیں؟
امریکہ کے2 طیارہ بردارجنگی بحری بیڑے چین کی جانب کیوں بڑھ رہے ہیں؟

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ نے اپنے دو  طیارہ بردارجنگی بحری بیڑے جنوبی چینی سمندری حدود کی جانب روانہ کردیے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ بیڑے چین کی جانب سے جاری جنگی مشقوں کے ردعمل میں بھیجے جارہے ہیں۔ امریکی نیوی کے مطابق اس کے بحری بیڑے بھی متنازع سمندری حدود میں جنگی مشقیں کریں گے۔

امریکہ اور چین کے ہمسائیہ ممالک پہلے ہی چین کو جنوبی چینی سمندری حدود میں مشقوں پر تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں۔ 

بیجنگ اور واشنگٹن دونوں ایک دوسرے کومتنازع علاقوں میں کشیدگی بڑھانے کا ذمہ دارقرار دے رہے ہیں۔ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کورونا وائرس، تجارت اور ہانگ کانگ کی وجہ سے پہلے ہی دونوں ممالک کے تعلقات بدترین سطح پر ہیں۔

رائٹرز کے مطابق امریکہ کی جانب سے جو جنگی بحری بیڑے بھجوائے گئے ہیں ا ن میں یو ایس ایس نیمٹز اور یو ایس ایس رونالڈ ریگن شامل ہیں۔امریکی بحریہ کے مطابق یہ دونوں طیارے انڈو پیسفک میں آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے بھیجے جارہے ہیں۔ 

امریکی بحریہ کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے جنگی بیڑے جنوبی چینی سمندرمیں  کہاں مشقیں کریں گے کیونکہ اس سمدری حدود کے 90فیصد ایریا تک چین اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سلسلے میں وہ کسی ہمسائے کے احتجاج کو خاطر میں نہیں لاتا۔

امریکہ چین پر الزامات عائد کرتا ہے کہ وہ اس سمندری حدود پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرنے والے ایشیائی ممالک جن میں برونائی، ملائیشیا، فلپائن ، تائیوان  اور ویتنام شامل ہیں کو ڈراتا دھمکاتا اور ان کے تل و گیس کے ذرائع پر دسترس حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم چین ایسے الزامات کی نفی کرتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -