سپانسر کی تلاش پی سی بی کیلئے دردسر بن گیا، انگلینڈ میں موجود قومی سکواڈ کی شرٹس پر بھی کوئی لوگو نہیں ہو گا مگر کیوں؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

سپانسر کی تلاش پی سی بی کیلئے دردسر بن گیا، انگلینڈ میں موجود قومی سکواڈ کی ...
سپانسر کی تلاش پی سی بی کیلئے دردسر بن گیا، انگلینڈ میں موجود قومی سکواڈ کی شرٹس پر بھی کوئی لوگو نہیں ہو گا مگر کیوں؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو پاکستان ٹیم کیلئے سپانسرکی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ معاہدہ ختم ہونے کی وجہ سے انگلینڈ میں موجود کرکٹرز کی شرٹس پر کوئی لوگو موجود نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق انگلینڈ میں موجود پاکستانی کرکٹ ٹیم بغیر سپانسر لوگو کے ٹریننگ کر رہی ہے اور کھلاڑیوں کی شرٹس پر صرف پی سی بی کا نشان موجود ہے جبکہ ہیڈ کوچ مصباح الحق نے جو پرانا سویٹر پہنا اس پر سابقہ سپانسر کے لوگو کو سٹیکر سے چھپا دیا تھا کیونکہ ایک مشروب ساز ادارے کے ساتھ پی سی بی کا معاہدہ حال ہی میں ختم ہوا ہے، لیکن نئی سپانسر شپ کیلئے جو اشتہار جاری کیا گیا اس میں زیادہ کمپنیز نے دلچسپی ہی ظاہر نہیں کی۔

ذرائع نے بتایا کہ ماضی میں جو کمپنی حقوق لے کر آگے فروخت کرتی رہی صرف وہی بڈنگ میں شامل ہوئی، آخری وقت تک ایک دوسرے ادارے کے آنے کا کہا گیا مگر ان کا نمائندہ نہ آیا، بعد میں بتایا گیا کہ ای میل پر بڈ آئے گی، مزید انتظار پر کہا گیا کہ مذکورہ کمپنی کی ٹیکنیکل بڈ ہی قبول نہیں ہو سکی۔

ذرائع نے بتایا کہ واحد پیشکش سابقہ معاہدے کے صرف 30 فیصد رقم کی ہے جس نے بورڈ کو تشویش میں مبتلا کر دیا اور اس وجہ سے فی الحال صرف ایک سالہ معاہدے کا امکان ہے، گو کہ مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کورونا وائرس کو عدم دلچسپی کی وجہ قرار دے رہا ہے مگرحقائق اس کے برعکس لگتے ہیں۔

پی سی بی ڈومیسٹک ٹیموں کیلئے بھی بھرپور کوشش کے باوجود سپانسر شپ حاصل نہیں کر سکا تھا، اس حوالے سے رابطے پر بورڈ کے ترجمان نے متعلقہ شعبے سے معلومات حاصل کر کے مزید تفصیلات دینے کا کہا ہے، ان کے مطابق انگلینڈ سے سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان ٹیم کو نیا سپانسر مل جائے گا۔

واضح رہے کہ لوگو سپانسر شپ سے کھلاڑیوں کو بھی بھاری آمدنی حاصل ہوتی ہے، ٹیسٹ میں ساڑھے 4 لاکھ جبکہ ون ڈے اور ٹی 20میں 2 لاکھ 25 ہزار روپے فی کس دئیے جاتے ہیں۔

مزید :

کھیل -